دوماہ میں ہزارہ برادری کی نسل کشی میں تیزی آگئی،علامہ ناصرعباس

دوماہ میں ہزارہ برادری کی نسل کشی میں تیزی آگئی،علامہ ناصرعباس

  



اسلام آباد( سٹاف رپورٹر)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مرکزی کابینہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں ہزارہ برادری کی نسل کشی میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ بلوچستان اہل تشیع کی قتل گاہ بن چکا ہے۔ ملت تشیع کے ڈیرھ ہزار سے زائد افراد اب تک شہید کیے جا چکے ہیں۔زخمیوں کی تعداد بھی کئی ہزاروں میں ہے۔دہشت گردی کے مختلف واقعات میں پولیس ،سیکورٹی فورسز اور شیعہ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگز کی گئی جن کی ذمہ داری داعش نے قبول کی جبکہ ہمارے حکمران ملک میں داعش کی موجودگی سے انکاری ہیں۔جو قومی سلامتی کے حساس معاملات سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ کوئٹہ کے مظلوم لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔اپنی جان بچانے کے لیے دوسرے ملکوں سے پناہ لی جا رہی ہے۔بلوچستان کی سرزمین پر ہزاروں افراد کے قاتل آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔حکومت نام کی کوئی چیز وہاں پر موجود نہیں۔انہوں نے کہا ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے والے سی پیک منصوبے کے دشمن ہیں۔وہ پاکستان کو کسی بھی اعتبار سے مستحکم نہیں دیکھنا چاہتے۔یہی عناصر بلوچستان کے حالات خراب کر رہے ہیں۔انہوں نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کی صورتحال کا نوٹس لیں اور وہاں جا کرشہدا کے لواحقین سے ملیں تاکہ انہیں داد رسی ہو۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جب تک بلوچستان کا دورہ کرکے سخت احکامات صادر نہیں کرتے تب تک وہاں امن کا قیام ممکن نہیں۔اگر وہاں کے لوگوں کے زخموں پر مرہم نہ رکھا گیا ان کے اضطراب میں اضافہ ہو گا۔بلوچستان سے دہشت گردی کی اٹھنے والی تازہ لہر پر اگر قابو نہ پایا گیا تو ایک بار پھر یہ پورے ملک میں پھیل سکتی ہے۔انہوں نے کہ صحافیوں اوردانشوروں سمیت ہر باشعور طبقے کو بلوچستان کے شیعہ ہزارہ کی حمایت میں آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے رکن صوبائی اسمبلی ،وزیر قانون آغا رضا کے دھرنے کو ان کے درد دل کا نام دیتے ہوئے کہا کہ قوم کے لیے ان کے بے لوث اور مخلصانہ جذبات لائق داد و تحسین ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتی معاملات پر حکمرانوں کی کمزور گرفت کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اپنے جائز حقوق کے لیے بھی ایک وزیر دھرنے دینے پر مجبور ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...