تحریک انصاف کے رہنما ءکا اپنے ملازم پر شرمناک تشدد، پولیس موقف دینے سے بھی انکاری

تحریک انصاف کے رہنما ءکا اپنے ملازم پر شرمناک تشدد، پولیس موقف دینے سے بھی ...
تحریک انصاف کے رہنما ءکا اپنے ملازم پر شرمناک تشدد، پولیس موقف دینے سے بھی انکاری

  

گھوٹکی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنما افتخار لونڈ اور تین دیگر افراد کے احکاما ت پر سیاسی رہنماءکے ملازم اور وین ڈرائیور پر بدترین تشدد کیا جس سے اللہ رکھیو نامی متاثرہ شخص کی حالت غیرہوگئی اور زخمی حالت میں بچوں نے پیر کی رات میرپورماتھیلو ہسپتال منتقل کیا۔ اس ضمن میں پولیس نے موقف دینے سے انکار کردیاتاہم وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

انگریزی جریدے’ڈان ‘ نے متاثرہ شخص کے بیٹے کے حوالے سے بتایاکہ اللہ رکھیو اور شفیق لونڈ کے درمیان کوئی تنازعہ ہوا جس کے بعد اسے افتخار کی رہائش پر بلایاگیاجہاں اسے شفیق ، رفیق اور ممتاز علی نے افتخار لونڈ کی موجودگی میں تشدد کا نشانہ بنایا۔اس کے بعد اللہ رکھیو نے حسین کو بلایاجو اسے ہسپتال لایااوراس کے نازک حصوں پر آٹھ ٹانکے لگے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ویڈیو میں اللہ رکھیو کو سٹریچر پر اوندھے منہ پڑھے دیکھاجاسکتاہے ۔

خان پور مہر تھانے میں افتخار، ممتاز، شفیق اور رفیق کیخلاف متاثرہ شخص کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیاگیاتاہم اس خبر کے فائل ہونے تک کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔ ایس ایچ او ذوالفقار مہر اور ایس پی گھوٹکی فرخ نے اس سلسلے میں موقف دینے سے انکار کردیا۔ادھر تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے بھی یہ کہہ کر موقف دینے سے انکار کردیا کہ ان کے پاس اس سلسلے میں تفصیلات دستیاب نہیںلیکن یہ تصدیق کی کہ ضلع گھوٹکی کے سابق صدر افتخار ابھی بھی تحریک انصاف کے رکن ہیں۔

ادھر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈرائیور پر غیر انسانی تشدد پر نوٹس لے لیااور کمشنر سکھر سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کی بھی تذلیل کرنے کا حق کسی کو نہیں۔ سندھ میں غریب ہو یا امیر، ذاتی ملازم ہو یا کوئی اور سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی /علاقائی /سندھ /گھوٹکی /جرم و انصاف