جبری مشقت چائلڈ لیبر خاتمے کے دعوے دھرے رہ گئے ، مزدوروں کی مشکلات برقرار

جبری مشقت چائلڈ لیبر خاتمے کے دعوے دھرے رہ گئے ، مزدوروں کی مشکلات برقرار

ملتان (رانا عرفان الاسلام سے )حکومت پنجاب کی جانب سے جبری مشقت کے خاتمہ اور انیٹوں کے بھٹہ،ورکشقاپ ، پٹرول پمپس، ہوٹلوں سمیت دیگر مقامات پر ہونے والی چائلڈ لیبر کے خاتمے کے دعوی دھرے کے دھرے رہ گئے(بقیہ نمبر8صفحہ12پر )

گزشتہ سال یکم مئی کے موقع پر حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کے احکامات جاری کئے تھے جس کے لئے مختلف چوراہوں ، پر بڑے بڑے سائن بورڈ آویزاں کئے گئے چائلڈ لیبر والے مقامات پر چھاپے مارے کر مالکان کے خلاف بھاری جرمانے کرکے قانونی کاروائی بھی کی گئی اس سلسلے میں وزیر اعلی پنجاب نے خصوصی طور پر احکامات جاری کئے تھے کہ اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپس، ورکشاپوں اور ہوٹلو ں پر کام کرنے والے بچوں کو بھی آئندہ 4 ماہ میں سکولوں میں داخل کرایا جائے گا‘پنجاب کے ہر بچے کو سکول میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیابھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو ہر ماہ ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ جبکہ ورکشاپ اور ہوٹلوں پر کان کرنے والے بچوں کو دو ہزار روپے وظیفہ دیا جانا تھااسی طرح بچوں کے والدین کو 2 ہزار روپے سالانہوظیفہ بھی مقرر کیا گیا تھا۔ بچوں کو کتابیں، یونیفارم، سٹیشنری، جوتے اور پک اینڈ ڈراپ کی سروس بھی مفت فراہم کی جانا تھی ‘ لیکن ایک سال گذرنے کے باجود کسی ہوٹل ، ورکشاپ اور پٹرول پمپ پرکام کرنے والے بچے کو سکول میں داخل کیا گیا نہ انہیں ماہانہ وظیفہ جاری کیا گیا ہے جبکہ ااسی طرح اینٹو ں کے بھٹوں پر کام جبری مشقت کے قانون پر عمل در آمد ہو سکا ہے جس کی وجہ مزدور شدید مشکلات کا شکار ہیں اس سلسلے میں جب محکمہ لیبر کی آفیسر شمشاد اختر نے بات کی گئی تو انہوں نے کہاہے کہ ضلعی ملتان میں بھٹو ں پر کام کرنے والے 1800بچوں کو مختلف سکولوں میں داخل کر ادیا گیا جن کا ماہانہ وظیفہ خدمت کارڈ کے ذریعے جاری کر دیا گیا ہے جبکہ ہوٹل ، ورکشاپس اور پٹرول پمپوں پرکام کرنے والے بچوں کو اگلے مرحلے میں سکولوں میں داخل کرا یا جائے گا اس حوالے سے بھٹہ مزدروں نے کہاہے کہ ہمیں خدمت کارڈ مل چکے ہیں لیکن تاحال پیسے نہیں ملے ہیں ۔

جبری مشقت

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...