بھارت میں ذات پات اور تفریق سے تنگ 300ہندوؤں نے بدھ مذہب اختیار کر لیا

بھارت میں ذات پات اور تفریق سے تنگ 300ہندوؤں نے بدھ مذہب اختیار کر لیا

احمد آباد(آئی این پی) بھارتی ریاست گجرات کے قصبے ’’ اونا‘‘ کے 300دلتوں نے ذات پات کی بنیاد پر تشدد اور تفریق سے تنگ ہوکر ہندو مذہب ترک کرکے بدھ مذہب اختیار کرلیا ۔رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست گجرات کے قصبے اونا کے نواحی گاں سمادھیالہ میں ذات پات کی بنیاد پر تفریق اور تشدد سے تنگ و مجبور تقریبا300ہندوؤں نے اپنے مذہب کو خیرباد کہہ دیا اور اب وہ باقاعدہ طور پر بدھ مذہب میں داخل ہوگئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جولائی 2016 میں گاں کے رہائشی بالوسرویا نامی شخص کے بیٹوں اور بھتیجوں کو ہندو انتہا پسندوں نے گائے مارنے کے الزام میں نہ صرف کوڑے مار کر تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ انہیں گاؤں میں سرِعام نیم برہنہ حالت میں گھمایاتھا۔واقعہ کے متاثرین نے کہاہے کہ 2سال گزر جانے کے باوجود ہمیں انصاف ملا نہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی مدد کی گئی بلکہ تشدد کرنے والے اونچی ذات کے ہندو ملزمان ضمانت پر رہا ہو کر سرِعام گھوم رہے ہیں۔ہمیں اب بھی تفریق کا سامنا ہے، ہماری برادری کے لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اتنے ظلم سہنے کے باوجود آپ ہندو مذہب پر کیوں قائم ہیں؟ اس لئے ہم برابری اور عزت کیلئے ہندومذہب چھوڑ کر نئی زندگی کا آغاز کررہے ہیں۔سمادھیالہ گاں میں ہونے والی باضابطہ تقریب میں اونچی ذات کے ہندوؤں کے تشدد کا نشانہ بننے والے گھرانے سمیت 3سو سے زائد دلتوں نے بدھ مذہب اختیار کیا۔

مذہب تبدیل

مزید : صفحہ آخر


loading...