بچہ نقل کرتا ہے کہ معاشرہ ہی نقلی ہے

بچہ نقل کرتا ہے کہ معاشرہ ہی نقلی ہے
بچہ نقل کرتا ہے کہ معاشرہ ہی نقلی ہے

  


صوبہ سندھ میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات کا سلسلہ جاری ہے۔ امتحان لینے والے تعلیمی بورڈوں نے دوران امتحان نقل کرنے کے رجحان پر قابو پانے کے لئے جو اقدامات کئے ہیں ان میں امتحانی مراکز پر چھاپوں کے لئے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

ان ٹیموں میں شامل افراد مراکز میں داخل ہو کر امتحان دیتے ہوئے بچوں کی جامہ تلاشی لیتے ہیں، بچوں کے پاس سے نقل کرنے والا مواد برآمد کرتے ہیں، بچوں کے پاس موجود موبائل فون لے لئے جاتے ہیں ، بچوں کو کمرہ امتحان سے نکال دیتے ہیں یا پھر ان کی امتحانی کاپی ضبط کر لیتے ہیں۔

بسااوقات بچوں کو پولیس کے سامنے بھی پیش کردیا جاتا ہے۔

یہ بچوں کا امتحان نہیں بلکہ ایک طرح سے اساتذہ، والدین اورپورے معاشرے کا امتحان ہوتا ہے۔ بچہ کیا کرے؟ اس کی تو کوئی سنتا ہی نہیں ہے۔ پورے ملک کے ہر شعبہ میں یکطرفہ ٹریفک چلایا جاتا ہے۔ بچوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

8 ایسا ہی کچھ تعلیمی بوڑد کے حکام کرتے ہیں۔ بچہ امتحان میں ناکام ہوجائے تو والدین کے غیظ و غضب کا شکار ہوتا ہے۔ بورڈ کی چھاپہ مار ٹیمیں بچے کی اس کے ساتھیوں کے سامنے تذلیل کرتی ہیں۔ تعلیمی بورڈ کے حکام کی خام خیالی ہے کہ اس طریقے سے وہ بچوں میں نقل کے رجحان پر قابو پا سکیں گے۔

دفعہ 144کا نفاذ، بعض امتحانی مراکز میں کیمر ے نصب کر کے جائزہ لینے کی کارروائی اور مراکز کے قرب و جوار میں واقع فوٹو اسٹیٹ دوکانوں کو زبردستی بند کرانے کا عمل، اختیار کر کے سمجھا جاتا ہے کہ نقل پر قابو پا لیا جائے گا۔ ایسا ہر گز نہیں ہو سکے گا۔ وقت اور پیسے کا زیاں ہے۔

محکمہ تعلیم کے حکام کے پاس وقت ہی نہیں ہے کہ نقل کرنے کے اسباب کا جائزہ لیں اور اس کا سدباب کریں۔ تعلیمی بورڈ بچوں کو نفسیاتی مریض بنانے کی بجائے امتحانات کی کاپیوں کی چیکنگ اس انداز میں کرائی جائے کہ نقل کرنے والا بچہ امتحان میں پاس ہی نہ ہوسکے۔

تعلیمی بورڈوں کو امتحانی کاپیوں کی سخت جانچ پڑتال کے بعد نتائج دینا چاہئے ۔تعلیمی بورڈ کیوں ایسا نتیجہ دیتے ہیں کہ80 فیصد بچے پاس ہوجائیں۔ کیوں نہیں یہ نتیجہ حقیقت پسندانہ ہو کہ صرف اہل بچے ہی پاس ہوں، دیگر فیل کردئے جائیں۔

اس کے علاوہ تعلیمی بورڈ صرف گریڈ بی تک نمبر حاصل کرنے والوں کو کامیاب قرار دیں، بقایا کو فیل کردیا جائے۔ گریڈ سی، ڈی اور ای میں امیدواروں کو کیوں کامیاب کیا جاتا ہے۔ کیا ایسا صرف اس لئے ہوتا ہے کہ بورڈ اپنی کارکردگی دکھا سکیں اور بچے اپنے پاس سرٹیفیکیٹ ہاتھ میں لے کر اگلی کلاسوں میں داخلوں کے لئے سرگرداں رہیں۔

کوئی بھی شخص یا امیدوار کسی بھی امتحان میں نقل کیوں کرتا ہے؟ اس سوال کا جواب محکمہ تعلیم اور تعلیمی بورڈ کے حکام کو تلاش کرنا چاہئے۔ امتحان میں وہ ہی امیدوار نقل پر تکیہ کرتے ہیں جنہیں ان کے تعلیمی اداروں میں توجہ کے ساتھ تعلیم نہیں دی جاتی ہے۔

جن تعلیمی اداروں میں بچوں کو تعلیم بھر پور انداز میں دی جاتی ہے اور ان پر ان کے اساتذہ محنت کرتے ہیں، نقل کرنے والوں میں ان تعلیمی اداروں کے بچے شامل نہیں ہوتے ہیں۔ حکومت، محکمہ تعلیم یا دیگر متعلقہ محکموں کے حکام میں تعلیم کے معاملے میں دلچسپی کا شدید فقدان ہے، اس کی بظاہر ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حکام کے بچے بہتر غیر سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

