کپتان کے گیارہ نکات: دیگر جماعتیں بھی اپنا ایجنڈا سامنے لائیں

کپتان کے گیارہ نکات: دیگر جماعتیں بھی اپنا ایجنڈا سامنے لائیں
کپتان کے گیارہ نکات: دیگر جماعتیں بھی اپنا ایجنڈا سامنے لائیں

  


اتفاق سے 29اپریل کو میں لاہور ہی میں تھا، جب تحریک انصاف مینار پاکستان پر جلسہ کررہی تھی، اُسی روز صبح میں ملتان سے لاہور کے لئے روانہ ہوا۔ اس سفر کی غرض و غائیت جلسے میں شرکت نہیں، بلکہ جناب مجیب الرحمن شامی کے بیٹے عثمان مجیب شامی کے ولیمے میں شرکت تھی۔

پتوکی کے قریب پہنچ کر ہماری گاڑی بری طرح ٹریفک جام میں پھنس گئی، پی ٹی آئی کے لاہور جانے والے قافلوں کا رش اور پھر سڑک پر کھڑے کارکنوں کی وجہ سے گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئیں۔

مجھے یوں لگا جیسے میرا وہ خدشہ درست ثابت ہونے جارہا ہے، جو میں نے لاہور روانگی سے پہلے ظاہر کیا تھا کہ آج فلیٹز ہوٹل لاہور تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا، جہاں تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے، تاہم ایک گھنٹہ ٹریفک میں رینگنے کے بعد بالآخر راستہ کھلا اور ہم لاہور کی طرف رواں دواں ہوگئے۔ راستے میں جگہ جگہ تحریک انصاف کے پینا فلیکس، پرچموں سے سجی گاڑیاں اور کارکن سڑک کنارے جلسے میں جانے کے لئے تیار کھڑے نظر آئے۔

بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی جماعت بن گئی ہے، جسے عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی بھی حاصل ہے۔ پنجاب میں اس وقت مقابلہ بالکل نمایاں ہوچکا ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہی اب آمنے سامنے ہوں گی۔ ساہیوال سے گزرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے بڑے بڑے ہورڈنگر اور بینرز بھی نظر آئے جو یکم مئی کو ساہیوال میں ہونے والے جلسے سے متعلق تھے، جس میں خطاب کرنے کے لئے نواز شریف اور مریم نواز ساہیوال آرہے ہیں۔

یقیناً یہ جلسہ بھی ایک بڑا عوامی شوہوگا، خاص طور پر لاہور میں بہت بڑے جلسے نے تحریک انصاف کی جو عوامی دھاک بٹھائی ہے، اس کے رد عمل میں مسلم لیگ (ن) کے حامی اور کارکن ضرور گھروں سے نکلیں گے۔

لاہور میں داخل ہوئے تو پھر ٹریفک جام ملی، تاہم جلد ہی راستہ کھل گیا، لاہور میں پارٹی جھنڈوں، پینافلیکس اور بڑے بینرز دیکھ کر میں نے اپنے ساتھ آنے والے خواجہ اقبال سے کہا کہ تحریک انصاف کو اب پیسے کی کمی نہیں رہی۔

متوقع امیدواروں کی طرف سے کھل کر سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ بلا مبالغہ لاہور کے جلسے پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے ہیں، جو 2013ء کے انتخابات میں نہیں کئے گئے تھے، شاید خرچ کرنے والے اتنی بڑی تعداد میں موجود نہیں تھے۔

مینار پاکستان پر ہونے والے جلسے میں کپتان نے اپنا گیارہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔ پہلی بار انہوں نے الزاماتی خطاب کی بجائے ایک مقصدی خطاب کیا، اُن کا اندازاور لہجہ بھی بدلا ہوا نظر آیا۔

سنجیدہ لوگوں کی رائے بھی اُن کے بارے میں مثبت ہوئی، انہوں نے پھر اپنے کرکٹر ہونے کا حوالہ دیا اور کہا کہ کھلاڑی کبھی نہیں ہارتا۔ گیارہ نکات بھی غالباً انہوں نے اسی لئے رکھے کہ کرکٹ ٹیم کے بھی گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں۔

انہوں نے لاہور کے جلسے میں گویا اپنی جماعت کا انتخابی منشور پیش کردیا ہے۔ میں دیکھ رہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اس بات کو ثابت کرنے میں الجھے ہوئے ہیں کہ لاہور کے جلسے میں کرسیاں بڑے فاصلے پر لگائی گئیں، لوگ بہت کم تھے، جنہیں رات کی روشنی میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ زعیم قادری جیسے حکومت پنجاب کے ترجمان نے تو یہ تک کہہ دیا کہ لاہور میں پچاس ساٹھ ہزار افراد تو روزانہ صرف سیر کرنے آتے ہیں، اس لئے تحریک انصاف کا جلسہ کوئی بڑا سونامی نہیں تھا، بس معمول کا ایک جلسہ تھا۔ ان باتوں سے کیا حاصل ہوسکتا ہے؟ براہ راست دکھانے والے میڈیا کی موجودگی میں ایسی تجزیہ کاری بھلا کیا اثر دکھاسکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اب مسلم لیگی قیادت کو اپنا بیانیہ تبدیل کرنا پڑے گا۔

