یہ اوپر والے کون ہیں؟

یہ اوپر والے کون ہیں؟
یہ اوپر والے کون ہیں؟

  


کچھ پاکستانیوں کو بھی شاید اب آہستہ آہستہ یہ گمان ہورہا ہے کہ ’’اوپر والے‘‘ کون ہیں اور ان کو یہ لقب کیوں دیا جاتا ہے۔ بعض’’ستم رسیدہ‘‘ گروپوں اور پارٹیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ’اوپر والے‘ افواجِ پاکستان کا صفاتی نام ہے۔

یہ چپکے چپکے کبھی صوبائی حکومتوں کا تختہ الٹ دیتے ہیں اور کبھی ایوانِ بالا کی قلابازیاں انجینئر کرتے ہیں۔ان کا دوسرا گمان یہ بھی ہے کہ کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ کوئی نیچے والا اتنا اوپر آ جائے گا کہ اصلی اور وڈے سیاسی جغادری حیران رہ جائیں گے۔

ان کو بظاہر یقین تھا کہ وہ سینیٹ کی بازی جیت جائیں گے اور پھر جب جی چاہے گا اوپر والوں کو نیچے گرانے کی سبیل کرنا ان کے لئے آسان ہوجائے گا۔ لیکن ان جغادریوں کا کہنا اب یہ ہے کہ قربان جایئے افواج پاکستان کی حیلہ سازیوں کے کہ انہوں نے سنجرانی صاحب کو اوپر لا کر ہم سب کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی۔ یہ عجیب کایا پلٹ تھی۔۔۔۔ کسی پرانے گیت کے بول حافظے کی چلمن سے جھانک رہے ہیں:

نظر ملی بھی نہ تھی اور ان کو دیکھ لیا

زباں کھلی بھی نہ تھی اور بات بھی کرلی

اگر آپ احوالِ عالم پر کچھ نظر رکھتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ’اوپر والے‘ صرف وردی پوش ہی نہیں ہوتے بلکہ وہ سویلین معاشرے کے تمام طبقات میں پائے جاتے ہیں۔ اپنے گھروں کی سربراہی سے لے کر دنیا کی واحد سپریم پاور تک یہ ’اوپر والے‘ کسی نہ کسی روپ میں ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں۔

ان کا سائز چھوٹا بڑا ہوتا ہے لیکن ان کی چالبازیاں، ہوشیاریاں اور عیاریاں تقریباً ایک ہی جنس (Genre) سے تعلق رکھتی ہیں۔

بعض حضرات ان کو شر اور خیر کی قوتیں قرار دیتے ہیں لیکن خیر اور شر کی تفسیریں اور تاویلیں ان کی اپنی اپنی ہوتی ہیں۔ جو چیز ایک فریق کے لئے خیر ہے وہ دوسرے کے لئے شر ہو سکتی ہے۔

لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرناہوگا کہ یہ سب اللہ کے کھیل تماشے ہیں۔ وہ ایک خاص مدت تک کسی کو سب سے اوپر لے آتا ہے اور پھر اس کو پاتال میں بھی پھینک دیتا ہے۔۔۔ یعنی وہی سب سے بڑا ’’اوپر والا‘‘ ہے:

سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے

حکمراں ہے اک وہی، باقی بتانِ آذری

وہ ’’اوپر والا‘‘ کیوں ایسا کرتا ہے اس کی تفصیل وہ کئی بار صدیوں پر پھیلی اپنی مخلوق کی بدحالی یا خوشحالی کی صورت میں اپنی کتابوں میں بتا چکا ہے۔ لیکن انسان ایسا ’’ظلوماً جہولا‘‘ ہے کہ مان کر نہیں دیتا!

غور فرمایئے کہ کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ شمالی کوریا اور امریکہ کا آپس میں اینٹ کتے کا بیر تھا۔ پہلے تو موخر الذکر نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور خیال کئے رکھا کہ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا، یہ اینٹ میرا کیا بگاڑ لے گی۔ لیکن جب اینت کو قوتِ پرواز مل گئی اور اس کا ہدف غنیم کا گھر قرار پایا تو پھر اس غنیم کو ہوش آیا۔

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ امریکی صدر، شمالی کورین لیڈر کو دھمکیوں پر دھمکیاں دیتا رہا کہ اپنا بندوبست کرلو وگرنہ تمہیں صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ لیکن جب شمالی کورین صدر کِم نے وقفے وقفے سے چھ جوہری دھماکے کر دیئے اور ساتھ ہی اپنے بین البراعظمی میزائلوں کے چہروں سے بھی نقاب الٹ دی تو پھر امریکہ کو ہوش آیا کہ وہ اس دنیائے دنی میں تنہا اوپر والانہیں بلکہ ایک اوپر والا اوربھی ہے تو پھر یہ جان کر اس زمین کے اوپر والے نے تلوار پھینک دی اور سفید جھنڈی لہرا دی!

