عید اور خوشی کے مواقع پر فائرنگ پختون کلچر کا اہم جز ہے ،رپورٹ

عید اور خوشی کے مواقع پر فائرنگ پختون کلچر کا اہم جز ہے ،رپورٹ

پشاور(کرائم رپورٹر)عیداور دوسرے خوشی کے مواقع پر ہوائی فائرنگ ہمارے پختون کلچر کا ایک اہم جز بن چکا ہے۔ ہر سال ملک بھر میں درجنوں افراد ہوائی فائرنگ کی وجہ سے جاں بحق ہوتے ہیں۔ اور بے گناہ اور معصوم شہریوں کی ہلاکت کا سلسلہ ختم ہو نے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ہوائی فائرنگ ایک غلط رواج اور بلا منطق جواز اظہارِ خوشی ہے لیکن یہ ہماری زندگی میں اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ اس کے بغیر کوئی خوشی منانا نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔ اگر کسی کا بچہ امتحان میں پاس ہو جائے، کسی کے ہاں نرینہ اولاد کی پیدائش ہو، چاند نظر آنے کے مواقعے، شادی اور منگنی کی تقریبات ہو، الیکشن میں کوئی سیاست دان کامیاب ہو یا کسی کی برتھ ڈے کی تقریب ہو۔ ہوائی فائرنگ کو ہم نے ہر موقع کے لیے لازمی قرار دیا ہوا ہے اور اپنی خوشیوں کو اس کے بغیر نامکمل سمجھتے ہیں۔ہم اس چیز کا بالکل خیال نہیں رکھتے کہ اس خوشی میں فائر کی گئی گولی سے کوئی ہلاک یا شدید زخمی ہو جائے گااور فائر شدہ گولی تو بدقسمت لوگوں کے سروں پر گرے گا کیونکہ ہر طرف گنجان آباد علاقے ہیں۔ چند لمحوں کی خوشی کے لیے ہم ایک شخص کی جان لیتے ہیں جو بعض اوقات پورے بڑے خاندان کا واحد کفیل ہوتا ہے۔ چند سال پہلے ایک نوجوان لیڈی ڈاکٹر شوانا پشاور صدر میں اسوقت ہوائی فائرنگ کی شکار بنی جب وہ اپنے ماں کے ساتھ شاپنگ کررہی تھیں۔ یہ واقعہ بہت اچانک رونما ہوا وہ چیخ اُٹھیں اور زمین پر گرگئیں۔ ان کی والدہ کی بھی اسوقت کی حیرانگی کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے اپنے اردگرد کوئی دشمن پایا اور نہ فائرنگ کی آواز سنی اور اسکے باوجود ان کی لاڈلی بیٹی کی سر سے خون بہنا شروع ہوا۔ ہوائی فائرنگ کا شکار بننے والے اس نوجوان لیڈی ڈاکٹر کی موت پر معاشرے کے ہر مکتب فکر کے افراد نے اس کی پر زور مذمت کی۔ اس افسوسناک واقعے نے اسوقت کی معاشرے کے ضمیر کو جگایا اور اس نے مختلف سمینارز اور واک کا اہتمام کرکے ہوائی فائرنگ کے خلاف ایک مہم چلائی۔ عوام میں ہوائی فائرنگ کے خلاف شعور اُجاگر کیا جارہا ہے ۔ ایک صوبائی وزیر اطلاعات کے ذاتی معاون اپنے گھر کی صحن میں سوئے ہوئے اندھی ہوائی گولی کا شکار بنے۔ اس طرح واقعات آئے روز ہوتے رہتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں عید کے موقع پر ہر عمر کے کئی ایک قیمتی جانیں ہوائی فائرنگ کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...