پورا دن دفتر میں بیٹھنے سے جسم پر کیا اثرات آتے ہیں؟ یہ خبر پڑھ کر آپ کی دوڑیں لگ جائیں گی

پورا دن دفتر میں بیٹھنے سے جسم پر کیا اثرات آتے ہیں؟ یہ خبر پڑھ کر آپ کی دوڑیں ...
پورا دن دفتر میں بیٹھنے سے جسم پر کیا اثرات آتے ہیں؟ یہ خبر پڑھ کر آپ کی دوڑیں لگ جائیں گی

  


لندن(نیوز ڈیسک)کیا کیجئے کہ آج کے دور میں اکثر لوگوں کے کام کی نوعیت ایسی ہو گئی ہے کہ وہ دن بھر دفتر کی کرسی پر بیٹھے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں، مگر آٹھ گھنٹے یا اس سے زائد وقت کے لئے یوں بیٹھے رہنا صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ بائیو مکینکس اینڈ پوسچر ایکسپرٹ ڈیل میریڈے نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس موضوع پر ایک تحقیق کرکے تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ جب آپ سارا دن دفتر میں بیٹھے رہتے ہیں تو آپ کے جسم پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہے۔

ڈیل میریڈے کہتی ہیں کہ اکثر لوگ اپنے کمر درد اور جوڑوں کے مسائل کے لئے اپنی کرسی اور میز کو لعن طعن کرتے رہتے ہیں لیکن انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ ان چیزوں کا صحیح استعمال بھی کررہے ہیں یا نہیں۔ اگر ہم اس طرح بیٹھیں یا کھڑے ہوں کہ ہمارے تمام 639 مسل ایک ٹیم کے طور پر کام کررہے ہوں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عموماً ہم ایسی حالت میں بیٹھتے ہیں کہ 639 میں سے صرف 10 مسل کام کررہے ہوتے ہیں۔ یعنی کچھ مسل تو ضرورت سے زیادہ کام کررہے ہوتے ہیں لیکن اکثر مسل غیر متحرک ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری کمر، گردن اور کندھوں کے مسلز میں عدم توازن پیدا ہوجاتا ہے جس کا اثر جسم کے 100 سے زائد جوڑوں پر بھی پڑتا ہے۔

اکثر لوگ کرسی پر سیدھے بیٹھنے کی بجائے نیم دراز حالت میں بیٹھتے ہیں۔ اس سے ناصرف آپ کی کمر کے مسلز کھنچاﺅ کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ایسے میں جب آپ کمپیوٹر کی سکرین پر نظر جمانے کے لئے گردن کو جھکاتے ہیں تو گردن کے مسل بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس مسئلے سے بچنے کے لئے ایک تو کرسی پر سیدھے ہوکر بیٹھیں اور دوسرا کمپیوٹر کی سکرین آپ کی آنکھوں کے لیول پر ہونی چاہیے تاکہ آپ کو اسے دیکھنے کے لئے سر نہ جھکانا پڑے۔

کوشش کریں جب آپ کرسی پر بیٹھے ہوں تو آپ کے پاﺅں آپ کے گھٹنوں کے نیچے سیدھ میں ہوں، ناکہ بہت آگے یا بہت پیچھے کی جانب۔ دونوں پیروں کے درمیان تقریباً ایک ہتھیلی کا فاصلہ ہو تو بہتر ہے۔ اپنے بازﺅں کو آرام دہ حالت میں رکھئے اور کمر اور گردن کو زیادہ سے زیادہ سیدھا رکھنے کی کوشش کریں، اس طرح کہ یہ عمل آپ کے لئے مشقت یا تھکاوٹ کا باعث نہ بنے۔

تو جناب، دن بھر بیٹھ کر کام کرنا تو آپ کی مجبوری ہو سکتی ہے لیکن یہ آپ کی مجبوری ہرگز نہیں کہ آپ بیٹھنے کا صحیح انداز اختیار نا کریں۔ اپنی کمر اور جوڑوں کے مسائل پر کڑھتے رہنے کی بجائے کوشش کیجئے کہ بیٹھنے کا درست انداز اپنائیں اور وقفے وقفے سے اٹھ کر تھوڑ اچل پھر بھی لیا کریں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ


loading...