کابل قندھار ، خودکش حملہ، بم دھماکوں میں صحافیوں ، طالبعلموں سمیت 50افراد جاں بحق ، 110زخمی ، پاکستان کی مذمت

کابل قندھار ، خودکش حملہ، بم دھماکوں میں صحافیوں ، طالبعلموں سمیت 50افراد جاں ...

کابل(آن لائن ،این این آئی)افغانستان کے دارالحکومت کابل اور صوبہ قندھار کے ضلع دامان میں تین بم دھماکوں میں طالبعلموں اور صحافیوں سمیت 49 افراد جاں بحق اور110 زخمی ہوگئے۔دریں اثناء افغان صوبے ننگرہار میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے بحسود ضلع کے کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ جاں بحق جبکہ ضلع کے ڈپٹی گورنر اور دیگر 3 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔۔افغان میڈیا کی رپورٹ مطابق صوبے قندھار میں خودکش حملہ آور نے غیر ملکی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 20شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔مقامی حکام کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور نے صوبے کے ضلع دامان میں خود کو غیر ملکی سیکیورٹی فورسز کے قافلے کے قریب دھماکے سے اڑا دیا۔رپورٹ کے مطابق اس حملے میں دامان میں واقع ایک مدرسے کے 11 طالب علم کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔تاہم اس حملے سے متعلق ابھی کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔دوسری جانب افغان دارالحکومت کابل میں 2 بم دھماکوں میں متعدد صحافیوں سمیت 29 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیر کی صبح افغان دارالحکومت کے علاقے ششدرک میں دھماکوں کی آواز سنی گئی۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق پہلے دھماکے میں خودکش حملہ آور نے افغانستان کی خفیہ ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی (این ڈی ایس) کے دفتر کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق اس دھماکے کے 20 منٹ بعد دوسرا دھماکا ہوا، جس میں موقع پر موجود ریسکیو اہلکاروں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس حوالے سے افغان وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان دونوں حملوں میں کم از کم 29 افراد کے ہلاک اور 45 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ ان اموات میں اضافے کا امکان ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہلاک افراد میں ان کا فوٹو گرافر شاہ مرائی بھی شامل ہے جو دھماکوں کے وقت موقع پر موجود تھا۔اس کے علاوہ مقامی نشریاتی ادارے طلوع نیوز کے مطابق اس واقعے میں دیگر دو صحافی بھی زخمی ہوئے ہیں۔تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ دوسرا دھماکا بھی خودکش تھا یا نہیں لیکن ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند گروپ داعش نے قبول کی ہے۔دریں اثنا افغان صوبے ننگرہار میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے بحسود ضلع کے کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہلاک جبکہ ضلع کے ڈپٹی گورنر اور دیگر 3 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حادثہ صبح 7 بجکر 45 منٹ پر اس وقت ہوا جب ضلع گورنر کے کمپانڈ کے قریب گاڑی دھماکا خیز مواد سے ٹکرا گئی۔صوبائی گورنر آیت اللہ کے ترجمان نے دھماکے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی بھی ہوئے تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں تاہم ابھی تک طالبان سمیت کسی گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔پاکستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام غم کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ ہے، یقین ہے دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے بہادر افغان عوام کے عزم کو بزدلانہ حملوں سے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان قیمتی جانوں کے ضیاع پر غمزدہ ہے، ہم سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جن کے عزیز و اقارب ان حملوں میں جاں بحق ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام غم کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ ہے، ہمیں یقین ہے کہ دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے بہادر افغان عوام کے عزم کو ایسے بزدلانہ حملوں سے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت اور اس لعنت کے خاتمہ تک اس سے لڑنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

کابل دھماکے

مزید : صفحہ اول


loading...