ضرورت پڑی تو ایران کیخلاف فوجی طاقت بھی استعمال کی جائے گی : ٹرمپ

ضرورت پڑی تو ایران کیخلاف فوجی طاقت بھی استعمال کی جائے گی : ٹرمپ

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) امریکہ نے بہت واضح الفاظ میں ایران کو یہ پیغام دیا ہے کہ اس کیساتھ جو جوہری سمجھوتہ ہوا تھا وہ قائم رہتا ہے یا منسوخ ہو جاتا ہے، لیکن اسے کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے نہیں دیں گے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے دورے پر آئی ہوئی جرمن چانسلراینجلا مرکل کیساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد ان کی موجودگی میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو یہ وارننگ دی ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت کے استعمال سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ 2015ء میں ایران کیساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کرنیوالے دیگر یورپی ممالک میں جرمنی بھی شامل ہے جس کا سرکاری نام ’’مشترکہ جامع لائحہ عمل‘‘ ہے۔ صدر ٹرمپ سے سوال پوچھا گیا تھا اگر یہ معاہدہ ترک ہو جاتا ہے یا ایران دوبارہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری شروع کرلیتا ہے تو ایسی صورت میں امریکہ کیا اقدام کرے گا؟ صدر ٹرمپ نے صاف لفظوں میں کہا ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کا موقع نہیں دیا جائے گا ور اگر ضرورت پڑی تو فوجی طاقت استعمال کرکے اسے ایسا کرنے سے روکا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے معاہدے کی دستاویز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا یہ آئیڈیل نہیں ہے جو ایران کو پوری طرح پابند نہیں کرتی۔ تاہم اس کے ذریعے ایران کو برے عزائم سے کافی حد تک دور رکھا گیا ہے۔ اس موقع پر جرمنی کی چانسلرنے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا جرمنی کا اس معاہدے کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ قریبی رابطہ جاری ہے، جس کے بارے میں جلد حتمی فیصلہ ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ اس معاہدے کو ’’بدترین‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کو ہر تین ماہ بعد کانگریس سے اس کی تصدیق کراناپڑتی ہے، جس کی اگلی ڈیڈ لائن 12 مئی ہے۔ اس معاہدے پر امریکہ اور جرمنی کے علاوہ چین، فرانس، روس، برطانیہ اور یورپی یونین نے دستخط کئے تھے۔

ٹرمپ

مزید : صفحہ اول


loading...