عمران خان کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ صرف یہ کہہ دینے سے بات نہیں بنے گی کہ عمران خان دھرنا خان ہے یا جھوٹوں کا آئی جی ہے۔ کپتان کی مقبولیت بہت بڑھ گئی ہے اور اب اس نے گیارہ نکات پیش کرکے اپنی سمت بھی واضح کر دی ہے۔

یہ بات فی الوقت اہم نہیں کہ عمران خان اپنے ان نکات پر عمل کر پاتے ہیں یا نہیں، اصل نکتہ یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے مسائل کا حل بتا دیا ہے۔ ان امراض کی نشاندہی کر دی ہے، جو قوم کو لاحق ہیں اور اسے آگے نہیں بڑھنے دیتے۔

مسلم لیگ(ن) جتنے بھی دعوے کرے حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت ایک نازک صورت حال سے گزر رہا ہے۔ بے شمار چیلنج درپیش ہیں۔ ایسے بھی ہیں جنہوں نے قومی سلامتی کے لئے خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔

آج کی مسلم لیگ(ن) فی الوقت ایک نکتے میں الجھ کر رہ گئی ہے کہ نوازشریف کی نااہلیت کو کیسے ختم کرانا ہے۔ پاکستان میں عدلیہ پر حملے کرکے مسائل کو بڑھایا تو جا سکتا ہے، کم نہیں کیا جا سکتا۔ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ والی تھیوری کو قومی اداروں کے ساتھ لڑائی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، اس طرح تو ہم مزید مسائل کی دلدل میں دھنس جائیں گے۔

کپتان کے گیارہ نکات دیکھ کر یہ احساس جنم لیتا ہے کہ تحریک انصاف میں بھی اب ایک تھنک ٹینک موجود ہے جو بڑھک بازی کی بجائے سنجیدہ معاملات پر توجہ دے رہا ہے۔ گیارہ نکاتی ایجنڈا کوئی نیا نہیں ہے، تاہم جس طرح ایک نظریے کے طور پر عمران خان نے اسے پیش کیا ہے، وہ بڑی اہم بات ہے۔

ان میں سے ہر نکتہ ہمارے مسائل کی بنیاد بنا ہوا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ سارے نکات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، کوئی نکتہ بھی دوسرے نکات سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ کرپشن کا خاتمہ، ٹیکسوں کے نظام کی اصلاح، پولیس کی بہتری، نظامِ تعلیم میں اصلاحات، سرمایہ کاری میں اضافہ، خواتین کے حقوق کی ضمانت، روزگار کے مواقع میں اضافہ، زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لئے ایمرجنسی کا نفاذ، صحت کی بنیادی سہولتوں کو یقینی بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور وفاق کی مضبوطی و استحکام، ان میں سے کوئی نکتہ بھی ایسا نہیں، جس پر پہلے بھی سیاسی جماعتوں نے زور نہ دیا ہو، اسے یقینی بنانے کا وعدہ نہ کیا ہو، تاہم اب ایک نئے جذبے کے ساتھ عمران خان نے ان نکات کو پیش کرکے پہل کر دی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نکات پیش کرنے کو تو کر دیئے جاتے ہیں، لیکن جب عملدرآمد کی باری آتی ہے تو معاملہ صفر ہو جاتا ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ بنیاد کو صحیح کرنے کی بجائے ثمرات کے دعوے کئے جاتے ہیں۔ مثلاً لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن جو اربوں روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔

لائن لاسز محکمے کی کمرتوڑ دیتے ہیں، اس پر قابو نہیں پاتے۔ ظاہر ہے، یہ کام بھی ہو سکتا ہے، جب کرپشن کو ختم کیا جائے اور کرپشن اسی صورت میں ختم ہو سکتی ہے، جب آپ احتساب کا ایک بے لاگ اور کڑا نظام نافذ کریں۔ پچھلے دس سال سول جمہوری حکومتیں رہیں، مگر انہوں نے احتساب کا نظام بہتر بنانے کی کوششیں نہیں کیں، نہ ہی اس ضمن میں کوئی قانون سازی کی گئی۔ اُلٹا جو احتساب کا لولا لنگڑا نظام رائج ہے، اسے بھی تنقید کا نشانہ بنانے پر توجہ دی جاتی رہی۔ اسی طرح ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے دعوے تو ہر حکمران نے کئے ،لیکن پولیس کی اصلاح نہیں کی، اسے 1861ء کے انگریزی پولیس ایکٹ کے تحت چلایا جاتا رہا۔

پھر اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا، اس میں بھرتی کے نظام کو شفاف نہ رہنے دیا۔ جب ہم پولیس کے ادارے کو بھی تباہ کر دیں گے تو ملک میں امن و امان کی صورت حال کیسے بہتر ہو سکے گی۔

