”بھاجپا“ ہی جیت جائے گی پھر۔۔ خوامخواہ؟؟؟

”بھاجپا“ ہی جیت جائے گی پھر۔۔ خوامخواہ؟؟؟
”بھاجپا“ ہی جیت جائے گی پھر۔۔ خوامخواہ؟؟؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

غیرمعمولی ذہین آدمی میں ایک بڑی کمزوری ہوتی ہے،وہ جب طاقتور کا توڑ کہیں نہیں پاتا تو اُس کا سب سے بڑا ہمدرد اور وکیل بن جاتا ہے پھر  وہ طاقتور کی ضرورت بن جاتا ہے گویا اِنڈین مِیڈیا بھی آج کل، المختصر، بھاجپا کا بھونپو بن چکا ہے۔ یقیناً، میڈیا جیسے اَہم ستونِ جمہوریت کے بارے میں ایسے اَلفاظ کا استعمال اچھا نہیں مگر،اِنڈین میڈیا کا رویہ تو اور برا ہے، جس کا فرض تو اپنی قوم کو بَروقت اور دُرست خبر پہنچانا ، پھر حقائق کا بے لاگ تجزیہ کرنا ہے جبکہ وہ تو ریاست میں موجود ، سب سے بڑی قوت کا ہمنوا بن چکا ہے، بس اُسی کی ہاں میں ہاں ملاتا جاتا ہے۔۔۔ یہ پھر صحافت کہاں ہے؟یہ تو ایک نسل کی وہ حماقت ہے جس کی نَدامت پھر اگلی نسل اُٹھاتی ہےاور  یہ حماقت ہے،طاقتور کی مدد میں حدسے گذر جانا، قانون کو طاقتور کی فراست سے کمتر سمجھنا، پھر طاقتور کو، اَور ہی اُلٹا سیدھا ،قانون بنا نے کی کھلی چھوٹ دینا! تو ، یہ حماقت اِنڈین میڈیا کا بڑا حصہ پھر زور و شور سے کرتا جا رہا ہے۔۔۔
اِنڈین میڈیا ایسا کیوں کر رہا ہے؟ اس کی بڑی وجوہات دو ہیں۔ اول، ”بھاجپا“ کی دہشت بھی دِماغوں کو جکڑتی ہے۔ دَوم، دِلوں میں یہ آس بھی رہتی ہے کہ پورے ہندوستان میں فقط ایک ”بی جے پی“ ہے ، جو ہندو کے تحفظ کی خاطر کسی سے بھی ٹکرا سکتی ہے اور صرف ایک مودی جی کا دَم ہے، جو اپنا چھپن اِنچ کا سینہ پھُلا کر کسی بھی وار کے سامنے دیوار بن سکتے ہیں وہ ناقابلِ تسخیر دیوار کہ جس کے پیچھے ہندو بہرحال محفوظ ہی رہتا ہےتو حتیٰ کہ اِنڈین میڈیا کی بیشتر بڑی شخصیات بھی یہی یقین رکھتی ہیں کہ مودی ہے تو ہندوستان میں بڑی جان بھی ہے اور ہندو کی اونچی شان بھی ہے،پھر اپنی جان کی سلامتی اور آن بان میں بڑھوتری کی خاطر ، زیادہ تر اِنڈین نیوز اینکرز ، مہاشے مودی اور ”بی جے پی“ پر اَٹل بھروسہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
دراصل اپنے ہی گھر میں ایک طویل زمانہ تک محکوم وغلام رہنے والی قوم کی نفسیات میں خوف دَرخوف رہتا ہے اور مودی جی کو اُس ڈر کو ہوا دینا اور پھر تصوراتی طوفانوں کے سامنے اپنی چھاتی بطور ڈھال پیش کر دینے کا ہنر تو خوب آتا ہے،یہ کام تو وہ اپنی جوانی سے کرتے آئے ہیں اور  اِس دُنیا کا یہ طور بھی وہ کہیں پہلے ہی سمجھ گئے تھے کہ یہاں بندہ کے پاس طاقت بے پناہ ہو جائے تو پھر وہ کچھ بھی کر گذرے، اُس کو معافی مل کے رہتی ہے تو پھر یہی کہ اِس جہانِ خراب میں، اپنی طاقت بڑھانا اور بڑھاتے ہی جانا ، جینے کا بہترین قرینہ ہے اور  دُنیا میں ہنوز ، طاقت بہرصورت اُسی شخص کی بڑھتی جاتی ہے، جس کے ساتھ لوگ بڑھ چڑھ کے جُڑتے جاتے ہیں، پھر جس کی خاطر لوگ باگ مارنے مرنے پر بھی تُل جاتے ہیں۔
اور یار لوگ اُسی کی خاطر جان تک ہتھیلی پہ رکھنے کو تیار ہوتے ہیں کہ پہلے تو خوداپنے سر پر کفن باندھ کر لڑتا جو نظر آتا ہے۔۔۔ پھر، ایسے جنگجو کی جھلک نریندرا مودی نے گجرات میں تب دکھلا دی تھی جب انہوں نے اپنی وزارتِ اعلیٰ کو بظاہر تو داؤ پر لگا دیا تھااور  ویسی ہولناک انتظامی ناکامی پر کرسی چھن جاتی تو پھر شاید کمرہ عدالت سے ہوتے ہوتے ، جیل کی کوٹھری ہی میں باقی عمر گذر جاتی۔

