پی ٹی آئی لوٹوں،بے ضمیروں اور ایجنٹوں کی نشانی ، رانا ثنا ء اللہ

پی ٹی آئی لوٹوں،بے ضمیروں اور ایجنٹوں کی نشانی ، رانا ثنا ء اللہ

لاہور( این این آئی)صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف تبدیلی کا نعرہ لگاتے لگاتے خود تبدیل ہو گئی ہے ،29اپریل کے جلسے میں آنے والے لوگ بلکہ پوراسٹیج بھی وہ نہیں تھا جو 30اکتوبر 2011ء کومینار پاکستان پر ہونے والے جلسے میں تبدیلی کی امید لے کر آئے تھے،پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ لوٹوں،بے ضمیروں اور ایجنسیوں کے ایجنٹوں کی نشانی ہے عمران خان ایجنسیوں کے آلہ کار ہیں،پنجاب میں سب سے بڑے لوٹے کا مقابلہ شہباز شریف یا حمزہ شہباز اور جو پاکستان کا سب سے بڑا لوٹا ہے اس کا مقابلہ نواز شریف یا مریم نواز کریں گی، آنے والے انتخابات میں کسی سے اتحاد نہیں کریں گے ،ضمنی بجٹ کے حوالے سے بات چل رہی ہے حکومت پنجاب چار ماہ کا بجٹ پیش کرے گی۔ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا ء اللہ خان نے کہا کہ تحریک انصاف کا 29اپریل کا جلسہ روایتی ، ٹھنڈا ٹھار اور دیہاڑی داروں کا جلسہ تھا جس میں تبدیلی کی ایک رمق بھی نظر نہیں آئی ۔ گھریلو خواتین جو 30 اکتوبر کے جلسے میں تبدیلی کے نعرے لگار ہی تھی جن کی آنکھوں میں تبدیلی کی چمک او رامید تھی وہ 29اپریل کے جلسے میں موجود نہیں تھیں ۔جلسے میں موجود خواتین کے ٹھمکے بتا رہے تھے یہ کہاں سے آئی ہیں ۔ اس سے قبل ایک رات پہلے آتش بازی پر لاکھوں روپے خرچ کئے گئے اورکرائے پر ڈانس کرنے والے اور والیوں کے ذریعے تماشہ لگایا پی ٹی آئی کا لوگوں کو اپنے جلسوں میں راغب کرنے کا یہ ایک طریقہ ہے ۔ جلسے میں وہاڑی، گوجرانوالہ، پشاور اور پورے ملک سے لوگوں کو اکٹھا کیا گیا۔ پینتیس ہزار کرسیاں لگا کر پچاس ہزار بتائی گئیں اور رات کے اندھیرے اور روشنی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بہت بڑا جلسہ تھا ۔ سٹیج کا یہ حال تھاکہ 30اکتوبر کو تبدیلی کیلئے پر امید پر جوش جو نوجوان سٹیج پر موجود تھے وہ لوٹوں ، فصلی بٹیروں سے تبدیل ہو گیا اور کالے ، نیلے ، پیلے لوٹے بیٹھے تھے ،ایک بے ضمیر کی ہنسی بتا رہی تھی کہ اس کا ضمیر اسے جوتے ماررہا ہے ۔ انہوں نے پی ٹی آئی کا پنجابی کی مثال کی طرح یہ حال ہوا ہے کہ رانجھا رانجھا کردی میں آپے رانجھا ہوئی ۔ پی ٹی آئی تبدیلی کا نعرہ لگاتی لگاتی خود تبدیل ہو گئی ۔ پی ٹی آئی کے پاس ایسا کوئی بھی شخص نہیں تھا جس کا بنیادی طو رپر پی ٹی آئی سے تعلق ہو ۔ شاہ محمود قریشی بذریعہ پیپلز پارٹی اس جماعت میں آئے،جہانگیر ترین (ق) لیگ ، فواد چوہدری پہلے (ق) لیگ اور پھر وہاں سے پیپلزپارٹی اور پھر پی ٹی آئی، چو دھری سرور پہلے پیپلز پارٹی پھر مسلم لیگ (ن) ،گورنر ہاؤس اور پھر تحریک انصاف میں آئے ۔ مسلم لیگ (ن) نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم لوٹوں کا بھرپو رپیچھا کریں گے انہیں ان کے حلقوں میں عبرتناک شکست دیں گے۔ فیصل آباد میں جو سب سے بڑا لوٹا ہے میں خود اس کا مقابلہ کروں گا ،اسی طرح پنجاب کا جو سب سے بڑا لوٹا ہے اس کا مقابلہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف یاحمزہ شہباز کریں گے اور جو پاکستان کا سب سے بڑا لوٹا ہے اس کا مقابلہ نواز شریف یا مریم نواز کریں گی ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب محاذ والے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں یہ بھی لوٹا اور ایجنسیوں کا محاذ ہے ۔ ضروری نہیں کہ جلسے کا جواب جلسے ،الزام اور گالی کا جواب بھی اسی طرح دیا جائے ۔نواز شریف نے جو جلسے کئے ہیں وہ دن کی روشنی میں کئے اور ان جلسوں میں مقامی لوگ شریک ہوئے ۔ پی ٹی آئی تو نواز شریف کے جلسوں کا جواب دے رہی ہے اور جواب دینے کی کوشش خود ان کے اپنے گلے پڑ گئی ہے۔ جو لوگ ہمیں چھوڑ کر گئے ہیں ان پر ایجنسیوں نے کام کیا ہے،اپنی جماعت کو چھوڑنا لوٹا کریسی ہے۔2018 میں سیاسی جماعتوں ،میڈیا اور کارکنوں کو اس برائی کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ موجودہ اسمبلی نے ریکارڈ قانون سازی کی ہے تاہم اپوزیشن اس مرتبہ اتنی نالائق ہے کہ وہ اپنا کام نہیں کرسکی ،اپوزیشن نے سوائے کورم کی نشاندھی کے علاہ کوئی کام نہیں کیا ۔ آصف زرداری اینٹ سے اینٹ بجارہے تھے لیکن ان پر عزیر بلوچ کی تلوار لٹکی ہوئی ہے ۔ مسلم لیگ( ن) نئے صوبوں کے بنانے کے لئے کردار ادا کرے گی۔

رانا ثنا

مزید : صفحہ آخر


loading...