پنجاب اسمبلی میں مئی کو صوبائی حکومت کی گندم پالیسی پر بحث ہو گی ، گنی کے کین کمشنر او ر فوڈ منسٹر بھی ایوان میں طلب

پنجاب اسمبلی میں مئی کو صوبائی حکومت کی گندم پالیسی پر بحث ہو گی ، گنی کے کین ...

لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کا اجلاس حسب معمول اپنے مقررہ وقت کی بجائے ایک گھنٹہ پانچ منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال خاں کی صدارت میں شروع ہوا ،اجلاس میں محکمہ ہاؤسنگ، اربن ڈ ویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے بارے میں اصل وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری کی بجائے انرجی کے منسٹر شیر علی خان نے جوابات دئے ۔راجہ راشد حفیظ کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر شیر علی خان نے کہا کہ راوالپنڈی نالہ لئی ایکسپریس وے منصوبہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا، اُس وقت کی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے اس منصوبہ میں نصف فنڈز دینے تھے مگر انہوں نے فنڈز دینے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے یہ منصوبہ آج تک نہ بن سکا۔سپیکر نے کہا کہ کیا یہ کام کاغذات میں شروع ہو گیا تھا جس پر منسٹر نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔رکن اسمبلی میاں طارق کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سال2017-18ء میں صاف پینے کے پانی کیلئے کل بجٹ ’’صاف پانی ساؤتھ کمپنی‘‘ کیلئے5 24.ارب روپے رکھا گیا۔وقفہ سوالات کے بعد نکتہ اعتراض پر سردار شہاب الدین نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گنے کے کاشتکاروں کے ساتھ جوسلوک کیا اور شوگر مل مافیا نے جو کردار ادا کیا اس کے نتیجہ میں آج بھی 20فیصد گنا کھیتوں میں ہی تباہ ہو گیا ہے، اور گنے کی عدم ادائیگیوں پر چہف جسٹس آف پاکستان نے بھی نوٹس لے لیا ہے،مگر اب گندم کی خریداری کا مسئلہ ہے ،پنجاب حکومت کی گندم خریداری پالیسی کی کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ گندم کے کاشتکاروں کے لئے کیا کرنے جا رہی ہے،ہمارا یہ مطالبہ ہے حکومت اپنی گندم پالیسی پر ایوان میں بحث کرائے ، جس پر حکومت نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی اور سپیکر کے تعاون سے3مئی کو پنجاب حکومت کی گندم پالیسی پر بحث ہو گی ، سپیکر نے اُس روز گنے کے کین کمشنر اور فوڈ منسٹر کو بھی ایوان میں طلب کیا ہے۔رکن اسمبلی عبدالوحید ڈوگر نے کہا گندم کی خریداری کیلئے باردانے کی تقسیم کی حکومتی پالیسی کی کوئی سمجھ نہیں آ رہی اس کی تقسیم کار کو و اضح کیا جائے۔رکن اسمبلی عارف عباسی نے کہا کہ پنجاب بھر کے میڈیکل سٹور بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بڑی مشکلات کا سامنا ہے اور سٹور مالکان مال روڈ پر سراپا احتجاج ہیں جس سے ہر شخص پریشان ہے،جس کے جوا ب میں صوبائی وزیر طاہر خلیل سندھونے کہا کہ مال روڈ پر احتجاج سے چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی منع کیا ہے لیکن یہ لوگ بات مانتے ہی نہیں بہر حال یہ بات واضح ہے کہ بلیک میل ہو کر جعلی ادویات فروخت کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی،اس معاملہ میں اپوزیشن بھی ہمارا ساتھ دے ۔ صوبائی وزیر اوقاف زعیم حسین قادری نے کہا حکو مت نے یہ تہیہ کر لیا ہے کہ جعلی میڈیسن فروخت نہیں کرنے دی جائے گی، حکومت نے ایک سسٹم بنا دیا ہے اور لوگ اس سسٹم کے تحت آ رہے ہیں اور بہت سے شہروں میں میڈیکل سٹور کھل بھی گئے ہیں حکومت پچھلے چار روز سے ان کے ساتھ مذاکرات میں ہے۔مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے کہا 2016-17ء کے بجٹ میں چنیوٹ فیصل آباد روڈ کے لئے دو ارب روپے مختص ہوئے،وزیر خزانہ اور سیکرٹری خزانہ نے بھی یہ فنڈ جاری کرنے کے لئے کہا لیکن ابھی تک اس کا پتہ نہیں چل رہا کہ معاملہ کہاں پھنسا ہوا ہے کوئی بھی صحیح بات بتانے کے لئے تیار نہیں ،جس پر سپیکر نے کہا کہ محکمہ کے ساتھ رابطہ کریں ۔رکن اسمبلی فائزہ احمد ملک نے بھی میڈیکل سٹوروں کے مالکان کے مسائل کے حوالے سے بات کی۔ نکتہ اعتراض پر اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پریس کانفرنس کے دوران یہ کہا ہے کہ ہمیں مزید10سال دئے جائیں تو ہم ملک کو اور آگے لے جائیں گے ، یہ عوام کے ساتھ مذاق ہے پہلے ہی قوم کے30سال انہوں نے ضائع کئے ہیں ، انہوں نے قوم کو دھوکا دیا ہے، جس پر سپیکر نے کہا یہ نکتہ اعتراض نہیں بنتا جس پر ایوان میں شور شرابا شروع ہوگیا اپوزیشن کی طرف سے شیم شیم جبکہ حکومت کی جانب سے رو رو کے نعرے شروع ہو گئے، اس دوران رکن اسمبلی عارف عباسی نے کورم کی نشاندہی کردی، پانچ منٹ گھنٹیاں بجانے پر بھی کورم پورا نہ ہوا توسپیکر نے اجلاس2مئی دوپہر 2بجے تک کے لئے ملتوی کردیا ۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر


loading...