شمالی کوریا کے دھماکوں کے بعد امریکہ بہادر نے اپنی پراکسی یعنی جنوبی کوریا کے صدر مسٹر مون (Moon) کو ٹاسک دیا کہ اس صورتِ حال کو سنبھالے۔ لیکن وہ بیچارا تو بڑے عرصے سے چیخ رہا تھا کہ اگر کِم جونگ کو چھیڑا گیا تو اس کا سب سے پہلا نشانہ امریکہ نہیں، جنوبی کوریا ہوگا۔

امریکہ نے نہ صرف جنوبی کوریا میں اپنے ہزاروں ٹروپس صف بند کر رکھے ہیں بلکہ ساتھ میں نیو کلیئر وارہیڈز کی ایک خاصی تعداد بھی دارالحکومت سیول کے آس پاس اور انچن بندرگاہ کے نواح میں خفیہ گودام گھروں میں رکھی ہوئی ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔ علاوہ ازیں گوام اور ہوائی کے جزائر میں بھی اس کا خاصا بڑا جوہری اسلحہ و بارود گھر موجود ہے جو بوقت ضرورت شمالی کوریا، چین اور روس کے ’’کام‘‘ آئے گا۔

لیکن اب دنیا کی اس سپریم پاور کو یہ بھی معلو ہو چکا ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی بڑی جنگ آغاز ہوئی تو اس کا نتیجہ قیامت کی صورت میں ہی نکلے گا۔ اس باہمی خودکشی سے بچنے کے لئے امریکہ نے برسوں کی دشمنی کے بعد اب شمالی اور جنوبی کوریا کے صدور کی ملاقات کروا دی ہے جس میں شمالی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے کو تیار ہے بشرطیکہ شمالی اور جنوبی کوریا مل کر ایک ہوجائیں جیسا کہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے تھے۔

زمین کے اس ’’اوپر والے‘‘ امریکہ نے اب یہ افواہ بھی چھوڑی ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ری ایکٹروں کو اس لئے تباہ کرنے کو تیار ہے کیونکہ اس کی طرف سے ہائیڈروجن بم کا جو آخری تجربہ کیا گیا تھا اس میں ’’پنج ری‘‘ کے مقام پر بنائی گئی جوہری سرنگ بیٹھ گئی تھی!۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کو بتایا جائے کہ شمالی کوریا اس لئے اپنا جوہری پروگرام ترک نہیں کر رہا کہ اس نے دنیا کو کسی نہ کسی طرح کا کوئی امن کا پیغام دینا ہے بلکہ یہ اس لئے ہو رہا ہے کہ شمالی کوریا کی جوہری تجربہ گاہ ہی مسمار (Cave-in)ہو گئی ہے۔۔۔ میں اس سرنگ کی تاریخ میں جا کر قارئین کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا کہ وہ سرنگ کیا ہے، اس کا طول و عرض کیا ہے، اگر اس کا کوئی حصہ گر بھی گیا ہے تو اس میں کتنا جھوٹ ہے اور کتنا سچ ہے اور اس سرنگ کا دوسرا دروازہ جو اس قسم کی سرنگوں میں ہوتا ہے، اس کی صورتِ حال کیا ہے۔۔۔ لیکن شمالی کورین حکام نے اب یہ دعویٰ بھی کر دیا ہے کہ بین الاقوامی جوہری ایجنسی کے حکام خود آکر چیک کر لیں کہ آیا وہ سرنگ آج بھی کارآمد ہے یا بیٹھ چکی ہے اور یہ تسلی بھی کر لیں کہ شمالی کوریا جوہری پروگرام ترک کرنے کی وہ ساری شرائط پوری بھی کرتا ہے یا نہیں جو بین الاقوامی معیاروں کو سامنے رکھ کر بنائی اور ترتیب دی گئی ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ شمالی کوریا کی پشت پر چین ہے اور چین کے ہمسائے میں روس ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان ممالک پر بھی جوہری پروگرام کی اس بندش کا کچھ اثر پڑے گا یا نہیں؟۔۔۔ ایک اور مسئلہ یہ بھی ہو گا کہ کیا کمِ جونگ اپنے جوہری اثاثے تلف کرکے گوام اور جنوبی کوریا کی جوہری تنصیبات کو بھی تلف کروانے کا منظر دیکھ سکے گا یا نہیں۔۔۔ اور کیا اس کے اثرات نیچے جنوب میں انڈیا تک بھی جائیں گے یا نہیں؟ دیکھاجائے تو شمالی کوریا اور جنوبی کوریا اگرچہ آج دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے خطرناک نیو کلیئر فلیش پوائنٹ ہیں لیکن ایسا ہی ایک اور فلیش پوائنٹ پاک بھارت جوہری پروگرام بھی ہے۔ ۔۔۔ توکیا کوریا کے بعد برصغیر کے یہ دونوں ممالک ترکِ جوہری اسلحہ پر راضی ہو جائیں گے یا نہیں؟

