تھانہ کلچر تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے وارداتوں کے مقدمات اندراج میں تاخیر معمول

تھانہ کلچر تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے وارداتوں کے مقدمات اندراج میں تاخیر ...

ملتان(کرائم رپورٹر) تھانہ کلچر کی تبدیلی کے دعوے دھرے کے دھرے(بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

رہ گئے،شہر میں ڈکیتی چوری اور رہزنی کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ،پولیس نے وارداتوں کے مقدمات کے اندراج میں تاخیر کو معمول بنالیا،عام شہری تھانوں کے دھکے کھانے پر مجبور،معاملہ علم میں آنے پر آر پی او ملتان نے نوٹس لے لیا، ایس پی کینٹ ڈاکٹر فہد کو ایس ایچ او چہلیک کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا۔اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ 22 اپریل بروز اتوار رات 9 بجے کے قریب مزمل نامی شخص جو کہ پیپسی فیکٹری بمقام ڈسٹرکٹ جیل روڈ سے فلٹریشن پلانٹ سے صاف پانی بھرنے گیا۔حہاں اس کی جیب سے نامعلوم چور نے موبائل نکال لیا۔جس پر اس نے 15 پر پولیس کو اطلاع دی پولیس موقع پر پہنچی اور اس سے درخواست بمراد اندراج مقدمہ موبائل چوری لکھوا لی۔23 اپریل کو مزمل ایس ایچ او چہلیک کے انتظارمیں دو سے تین بار تھانہ چہلیک کے چکر لگاتا رہا۔بعدازاں 24 اپریل کو وہ تھانہ دوبارہ گیا ایسایچ او راو طارق پرویز نے اسے دوبارہ درخواست لکھنے کو کہا مزمل نے درخواست دی جس پر اسے فرنٹ ڈیسک سے رسید بھی دی گئی۔لیکن چوری کے واقعہ کامقدمہ درج نہ کیا گیا۔اس طرح مزمل 29 اپریل تک تھانہ کے چکر۔لگاتارہا۔تاہم ایس ایچ او بجائے کاروائی کے لعت و لعل سے کام لیتا رہا۔گزشتہ روزجب وہ تھانہ پہنچا تو ایس ایچ او نے اسے کہا کہ درخواست گم ہوگئی ہے۔دوبارہ لکھو اس نے دوبارہ درخواست لکھ کر فرنٹ ڈیسک دی جنھوں نے ایک بار پھر اسے کمپیوڑرائزڈ رسید تھما دی لیکن مقدمہ درج نہ کیا،معاملہ آر پی او ملتان کے علم میں آنے پر اانہوں نے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی کینٹ ڈاکٹر فہد کو مقدمہ میں اندراج میں بے جا تاخیر پر ایس ایچ او چہلیک کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...