دہشتگردی ختم نہیں ہوئی دہشتگردوں کی خاموشی خطرناک ہے :میاں افتخار

دہشتگردی ختم نہیں ہوئی دہشتگردوں کی خاموشی خطرناک ہے :میاں افتخار

  



خیبرایجنسی ( بیورورپورٹ )اے این پی کے مرکزی جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین نے لنڈی کوتل پریس کلب میں میڈیا کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طورخم بارڈر کے تجارتی راستے کو کھلا رکھا جائے جس میں دونوں ممالک پاکستان اور افغانستان اور ان کے عوام کا فائدہ ہے میاں افتخار حسین نے کہا کہ دہشت گردی ختم نہیں ہوئی بلکہ دہشت گرد خاموش ہیں جو کہ بہت خطرناک ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان آپس میں بیٹھ کر مسائل حل کریں اور دونوں ممالک امن کی مکمل بحالی کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں اور اپنے عوام کے فائدہ کے لئے خارجہ اور داخلہ پالیسیاں تبدیل کریں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں روس اور امریکہ اپنے مفادات کے لئے لڑ رہے ہیں اس لئے چین ثالث کا کردار ادا کرے اور کہا کہ پاکستان، ایران اور انڈیا ایٹمی طاقتیں ہیں اور اگر اس خطے میں امن بحال نہ ہوا تو تیسری عالمی جنگ شروع ہو سکتی جو کہ ایٹمی جنگ ہوگی جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوگی انہوں نے فاٹا کو انتخابات سے پہلے صوبے میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ فاٹا میں ترقی ہو انہوں نے فاٹا میں سہولیات، یونیورسٹیوں، کالجز اور ایکسپریس وے کی تعمیر کا بھی مطالبہ کیا میاں افتخار نے کہا کہ عالمی طاقتیں اس خطے میں مذید خون بہانا بند کریں اور امن کی بحالی کے لئے کردار ادا کریں اور اب یہ چیز برداشت سے باہر ہو چکی انہوں نے کہا کہ چین کے سفیر نے اسفندیار ولی کو خود بتایا کہ سی پیک ان علاقوں کے لئے ہے جہاں غربت، افلاس ہے اور دہشت گردی سے متاثر ہیں اس لئے خیبرپختون خوا اور فاٹا سب سے زیادہ دہشت گردی کے شکار ہوئے ہیں اور یہاں اب مغربی روٹ پر کام شروع کیا جائے انہوں نے کابل میں خود کش دھماکوں میں عام لوگوں، فورسز کے افراد اور صحافیوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ آخر کب تک پاکستان اور افغانستان میں بت گناہ لوگوں کا خون نا حق بہایا جائیگا اور دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ ملکر دہشت گردوں کا خاتمہ کریں اور ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے گریز کریں انہوں نے کہا کہ پہلے ضیاء الحق نے افغانوں کو مہاجر بنا کر لایا، پھر مجاہدین بنا کر اسلام کے نام پر لڑا، پھر ان کو طالبان بنایا گیا اور اب وہ سب دہشت گرد ٹھرے ہیں جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے میاں افتخار نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم سے صوبے کو مالی طور پر فائدہ ہوا ہے اس لئے اسے کسی صورت ختم نہیں ہونگے دینگے میاں افتخار نے الیکشن سے پہلے فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ اعلیٰ عدالتوں کی فاٹا تک توسیع خوش آئند ہے جس کے نتیجے میں انگریز کا قانون ایف سی آر ختم ہوگا اور قبائلی عوام پرسکون زندگی گزار سکیں گے انہوں نے کہا کہ فاٹا اصلاحات میں صرف مولانا فضل الرحمان اور محمود خان رکاؤٹ نہیں بلکہ نوزشریف بھی گناہ گار ہے اس لئے ان کو قبائلی عوام کی بد دعائیں لگیں اور اضافہ کیا کہ دہشت گردی خاتمے اور اصلاحات پر آرمی پبلک سکول واقعہ کے بعد تمام سیاسی اور فوجی قیادت اور حکومت اے پی سی کے دوران ایک پیج پر تھی اور بیس نکات پر اتفاق ہوا تھا جس پر عمل کرنے کی ضروت ہے انہوں نے پی ٹی ایم کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی ایم والے جذباتی نوجوان ہیں جبکہ باچا خان کی تحریک برے گھرانے کی قربانیوں کی تحریک ہے اس لئے جذباتی باتوں سے گریز کر کے سنجیدہ گفتگو کرتے ہیں اس پہلے میاں افتخار نے ملک دریا خان آفریدی کی رہائش گاہ پر جاکر میجر دوست محمد مرحوم اور زرگرانو کلی کے مرحوم عین علی کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی لنڈی کوتل پریس کلب میں اے این پی کے مرکزی جنرل سیکریٹری کے ہمراہ اے این پی خیبر ایجنسی کے صدر شاہ حسین شنواری، لنڈی کوتل کے سابق صدر عالمگیر آفریدی و دیگر مقامی قائدین اور کارکن بھی موجود تھے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...