شبِ برأت۔۔۔ بخشش کی رات

شبِ برأت۔۔۔ بخشش کی رات

شعبان المعظم اور شب برأت کی احادیث مبارکہ اور روایات میں بہت زیادہ اہمیت وفضیلت آئی ہے، اس مبارک رات کے بہت سے نام ہیں اس کو ’’لیلۃ الصک‘‘ یعنی دستاویز والی رات ’’لیلۃ الرحمۃ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ کے نزول کی رات کے نام سے بھی ذکر کیا جاتا ہے۔

اس مبارک رات میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے، بخشش ومغفرت اور رحمت کے دروازے کھول دےئے جاتے ہیں، انعام واکرام کی بارش ہوتی ہے توبہ اور دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس رات میں آئندہ سال کی اموات وپیدائش لکھی جاتی ہیں اور اس رات میں ان کے رزقوں کی بھی تقسیم کردی جاتی ہے اور اس رات میں بندوں کے اعمال وافعال آسمان پر لے جائے جاتے ہیں اور اس رات میں اللہ تعالیٰ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر بندوں کو دوزخ کی آگ سے نجات عطا فرماتے ہیں لیکن ۔۔۔ اس بخشش ومغفرت، اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت اور اس رات کی برکات وثمرات سے مشرک، کینہ پرور، رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے یعنی ان کے حقوق پورے نہ کرنے والا، والدین کا نافرمان، کسی انسان کو ناحق قتل کرنے والا، بدکار عورت، تہبند، پاجامہ وغیرہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا یعنی متکبر، زانی اور شرابی محروم رہتا ہے ۔۔۔ جب تک یہ سب ان چیزوں سے سچے دل سے توبہ کرکے اپنے آپ کو درست نہیں کرلیتے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ پانچ راتیں ایسی ہیں کہ جن میں کی جانے والی دعائیں رد نہیں ہوتیں یعنی ضرور قبول ہوتی ہیں (1) شب جمعہ (2) رجب کی پہلی رات (3) شعبان کی پندرہویں شب (شب برأت) (4) عیدالفطر کی رات (5) عیدالاضحی کی رات۔

خلیفہ اول سیدنا صدیق اکبرؓ حضور اکرم ؐ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان (شب برأت) کی شب آسمان دنیا کی طرف نزول جلال فرماتے ہیں اور اس شب میں ہر کسی کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے مشرک کے یا ایسے شخص کے کہ جس کے دل میں بغض ہو۔

ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیا کی طرف نزول جلال فرماتے ہیں او ر بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔

حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر نظر رحمت ڈال کر مسلمانوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں، کافروں کو مہلت دیتے ہیں اور کینہ پروروں کو ان کے کینہ کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں تاوقتیکہ وہ کینہ پروری چھوڑ دیں۔

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلیؐ نے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویں شب ہوتی ہے تو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ کیا کوئی مغفرت کا طالب ہے کہ میں اس کی مغفرت کردوں کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اس کو عطا کردوں ۔۔۔ اس وقت بندہ اللہ تعالیٰ سے جو مانگتا ہے اس کو ملتا ہے سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرہویں شب (شب برأت) میں کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے دریافت کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہوتا ہے؟

حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ اس شب میں یہ ہوتا ہے کہ اس سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہیں وہ سب لکھ دےئے جاتے ہیں اور جتنے اس سال میں مرنے والے ہیں وہ سب بھی اس رات میں لکھ دےئے جاتے ہیں اور اس رات میں سب بندوں کے اعمال (سارے سال) اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی مقررہ روزی اتاری جاتی ہے۔

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرمؐ شعبان میں روزے رکھنے کو بہت زیادہ محبوب رکھتے تھے، ایک مرتبہ میں نے آپ ؐ سے اس کی وجہ پوچھی تو آپؐ نے جواب میں فرمایا کہ! اے عائشہ جن لوگوں نے اس سال میں مرنا ہوتا ہے ملک الموت ان کے نام اس مہینہ میں لکھ لیتا ہے اس لئے مجھ کو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ اگر میرا نام بھی اس فہرست میں جس وقت لکھا جائے اس وقت میں روزے کی حالت میں ہوں۔

ایک روایت میں ہے کہ حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ شعبان، رجب اور رمضان المبارک کے درمیان ایک مہینہ ہے اور اس کی عظمت وفضیلت سے لوگ غافل ہیں اس مہینہ میں بندوں کے عمل اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اس لئے میں اس بات کو دوست اور محبوب رکھتا ہوں کہ جب میرے اعمال اٹھائے جائیں تو میں روزے سے ہوں۔

شب برأت کی عظمت وفضیلت کے بارے میں جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یسارؒ فرماتے ہیں کہ شب قدر کے بعد شعبان کی 15ویں شب (شب برأت) سے زیادہ کوئی رات افضل نہیں۔ سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ؐ نے فرمایا کہ جب شعبان کی 15ویں شب آئے تو رات کو نماز پڑھو اور اگلے دن روزہ رکھو، کیونکہ غروبِ آفتاب سے لے کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر رہتے ہیں اور فرماتے ہیں ’’ہے کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا کہ میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی رزق طلب کرنے والا کہ میں اسے رزق دیدوں؟ ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے اسے مصیبت سے نجات دوں؟ ہے کوئی ایسا ۔۔۔ ہے کوئی ایسا ۔۔۔

اس رحمت وبرکت اور بخشش ومغفرت والی رات (شب برأت) میں خوب عبادت وریاضت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہوگا اور تکبر، عناد، حسد، بغض کینہ، شراب نوشی، زنا کاری اور رشتہ داروں سے قطع تعلقی کو ختم کرتے ہوئے سچے دل سے توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی پیشانی کو جھکاتے ہوئے انتہائی خشوع وخضوع، عاجزی وانکساری کے ساتھ گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش ومغفرت، جہنم سے پناہ اور جنت الفردوس کے لئے دُعائیں کرنا ہوں گی۔

اس مبارک رات کو آتش بازی، کھیل تماشے کی نذر کرنا انتہائی بدبختی کی علامت اور ہندوانہ رسومات پر عمل پیرا ہو کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت وبرکت اور اس کی بے پایاں بخشش ومغفرت سے دور کرنے کے مترادف ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...