سندھ میں لسانیت کی بنیاد پر کوئی ووٹ نہیں لے سکتا ،ضیا الحسن لنجار

سندھ میں لسانیت کی بنیاد پر کوئی ووٹ نہیں لے سکتا ،ضیا الحسن لنجار

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر قانون ضیاالحسن لنجار نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگ اب بہت باشعور اور سمجھدار ہوچکے ہیں اور اب لسانیت کی بنیاد پر کوئی ووٹ نہیں لے سکتا جو لوگ آج کراچی میں مردم شماری کے معاملے پر شور مچارہے ہیں وہ پہلے کہاں تھے انہیں لوگوں کو کم گننے کا اب خیال کیوں آرہا ہے۔ اس حوالے سے ہماری قیادت پر الزام تراشی درست نہیں ۔انہوں نے یہ بات پیر کو سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے کامران اختر کے ایک توجہ دلا نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہی جس مین انہوں نے کراچی میں مردم شماری کے عمل کے دوران شہری آبادی کو کم شمار کرنے کے معاملے کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ فاضل رکن کا کہنا تھا کہ مردم شماری میں شہری سندھ کے ایک کروڑ افراد کو لاپتہ کردیاگیا،کراچی کی آبادی کوکم دکھایاگیا،دانستہ طور پر شہری سندھ میں سینسزبلاکس کم رکھے گئے۔انہوں نے کہا کہ انور مجید کوگیس نہ ملے تو وفاق سے علیحدگی کی دھمکی دی گئی مگر شہر ی سندھ کی آبادی کم ہونے پر حکومت نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی کم ہوگی تو نقصان سندھ کا ہے۔ سندھ کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے مردم شماری میں کم گننے پر کوئی احتجاج نہیں کیا،سندھ حکومت نے مہاجروں کومردم شماری میں باہر رکھا ۔انہوں نے کہا کہ ایان علی انورمجید کے مفادات کی محافظ جماعت مردم شماری پرخاموش ہے۔وزیر قانون نے کہا کہ پیپلزپارٹی کراچی میں ہر جگہ موجود ہے ۔ لیاقت آباد میں کل کا جلسہ اس بات کا کھلاثبوت ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی امیر حیدر شاہ شیرازی کے ایک توجہ دلا نوٹس کے جواب میں جو سندھ میں پانی کی قلت سے متعلق تھا وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ وفاق میں ن لیگ کی حکومت ہے،پنجاب میں پانی مل رہاہے لیکن سندھ سوکھ رہاہے۔انہوں نے وفاق سے کہا کہ وہ یہ بتائے کہ سندھ کو پانی سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو 60فیصد پانی کی قلت کاسامناہے،ہم تو بے بس ہیں پانی کی کمی کا سوال وفاق سے پوچھاجائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...