آج کے گوادر میں موجود اومان کی نشانیاں جن کے بارے میں پاکستانیوں کو معلوم نہیں

آج کے گوادر میں موجود اومان کی نشانیاں جن کے بارے میں پاکستانیوں کو معلوم ...
آج کے گوادر میں موجود اومان کی نشانیاں جن کے بارے میں پاکستانیوں کو معلوم نہیں

  



گوادر(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک چین اقتصادی راہ داری منصوبے پر کام شروع ہونے کے بعد پاکستان کا مستقبل گوادر شہر سے جڑ چکا ہے۔بہت سے لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ گوادر کبھی اومان کا حصہ ہوا کرتا تھا جو 1958ءمیں پاکستان نے خرید لیا۔ تاہم پاکستا ن کا حصہ بن جانے کے بعد بھی گوادر میں اومان کی کچھ ایسی نشانیاں اب بھی موجود ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ نہیں جانتے ہوں گے۔ عرب نیوز کے مطابق 1783ءمیں اومان کے حکمران تیمور سلطان کو شکست ہوئی اور وہ بھاگ کر ریاست قلات آ گیا جہاں میر نوری نصیر خان بلوچ کی حکومت تھی۔ میری نوری نے بادشاہ تیمور سلطان کو انتہائی عزت و تکریم دی اور گوادر اس کو دے دیا۔ تیمور سلطان نے گوادر پر حکومت کے دوران طاقت مجتمع کی اور دوبارہ اومان پر قبضہ کر لیا۔ واپس اومان چلے جانے کے بعد بھی گوادر تیمور سلطان کے زیرتسلط رہا اور اس نے یہاں اپنا ایک منتظم مقرر کر دیا۔

اومان حکومت نے اپنے دور میں گوادر میں 3قلعے تعمیر کروائے اور ٹیلی گرام کی لائن بھی اس شہر تک بچھائی۔ اس کے علاوہ دیگر کئی ایسے تعمیرات کرائیں جو آج بھی گوادر پر اومان کے دورحکومت کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ 8ستمبر 1958ءکو پاکستان نے ساڑھے 5ارب روپے(ڈالر کی آج کی قدر کے مطابق 3ارب 80کروڑ 90لاکھ ڈالر)میں خریدا۔ اس کے ساتھ ہی گوادر میں اومان کی حکومت ختم ہو گئی لیکن اومان حکومت نے جس طرح اس چھوٹے سے قصبے کو ایک بڑے شہر میں تبدیل کیا، اس دور کی سنہری یادیں آج بھی شہر کے کونے کونے میں موجود ہیں۔پرانے میونسپلٹی آفس کے باہر ایک توپ کا دہانہ رکھا ہے۔ یہ وہ توپ تھی جس کے ذریعے گولہ داغ کر عید الفطر کا اعلان کیا جاتا تھا۔ آخری روزے کی رات یہ گولا داغا جاتا جس سے شہریوں کو معلوم ہو جاتا کہ کل عید ہو گی۔ باقی بلوچستان کی نسبت گوادر میں کھانے پینے کی روایات مختلف ہیں۔ یہاں کے کھانوں میں آج بھی عربی کھانے شامل ہیں جن میں سے ایک ’سکون‘ (Sukoun)ہے۔ باقی بلوچوں کی نسبت آج بھی گوادر کے لوگ ماہ رمضان میں کھجوروں اور لسی کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں اور کھانا نماز تراویح کے بعد کھاتے ہیں جو کہ عربوں کی روایت تھی۔گوادر کے رہائشی عمررسیدہ شخص کریم نے وہ دور بھی دیکھا ہے جب یہاں اومان کی حکومت ہوا کرتی تھی۔ اس نے توپ کے ان گولوں کی آواز بھی سن رکھی ہے جو عید کے اعلان کے لیے داغے جاتے تھے۔ اس کا کہنا ہے کہ ”گوادر کا شاہی بازار، تین قلعے اور کئی دوسری ایسی چیزیں ہیں جو ہمیں آج بھی اومان کی حکومت کے دنوں کی یاد دلاتی ہیں۔ عام طور پر جب کسی خطے پر غیرملکیوں کی حکومت قائم ہو تو مقامی لوگ مزاحمت کرتے ہیں اور لڑائیاں ہوتی ہیں لیکن گوادر پر اومان کی حکومت کا معاملہ یکسر مختلف تھا۔ یہاں اومان کے لیے محبت ہی محبت ہوا کرتی تھی اور آج بھی ہے۔“

مزید : علاقائی /بلوچستان /گوادر