سرکاری اسکولوں میں تو وہ ہی لوگ بچوں کو داخل کراتے ہیں جو غیر سرکاری بہتر اسکولوں میں تعلیم دلانے کا خرچہ برداشت نہیں کر پاتے۔ وہ زمانہ اب کہا ں کہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ڈسٹرکٹ جج اور دیگر اہم سرکاری افسران کے بچے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے اساتذہ چوکنا رہتے تھے اور بچوں کی تعلیم میں بھر پور دلچسپی لیا کرتے تھے۔ عمومی رجحان ہے کہ اساتذہ اپنے شاگردوں کی تعلیم پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔

بائیو میٹرک سسٹم کے نفاذ کے بعد اساتذہ میں اب یہ رجحان فروغ پا گیا ہے کہ وقت پر اسکول آتے ہیں، اور اساتذہ آپس میں گپ شپ لگا کر وقت گزار دیتے ہیں۔ انہیں اب صرف اپنی حاضری میں دلچسپی رہتی ہے۔ اساتذہ کو فی زمانہ جو بھاری بھر کم تن خواہیں دی جاری ہیں، اس کا تقاضہ ہے کہ انہیں بچوں کو دلچسپی کے ساتھ تعلیم دینا چاہئے۔

ان کی تربیت کرنا چاہئے اور ان کے ساتھ باہمی گفتگو کو فروغ دینا چاہئے۔ بجائے اس کے کہ بچوں کو نقل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔

جن تعلیمی اداروں کے بچے جن مضامین میں نقل کرتے پائے جائیں ان کے اساتذہ کے خلاف انضباطی اور تادیبی کارروائی کیوں نہیں ہونا چاہئے۔

ایسے اساتذہ کی سالانہ انکریمنٹ اور ترقی روک دینا چاہئے ۔ ایسے اساتذہ کو قید کی سزا دینے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کی جانی چاہئے۔ ایسے اساتذہ کی وجہ سے ہی نسلیں تباہ ہو گئی ہیں، حکومت اور گھر والوں کی بچوں کی خواندگی کی کوشش کے باوجود انہیں ناخواندہ رکھ دیا گیا ہے۔ بچوں کی قابلیت اور اہلیت کی بات کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔

نویں جماعت کے ایک طالب علم سے میں نے کہا کہ لفظ بالٹی لکھو، وہ نہیں لکھ سکا۔ بچوں کو اپنا نام لکھنا نہیں آتا ہے، ان کی املا کمزور ہوتی ہے، ان کی تحریر ناقص ہوتی ہے۔ ان میں اعتماد کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں تعلیم کا جائزہ لینے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی ایک خاتون نے شکایت کی کہ اساتذہ بچوں کو کچھ پڑھا ہی نہیں رہے ہیں۔

یہ تو ایک ایسی کھیپ تیار کر رہے ہیں جو اپنا پیٹ پالنے کے لئے جرائم کے علاوہ کچھ اور نہیں کر سکے گی۔ الف اعلان نامی غیر سرکاری تنظیم کی ایک رپورٹ میں صوبہ سندھ کی تعلیمی صورت حال کا بھیانک نقشہ کھینچا گیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی رپورٹ سرکار کے تعاون سے تیار کی ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والے کہتے ہیں کہ سندھ کی صورت حال تو صوبہ بلوچستان سے بھی گئی گزری ہے۔

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اپنی تقرری کے بعد کہا تھا کہ تعلیمی نظام کو بہتر کرنا ان کی پہلی ترجیح ہوگی۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ ان کی ترجیحات ہی تبدیل ہو گئی ہیں۔ ان کا یہ اعلان صرف اعلان ہی تھا۔ اس تماش گاہ میں اگر تعلیم کو بہتر کرنا ہے تو نتیجہ خیز با مقصد اقدامات کرنا ہوں گے وگر نہ یہ دکھاوے کے اقدامات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور پچھتاوہ ہی رہے گا ۔

تعلیمی بورڈوں کے تمام اقدامات جسے صرف دکھاوا سمجھا جاتا ہے، کے باوجود، اگلے سال بھی امتحانات میں شریک ہونے والے بچے اسی طرح نقل کرتے پائے جائیں گے جیسا اس سال ہورہا ہے یا ماضی میں ہوتا رہا ہے ۔ پہلے بچے کی بامعنی تعلیم کا اہتمام کیا جائے پھر ان کا امتحان لیا جائے۔

ایک تجویز اور

بھی ہے کہ جن مضامین میں بچے کا امتحان لیا جاتا ہے، ان کے اساتذہ سے بھی وہ ہی امتحانی پرچہ حل کرانا چاہئے تاکہ یہ بات سامنے آسکے کہ استاد نے اپنا مضمون بچے کو پڑھایا بھی تھا یا نہیں۔ نقل کرنے والے کسی بچے کی ناکامی نہیں ہے بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔

اگر حکومت تعلیمی نظام پر توجہ نہیں دے سکتی تو ظاہر ہے کہ وہ قوم کا پیسہ دریا برد کر رہی ہے اور غلاموں کی قوم پیدا کی جارہی ہے جن پر بہتر اسکولوں میں بہتر تعلیم ، تربیت اور اعتماد حاصل کرنے والے بچے ہی حکمرانی کریں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...