اپنے ہم سفر کو کب چھوڑ دینا چاہیے؟ وہ 6 چیزیں جنہیں جان کر آپ کو اپنے معشوق کے بارے میں احتیاط کرنی چاہیے

اپنے ہم سفر کو کب چھوڑ دینا چاہیے؟ وہ 6 چیزیں جنہیں جان کر آپ کو اپنے معشوق کے ...
اپنے ہم سفر کو کب چھوڑ دینا چاہیے؟ وہ 6 چیزیں جنہیں جان کر آپ کو اپنے معشوق کے بارے میں احتیاط کرنی چاہیے

  


برمنگھم(نیوز ڈیسک)شادی کا تعلق عمر بھر کے لئے استوار کیا جاتا ہے اور اگر یہ فیصلہ کرتے ہوئے غلطی ہو جائے تو پچھتاوا بھی عمر بھر کا ہی ہوتا ہے۔ تو کیوں نا شریک سفر کے انتخاب میں احتیاط برتی جائے؟ یہ سوچ بچار شادی سے قبل ہی کر لینی چاہئیے کہ آپ دونوں کا باہمی تعلق کیسا ہے اور آئندہ زندگی کیسی گزرے گی۔ اگرچہ یہ معاملہ قدرے پیچیدہ ہے تاہم کچھ ایسی باتیں ضرور ہیں جو آپ کو اشارہ دیتی ہیں کہ عمر بھر کا تعلق استوار کرنا درست فیصلہ نہیں ہو گا۔

نفسیاتی و سماجی مسائل کے ماہر عیسایہ میکمی اس موضوع پر لکھے گئے خصوصی مضمون میں بتاتے ہیں کہ آپ کسی سے طویل رفاقت چاہتے ہیں تو ضرور یہ دیکھئے کہ کہیں آپ، وہ، یا آپ دونوں ہر بات کا حساب رکھنے میں تو نہیں لگے رہتے۔ تم نے فلاں وقت یہ کہا تھا، تم نے اس وقت میرے لئے یہ نہیں کیا تھا، میں نے تمہارے لئے یہ بھی کیا وہ بھی کیا، یہ سب ایسی باتیں ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ آپ لمبے عرصے کے تعلق کے لئے تیار نہیں ہیں۔ آپ ہر بات کا حساب رکھتے ہیں اور اگلی بار جب تکرار ہوتی ہے تو اس میں سب باتوں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ دراصل یہ بات خود غرضی کی علامت ہوتی ہے اور جھگڑے کو بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔

اگر آپ ہمیشہ خود کو مظلوم سمجھتے ہیں، یا آپ کا محبوب ایسا سوچتا ہے تو یہ بھی مثبت علامت نہیں۔ آپ جو بھی کرتے ہیں اسے دوسرے کے لئے قربانی خیال کرتے ہیں تو فطری طور پر آپ کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ اس تعلق میں آپ کے لئے فائدہ کم او رنقصان زیادہ ہے۔

اگر آپ ہمیشہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ آپ کے کہے بغیر آپ کے محبوب کو معلوم ہوجانا چاہیے کہ آپ کیا سوچ رہے ہیں یا کیا چاہ رہے ہیں تو یہ بھی مسائل کی علامت ہے۔ آپ کو کوئی شکوہ ہے یا آپ کے دل میں کوئی بات ہے تو اسے کہنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر آپ ایسا نہیں کرتے اور سوچتے ہیں کہ دوسرے کو خود ہی یہ بات سمجھنی چاہئیے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ دونوں بہرحال ایک دوسرے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

محبوب کے رویے میں یک لخت کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ انسان کی فطرت اور عادت میں باآسانی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی اور اگر آپ کوئی تبدیلی چاہتے بھی ہیں تو اس کی توقع ایک لمبے عرصے کے دوران کی جاسکتی ہے۔ اگر آپ محبوب کے کسی رویے یا بات سے اتنے تنگ ہیں کہ اسے برداشت نہیں کر پارہے اور اس میں تبدیلی کے لئے انتظار بھی نہیں کر سکتے تو سمجھ لیں کہ یہ تعلق بہت لمبے عرصے تک نہیں چل سکتا۔

اگر آپ کو ہمیشہ یہ شکوہ رہتا ہے کہ محبوب آپ کی محبت یا شفقت کا مناسب ردعمل نہیں دیتا تو یہ آپ کے باہمی تعلق سے عدم اطمینان کی علامت ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اس کے لئے بہت کچھ کررہے ہیں لیکن اسے اس کا اعتراف نہیں ہے۔ یہ خیال دو طرفہ بھی ہوسکتا ہے۔ بہرحال یہ بات واضح ہے کہ اگر آج آپ کو محبت کے بدلے محبت نہیں مل رہی تو آئندہ بھی نہیں ملے گی۔ تو سوچ لیجئے کہ اس طرح کا رشتہ کب تک برقرار رہے گا؟

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...