گویا ویسی بے حسی دکھانا بڑا خطرہ مول لینے والے بات تھی۔ سزا تو پھر کڑی ہو سکتی تھی۔ ہاں مگر، یہ اَن ہونی تھی اور، قوم کا وہ ”بڑا“ کہ جس نے لوگوں کو ہزار سالہ بھڑاس نکالنے کا موقع، دِیگردَھرم و قوم پرست رہنماؤں کی نسبت، کہیں ”بے جگری“ سے دیا، ایسے ”اَنمول رَتن“ کو مجرم قرار دینے کا یارا پھر ہندوستان بھر میں کسی کو کہاں ہوتا! جو کہ پھر واقعتاً ہوا بھی نہ۔ ہاں، یہ مودی جی کو معلوم تھا کہ اُن کا بال بھی بیکا نہ ہو گا، جبکہ اُن کا نام پوری قوم میں کہیں اُونچا ضرور ہو جائے گا جو کہ ہوا اور آج تک ہے، آئندہ بھی رہے گا، یونہی؟ یا پھر نہیں؟؟؟ اِس اَمر کا حتمی فیصلہ بھی پھر کچھ دن میں ہو رہے گا۔۔۔
خیر، کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ انڈین میڈیا کی تمام تر سپورٹ کے باوجود ”بھاجپا“ کی قوت میں کچھ نہ کچھ کمی واقع ہو گی،کافی سیٹیں کانگریس لے اُڑے گی  مگر، سیاسی پنڈت سمجھتے ہیں اور یہی سمجھاتے ہیں کہ بَلا پہلے سے مضبوط اور متشدد ہو کر آئے گی۔ ہاں،سیانے یہ بھی کہتے ہیں ، یہ بھی ممکن ہے کہ خوب مضبوط کرسی مل جانے کے بعد ”بھاجپا“ کی ترجیحات کہیں بدل جائیں، اور وہ اپنی توانائی پھر مُناقشوں، ٹِنٹوں میں کھپانے کی بجائے اپنے دیس کو مہان تر بنا رکھنے پر ہی اپنی توجہ مبذول کر دے۔۔۔ پھر، ذرا تحریف کے ساتھ ، اَلمختصر: دیکھیں، کیا گذرے ہے ”ہَوا“ پر ”طُوفاں“ ہونے تک!
نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -