عمران خان نے لاہور کے جلسے میں رفتہ کو آوازدی ، کرکٹ کے سحر سے نکل نہیں سکے

عمران خان نے لاہور کے جلسے میں رفتہ کو آوازدی ، کرکٹ کے سحر سے نکل نہیں سکے

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

عمران خان ابھی تک کرکٹ کے سحر سے نہیں نکلے، وہ اکثر عمر رفتہ کو آواز دیتے اور ان ایام کو یاد کرتے رہتے ہیں جب وہ کرکٹ کھیلتے تھے، وہ اگر جلسے سے خطاب کر رہے ہوں تو اپنے سامعین کو اور اگر کسی ٹی وی چینل پر انٹرویو دے رہے ہوں تو اپنے ناظرین کو باور کراتے رہتے ہیں کہ وہ فائٹر ہیں اور آخری گیند تک لڑتے ہیں۔ کرکٹ کھیل ہی ایسا ہے کہ اس میں آدمی کو آخری گیند تک ہی لڑنا پڑتا ہے، لیکن سیاست اور کرکٹ کے کھیل میں اگرچہ بعض مماثلتیں ہوتی ہیں، لیکن کہیں کہیں ان میں بعدالمشرقین بھی ہے۔ کرکٹ میں جوا چل جاتا ہے اور بہت بعد میں پتہ چلتا ہے کہ فلاں میچ فکس تھا، لیکن سیاست کے کھیل میں میچ فکس ہو تو انگلیاں فوراً سیاستدانوں کی طرف اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگلے انتخابات کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں ہوا، لیکن قمار بازوں کے نام ابھی سے سامنے آنے لگے ہیں۔ ہماری بات پر اگر آپ یقین کرنے میں متامل ہیں تو ممتاز سیاستدان اور سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’’سچ تو یہ ہے‘‘ پڑھ لیں۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں واقعات سیاست بے ساختگی اور سادگی کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو بعض واقعات پر ناک بھوں چڑھا کر مخالفانہ رائے بھی رکھ سکتے ہیں اور جو رائے چودھری شجاعت حسین نے قائم کی ہے، اس کے خلاف دلائل بھی لاسکتے ہیں، لیکن اس تجزئیے میں کتاب کے واقعات کا تجزیہ مقصود نہیں ہے۔ ان کا ذکر بطور حوالہ دیا جا رہا ہے۔ صاحب کتاب کا کہنا ہے کہ 2008ء کا الیکشن فکس تھا، یہ الیکشن جنرل (ر) پرویز مشرف کی صدارت میں ہو رہا تھا، جو مسلم لیگ (ق) کی حکومت کے پانچ سال پورے کرا چکے تھے اور اگلے پانچ سال کے لئے بینظیر بھٹو سے این آر او کرلیا تھا۔ جس میں یہ طے تھا کہ وہ الیکشن مہم نہیں چلائیں گی اور الیکشن کے بعد واپس آئیں گی لیکن وہ واپس آگئیں تو کراچی میں ان کے استقبالی جلوس میں آدھی رات کے وقت یکے بعد دیگرے دو بدترین خودکش حملے ہوگئے۔ یہ 18 اکتوبر 2007ء تھا، جس کی خون آلود یادیں آج بھی افسردہ کر دیتی ہیں۔ ان دھماکوں میں خوش قسمتی سے محترمہ تو بال بال بچ گئیں، لیکن کم و بیش 200 لوگ اس سانحے کی بھینٹ چڑھ گئے۔ غالباً جنرل پرویز مشرف کا یہ خیال تھا کہ اس سانحے کے بعد وہ ڈر جائیں گی اور انتخابی مہم سے دور رہیں گی، لیکن ان کی امید پوری نہیں ہوئی۔ چنانچہ دوسری مرتبہ بینظیر بھٹو کو لیاقت باغ کے باہر نشانہ بنایا گیا، ٹارگٹ کرنے والوں نے اب کی بار محترمہ کو ڈرایا نہیں، زندگی سے ہی محروم کر دیا۔ اس واقعے سے چند گھنٹے پہلے راولپنڈی ہی میں نواز شریف کے ایک قافلے پر فائرنگ ہوئی تھی، جس میں وہ محفوظ رہے ، لیکن قافلے میں شریک کچھ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایک ہی دن دو مقبول رہنماؤں کی زندگی کا خاتمہ کرنے کی سازش اتفاقیہ تو نہیں ہوسکتی تھی۔ محترمہ کی موت کے اس سانحہ کے بعد الیکشن میں تھوڑی تاخیر ضرور ہوگئی، لیکن انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی وفاق اور سندھ میں برسر اقتدار آگئی۔ شروع شروع میں مسلم لیگ (ن) بھی آصف علی زرداری کی مفاہمت کے صدقے شریک حکومت تھی اور پیپلز پارٹی کی اس حکومت کا پہلا بجٹ اسحاق ڈار نے پیش کیا تھا، جی ہاں، وہی اسحاق ڈار جو اب اشتہاری ہے اور لندن میں علاج کے بہانے چھپا ہوا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے خزانے کا وزیر تھا، اب وقت بدلا ہے تو آصف علی زرداری پوری رعونت سے کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے ساتھ جنت میں بھی نہیں جانا، حالانکہ اقتدار کی جنت کے ابتدائی دنوں میں وہ اکٹھے تھے۔ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے، ہم میچ فکسنگ کی بات کر رہے تھے، سیاسی میچ فکس ہو تو فوراً ہی پتہ بھی چل جاتا ہے اور مرتب ہونے والے اثرات کی گواہی بھی مل جاتی ہے کہ فلاں میچ فکس تھا۔ چودھری شجاعت کی کتاب تو اب چھپی ہے، لیکن انہی دنوں وہ یہ شکایت کرتے بھی پائے گئے تھے۔ عمران خان نے لاہور کے جلسے میں ان دنوں کو یاد کیا ہے جب شیخ رشید ان کی پارٹی کو تانگہ پارٹی کہتے تھے، لیکن یہ وہ دن تھے جب خود عمران خان انہی شیخ رشید احمد کے بارے میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ خدا وہ وقت نہ لائے کہ وہ اس طرح کی ’’کامیاب سیاست‘‘ کریں ، جس طرح کی سیاست بزعم خویش شیخ رشید احمد کر رہے ہیں۔ وہ تو یہ تک کہہ گزرتے تھے کہ وہ شیخ رشید کو اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھیں، لیکن یہ وہ دن تھے جب عمران خان سیاست نہیں جانتے تھے، اب جب انہیں سیاسی داؤ پیچ کی سمجھ آئی ہے تو انہیں معلوم ہوا ہے کہ شیخ رشید احمد کتنے کام کے آدمی ہیں اور مسلسل جھوٹ بولنے کے باوجود لوگ ان سے بدمزہ نہیں ہوتے۔ اب عمران خان اور شیخ رشید احمد کا صفحہ بھی ایک ہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک لائیو ٹی شو میں ایک بزرگ کے سامنے ان کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے چھوٹتے ہی بے نقط سنانا شروع کر دیں، بعض جملے آن ایئر چلے گئے، پھر پروڈیوسر کی حاضر دماغی کام کرگئی اور مائیک بند ہوگیا۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں شاہ محمود قریشی کا بھی تذکرہ کیا، جنہوں نے شمولیت کی دعوت پر حیرت سے عمران خان کی طرف دیکھا۔ ان واقعات کو بیان کرکے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ان حالات میں بھی ثابت قدم رہے اور اب ان کی پارٹی پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ غالباً انہوں نے کسر نفسی سے کام لیا ہے، کیونکہ چند ماہ پہلے ان کی پارٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے ارکان کی تعداد 17 لاکھ ہے، اس لحاظ سے دنیا میں کوئی ان کا مدمقابل نہیں۔ اتنے ارکان تو برطانیہ کی ان جماعتوں کے بھی نہیں جو عشروں سے وہاں کبھی حکمران اور کبھی اپوزیشن جماعتوں کا رول ادا کرتی ہیں، اس جلسے میں ایک بات البتہ شاہ محمود قریشی نے بڑی معنی خیز کہی، اگرچہ ان کا اشارہ تو نواز شریف کی طرف تھا، لیکن اگر کوئی صاحب اسے جہانگیر ترین پر بھی منطبق کر دیں تو کیا حرج ہے، کیونکہ آئین کی جس دفعہ کے تحت نواز شریف نااہل ہوئے ہیں، اسی کے تحت جہانگیر ترین بھی نااہل ہوئے ہیں۔ شاہ محمود اور جہانگیر ترین پارٹی میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہتے ہیں۔ کیا پتہ انہوں نے یہ ذومعنی جملہ جہانگیر ترین کے لئے ہی کیا ہو۔

عمر رفتہ

مزید : تجزیہ


loading...