میرا خیال ہے کہ جب تک دنیا کے بڑے بڑے جوہری مگرمچھ عالمی سمندروں میں زندہ رہیں گے تب تک دنیا باہمی خودکشی کے دہانے پر ہی بیٹھی رہے گی۔ اگر کل کلاں دونوں کوریاؤں میں ترکِ جوہری اسلحہ کا کوئی معاہدہ ہو جاتا ہے تو وہ ایک لمٹس پیپر ہوگا جو یہ بتائے گا کہ آنے والے برسوں میں اس معاہدے کے اثرات کیا ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے کل ہی جاپان کے وزیراعظم کو فون کرکے بتایا ہے کہ وہ خود شمالی کوریا کے صدر سے ملاقات کے لئے تیار ہیں اور یہ ملاقات منگولیا یا سنگاپور ہی میں ہو سکتی ہے اور کہیں نہیں۔

دوسری طرف ایک اور انہونی یہ بھی ہو رہی ہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے فوجی دستے چار پانچ ماہ بعد ستمبر 2018ء میں روسی علاقے میں ہونے والی ایک جنگی مشق میں حصہ لے رہے ہیں۔

یہ مشترکہ مشقیں شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن (SCO) کے آٹھ ممالک کے درمیان ہو رہی ہیں جن کا کوڈ نام’’Peace Mission ‘‘ہو گا اور یہ روس کے کوہ یورال کے علاقے میں ہوں گی۔

یہ علاقہ افغانستان کے بیشتر شمالی علاقوں اور پاکستان کے فاٹا کے سے ملتا جلتا علاقہ ہے جہاں انڈیا اور پاکستان کے فوجی دستے باہم مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگی کارروائیاں کرنے کی مشقیں کریں گے۔

ویسے تو پاکستان اور بھارت کی افواج اقوام متحدہ کے زیر کنٹرول کئی ممالک میں قیامِ امن کے مشنوں میں سالہا سال سے شریک ہوتی رہی ہیں لیکن جہاں تک کسی ایک مشن کے لئے مختلف افواج (اور بطور خاص پاک بھارت افواج) کا باہم مل کر آپریٹ کرنے کا سوال ہے تو یہ ایک بالکل جداگانہ اور مختلف معاملہ ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب لائن آف کنٹرول پر آئے روز فائرنگ ہوتی رہتی ہے اور فریقین کے فوجی اور سویلین لوگ مارے جاتے اور زخمی ہوجاتے ہیں تو ایسی صورتِ حال میں دو دشمن افواج کا آپس میں کسی ایک آپریشن میں اشتراکِ عمل اور اس کی SOPs وغیرہ واقعی ایک بڑا بریک تھرو ہوگا۔۔۔ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس بریک تھرو کو جس ’اوپر والے‘ نے بروئے عمل لانے کا حکم دیا ہے وہ کون ہے؟۔۔۔ کیا وہ پاکستان اور انڈیا کی سویلین قیادت ہے؟۔۔۔ کیا دنیا کی بڑی طاقتوں کی طرف سے یہ احکامات آ رہے ہیں جنہیں بجا لانے کے لئے جنم جنم کے یہ دشمن سرِ تسلیم خم کر رہے ہیں؟

میرے خیال میں روئے زمین پر کوئی اوپر والا نہیں ہوتا۔صرف خدا کی ذات ہی زمین و آسمان میں اوپر والی ہوتی ہے۔

اور اس ’’اوپر والے‘‘ کو تو اور کئی کام بھی ہوتے ہیں جن کا سکوپ اور حجم انسانی عقل و شعور سے ماورا ہے۔ اگر کوئی اس ’اوپر والے‘ کی طرف اشارہ کر رہا ہے تو وہ ایک عالمگیر صداقت ہے کہ صبح کے بعد دوپہر، پھر شام، پھر رات اور پھر صبح قوانینِ فطرت ہیں۔

یہ سب ’اوپر والے‘ کے احکام کے تابع ہیں۔ ایام اور اقوام کا یہی ایجنڈا ہے جو ’اوپر والے‘‘ نے ہم نیچے والوں پر لاگو کر رکھا ہے۔ لیکن اگر کوئی اس اصطلاح کو کسی اور معانی میں استعمال کرتا ہے تو یہ اس کی تنگ دامانی ء فہم و ادراک کا قصور ہے!

مزید : رائے /کالم


loading...