ایف بی آر میں سکھا شاہی قانون نافذ،ملازمین ناانصافی کا شکار ہیں،عہدیداران

ایف بی آر میں سکھا شاہی قانون نافذ،ملازمین ناانصافی کا شکار ہیں،عہدیداران

ملتان(نیوز رپورٹر)فیڈرل ریونیو الائنس ایمپلائز یونین ایف بی آر کے عہدیداران نے اعلیٰ بیورو کریسی کو شدید ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایف بی آر کی اعلیٰ بیورو کریسی نے(بقیہ نمبر33صفحہ12پر )

محکمہ میں سکھا شاہی کا قانون نافذ کررکھا ہے جس کے باعث 14ویں اور 16ویں سکیل کے ملازمین برسہا برس سے ظلم و ناانصافی کا شکار ہورہے ہیں اعلیٰ بیورو کریسی اس حد تک پاور فل ہے کہ ایک انسپکٹر 30سال کے بعد جب اس کی پرموشن ہوتی ہے تو اسے انسپکٹر سے ان لینڈ ریونیو آفیسر بنا دیا جاتا ہے لیکن اس کے سکیل میں دانستہ اضافہ نہیں کیا جاتا وہ پہلے بھی 16ویں میں تھا اور ان لینڈ ریونیو آفیسر بننے کے بعد بھی اس کو 16ویں سکیل تک ہی محدود رکھا جاتا ہے اعلیٰ بیورو کریسی کی جانب سے اس قسم کا امتیازی سلوک باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا جارہا ہے فیڈرل ریونیو الائنس کے صدر نوید اعوان،جنرل سیکرٹری ارشد ترین خان کے مطابق ایف بی آر ملازمین نے مالی سال 2016-17ء میں ریونیو ہدف 1939ہزار ارب کے مقابلے میں مالی سال 2017-18ء میں 3993ہزار ارب روپے کا ہدف حاصل کیا ہے اس دوگنا ریونیو ہدف کے حصول میں کامیاب ہونے کے باوجود ایف بی آر کی اعلیٰ بیورو کریسی فیلڈ میں کام کرنے والے 14ویں اور 16ویں گریڈ کے ملازمین کو کریڈٹ دینے سے انکاری ہے انہوں نے مزید کہا کہ ظلم و ناانصافی کی انتہا ہے کہ اسسٹنٹ کسٹم آفیسر کو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ڈائریکٹ14واں سکیل دیا گیا جبکہ موجودہ حکومت نے انہیں 14ویں سے 16ویں گریڈ میں پرموٹ کردیا ہے جبکہ ایف بی آرکے سینئر وکلاء کو 11واں سکیل دیا جارہا ہے انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف بی آر ملازمین کی پرموشن کے حوالے سے کوٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کروایا جائے اور ملازمین کیساتھ ہونیوالی ناانصافی کا ازالہ کیا جائے۔

ایف بی آر

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...