بجٹ مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا،نئی حکومت اپنی مرضی سے ترقیاتی منصوبے شروع کر سکے گی: گورنرسندھ محمد زبیر عمر

 بجٹ مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا،نئی حکومت اپنی مرضی ...
 بجٹ مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا،نئی حکومت اپنی مرضی سے ترقیاتی منصوبے شروع کر سکے گی: گورنرسندھ محمد زبیر عمر

  


کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کے رہنما اور گورنرسندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ بجٹ 2018-19 ء مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا ہ جو آئندہ منتخب ہونے والی حکومت کے لئے بھی قابل قبول ہوگا، بجٹ میں 70 سے 80 ارب روپے کے ترقیاتی کاموں کی گنجائش رکھی گئی ہے تاکہ نئی حکومت اپنی مرضی سے نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرسکے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں منعقدہ ’’ پوسٹ بجٹ سیمینار ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے  گورنر سندھ نےکہا کہ گذشتہ برس ترقیاتی شرح 5 فیصد تھی جبکہ فروری 2018 ء میں یہ 5.79 فیصد تک ہوگئی ہے، موجودہ حکومت کی بہتر اور منظم انتظامی کارکردگی شعبہ زراعت میں 3.81 فیصد ، انڈسٹریز میں 5.8 اور سماجی خدمات کے شعبہ میں 6.43 فیصد رہی، یہ گذشتہ 13 برس میں سب سے زیادہ ترقیاتی شرح ہے اس دوران اگر سیاسی عدم استحکام نہ ہوتا اور موجودہ حکومت کو کام کرنے دیا جاتا تو یہ ترقیاتی شرح 6.1 فیصد ہوسکتی تھی۔انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہورہی ہے یہ بات بتاتے ہوئے کہ معاشی ترقی کی شرح اطمینان کے لحاظ سے پاکستان عالمی سطح پر 5 ویں نمبر پر آگیا ہے ، عالمی معاشی جریدے بھی پاکستان کی ترقیاتی کارکردگی کا اعتراف کرچکے ہیں ، گذشتہ برس 2017-18 ء میں معاشی شرح 5.8 رہی آئندہ برس یہ شرح 6 فیصد تک ہونے کی قوی امید ہے افراط زر کم سے کم 4 فیصد رہی ، گذشتہ حکومت کے محاصل 1946 ارب روپے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آئندہ مالی برس اس کا ہدف4013 ارب روپے تک رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی خسارہ 2018-19 ء میں 5.2 فیصد تک ہوگا ، گذشتہ حکومت نے وفاقی ترقیاتی بجٹ 348 ارب روپے کا پیش کیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے یہ 1001 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش کیا ہے ، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ میں توانائی کے نئے منصوبے سے اگلے مالیاتی برس پاکستان کی ترقی کی شرح 6.25 فیصد ہوسکتی ہے ، آئندہ منتخب حکومت کے لئے مضبوط معاشی نظام موجودہ حکومت کا تحفہ ثابت ہونگے ۔

مزید : قومی


loading...