نظام انصاف کا بہت تذکرہ ہوتا ہے اور سار ی بات عدالتوں پر ڈال دی جاتی ہے، حالانکہ سابق آئی جی اور مرحوم دانشور سردار محمد چودھری کہا کرتے تھے کہ پولیس نظام انصاف کی پہلی سیڑھی ہے، جب تک اس سیڑھی کو مضبوط نہیں بنایا جاتا، انصاف نہیں ہوسکتا۔ خیبرپختونخوا میں اس حوالے سے کچھ کام ہوا ہے، جس کے اثرات سب کے سامنے ہیں۔

ٹیکس سسٹم کی اصلاح، سرمایہ کاری میں اضافہ اور بے روزگاری کا خاتمہ۔ یہ تینوں نکات دراصل ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں، اگر ٹیکس سسٹم میں اصلاح ہو جائے ، اس میں سے کرپشن کا خاتمہ کر دیا جائے تو یقیناًسرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔

اس وقت تو ہمارا ٹیکس سسٹم سرمایہ داروں کی حوصلہ شکنی کرکے انہیں بھگا دیتا ہے۔ ایف بی آر کا محکمہ سفید ہاتھی بن چکا ہے، وہ اتنا ریونیو اکٹھا نہیں کرتا، جتنا کرپشن کی وجہ سے خرد برد ہو جاتا ہے۔

عمران خان نے اس حوالے سے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں ایک سیل قائم کیا جائے گا، جو ہروقت سرمایہ داروں کے مسائل سننے اور انہیں حل کرنے پر مامور ہوگا۔

یہ ایک اچھا آئیڈیا ہے، کیونکہ براہ راست ملک کے چیف ایگزیکٹو تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے خاص طور پر بیرون ملک سے آنے والے سرمایہ کاروں کو اس حد تک بددل اور خوفزدہ کر دیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں سرمایہ نہ لگانے ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔

زرعی شعبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا نکتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والے اس شعبے کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ جس ملک کی شناخت ہی زراعت ہو اور جس کی معیشت ہی زرعی شعبے پر کھڑی ہو، وہاں اگر کسان دوست پالیسیاں نہ بنائی جائیں تو ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے۔سب نے دیکھا ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی پانچ سالہ حکومت میں زرعی شعبہ محرومی کا شکار رہا، کسان مسلسل احتجاج کرتے رہے۔

نہ انہیں فصلوں کا معاوضہ صحیح ملا اور نہ ہی پانی، بجلی اور کھاد پر مراعات دی گئیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارا زرعی شعبہ بیٹھ گیا، جس سے معیشت بھی بیٹھ گئی۔ زرعی شعبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی اصطلاح بالکل درست استعمال کی گئی ہے، اسے بڑے اقدامات کی ضرورت ہے، یہ بحال ہوگیا تو سمجھو معیشت بحال ہو گئی۔

بے روزگاری کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے، اس کے خاتمے کی باتیں تو ہمیشہ کی جاتی رہی ہیں، مگر یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب تک معیشت بہتر نہیں ہوگی۔ روزگار کے مواقع نہیں بڑھ سکتے۔ ایک طرف صنعتی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ اور دوسری طرف زرعی شعبے کی بحالی دو ایسے پہلو ہیں، جو اس مسئلے کا دیرپا حل ثابت ہو سکتے ہیں۔

کپتان نے ایک بڑے جلسے میں ملک کو درپیش مسائل کے پس منظر میں گیارہ نکات پیش کرکے دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی یہ ترغیب دی ہے کہ وہ پاکستان کے حقیقی مسائل کی طرف آئیں اور ان کا حل پیش کریں۔

عمران خان کو بھی چاہیے کہ اب وہ الزاماتی سیاست کا باب بند کرکے اپنی پوری توجہ عوام کے اندر یہ شعور بیدار کرنے پر صرف کریں کہ جب تک وہ ایسے نمائندے منتخب نہیں کرتے، جو ملک کے نظام میں بنیادی اصلاحات کے حامی ہوں، اس وقت تک کوئی بڑی تبدیلی نہیں آ سکتی۔

عمران خان ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم تبدیلی لائیں گے، مگر وہ کوئی لائحہ عمل پیش نہیں کر سکے تھے، لاہور کے جلسے میں اپنے گیارہ نکات کے ذریعے وہ لائحہ عمل پیش کر دیا گیا ہے۔

امید ہے اب سیاست ان نکات پر آگے بڑھے گی اور بحث اس نکتے پر چلے گی کہ کون ملک میں بنیادی اور سٹرکچرل تبدیلی لانا چاہتا ہے، تاکہ ملک کولہو کا بیل نہ بنا رہے، بلکہ آگے بڑھے اور واقعتاً ایک فلاحی، جمہوری اور ترقی یافتہ پاکستان بن جائے۔

مزید : رائے /کالم


loading...