ماہِ شعبان العظم کی اہمیت و فضیلت!

ماہِ شعبان العظم کی اہمیت و فضیلت!

ماہ شعبان اسلامی سال کا آٹھواں ماہ مبارک ہے۔سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ ؐ کو کبھی بھی ماہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور مَیں نے نہیں دیکھا کہ آپ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں کثرت سے نفلی روزے رکھتے ہوں۔ ( متفق علیہ)

سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضاء دینا واجب ہوتی تھی جسے میں صرف شعبان میں ہی ادا کرسکتی تھی۔(متفق علیہ)

سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول مکرم ؐ روزہ رکھنے کے لئے شعبان کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے پھر آپ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے۔ (ابو داؤد صححہ الالبانی)

سیدنا اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے رسول مکرمؐ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ! مَیں آپ کو ماہ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں اس پابندی کے ساتھ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھتا؟ آپ ؐ نے جواباً ارشاد فرمایا: یہ مہینہ تو وہ ہے جس کی برکت ( اور عظمت) سے لوگ غافل ہیں، یہ تو وہ مہینہ ہے جس میں انسان کے اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش کئے جاتے ہیں اور میری خواہش ہے کہ جب میرے اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں تو میں روزہ دار ہوں۔

سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ نبی مکرم ؐ سے پوچھا گیا کہ ماہ رمضان کے بعد کس ماہ کا روزہ افضل ہے تو آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ ماہ رمضان کی تعظیم کرتے ہوئے ماہ شعبان میں روزہ رکھنا (افضل ہے)۔ ‘‘

***

مزید : ایڈیشن 1


loading...