اگر بچے یہ سوال بار بار کرتے ہیں تو یہ ان کی ذہانت کی علامت ہوتی ہے، ایسا کون سا سوال ہے اور اس کا کیا جواب دینا چاہیے؟ جانئے

اگر بچے یہ سوال بار بار کرتے ہیں تو یہ ان کی ذہانت کی علامت ہوتی ہے، ایسا کون ...
اگر بچے یہ سوال بار بار کرتے ہیں تو یہ ان کی ذہانت کی علامت ہوتی ہے، ایسا کون سا سوال ہے اور اس کا کیا جواب دینا چاہیے؟ جانئے

  


واشنگٹن(نیوز ڈیسک)وہ ایک لفظ جو اکثر والدین کا دماغ گھما دیتا ہے ”کیوں“ ہے۔ یہ وہ لفظ ہے جو ننھے بچے بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ یہ ایسے کیوں ہے، وہ ایسے کیوں تھا، آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو گویا بچوں کے دماغ پر ہمیشہ سوار رہتے ہیں، اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان سوالوں کی کبھی حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہئیے کیونکہ یہ بچے کی ذہانت کی علامت ہیں۔

امریکا میں 6ہزار 200 بچوں پر کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو بچے لفظ ”کیوں“ کیا زیادہ استعمال کرتے ہیں، یا دوسرے لفظوں میں یہ کہئیے کہ زیادہ سوال اٹھاتے ہیں وہ زیادہ ذہین ہوتے ہیں اور سکول میں ان کی کارکردگی دیگر بچوں کی نسبت کہیں بہتر ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف مشی گن سے تعلق رکھنے والے سائنسدان ڈاکٹر پراچی شا نے اس تحقیق کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ”بچوں میں سوال پوچھنے کے رویے کی حوصلہ شکنی ہرگز نہیں کرنی چاہیے ۔ خصوصاً وہ بچے جن کا تعلق غریب اور پسماندہ گھرانوں سے ہے انہیں سوال پوچھنے پر مائل کرنا چاہیے۔ یہ ان کی کارکردگی کو بہتر بناسکتا ہے۔ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں میں سوال اٹھانے کا رویہ ان کی مجموعی کارکردگی میں زیادہ بہتری لاتا ہے۔ ہم نے چھ ہزار 200 بچوں کے والدین کو اس تحقیق میں شامل کیا اور ان سے معلوم کیا کہ عمر کے مختلف حصوں میں ان کے بچے میں سوال اٹھانے کا رویہ کس حد تک موجود تھا۔ اس کے بعد سکول میں ان بچوں کی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ یہ بات واضح طور پر دیکھنے میں آئی کہ جو بچے ہر بات کے متعلق سوال اٹھاتے ہیں ان کی تعلیمی کارکردگی دیگر بچوں سے نمایاں طور پر بہتر ہوتی ہے۔“

جی، کیا سمجھے آپ؟ مختصر بات یہ ہے کہ بچہ کوئی سوال اٹھائے تو اسے ڈانٹ کر چپ مت کروائیے بلکہ اس کے سوال کا جواب دیجئے۔ اس کے علم میں اضافہ ہو گا اور مزید سوال اٹھانے کی ترغیب بھی ملے گی۔ وہ سوال پوچھے گا تو اس کا ذہن روشن ہو گا، ورنہ ہر بات پر چپ کروانے سے تو بیچارہ کچھ جاننے کی بجائے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...