وائرس کے سفر کی داستانیں اور افسانے

وائرس کے سفر کی داستانیں اور افسانے

  

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ چین کو ووہان کی وائرالوجی لیبارٹریوں تک دُنیا کو رسائی دینی چاہئے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ وائرس کیسے پھیلا،دُنیا یہ سمجھنا چاہتی ہے کہ کووِڈ19کی وبا کیسے شروع ہوئی، بیجنگ کو شفاف طریقہ اپنانا چاہئے، چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے کہا ہے کہ امریکہ نے سابق سوویت یونین ممالک میں متعدد حیاتیاتی لیبارٹریاں قائم کی ہیں، لیکن ان کے کام، استعمال اور حفاظتی عوامل کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے جن پر مقامی لوگوں اور پڑوسی ممالک کو شدید تشویش ہے۔ امریکہ کو اِن لیبارٹریوں کے بارے میں دُنیا کے تحفظات کو سنجیدگی سے لینا چاہئے، مقامی افراد کی صحت اور سلامتی کا تحفظ ہونا چاہئے۔

کورونا وائرس کیسے پھیلا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نئے وائرس نے دُنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں کیسے لے لیا، ابھی تک اِس بارے میں حتمی طور پر کوئی بھی بات نہیں کہی جا سکتی، تاہم امریکہ اور چین کے درمیان لفظی جنگ کسی نہ کسی انداز میں جاری ہے۔ امریکی ریاستیں چین کے خلاف دعوے کر رہی ہیں،انفرادی طور پر بھی شہریوں کی جانب سے چین کے خلاف عدالتی کارروائیوں کی درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں۔ووہان میں جب وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا اور انفیکشن سے متاثرہ مریضوں اور اموات کی تعداد سامنے آنے لگی تو اُس وقت تک امریکہ اور یورپ میں اس کا مذاق اڑایا جا رہا تھا، کوئی بھی ملک وائرس پر سنجیدہ اظہارِ خیال نہیں کر رہا تھا۔صدر ٹرمپ نے متعدد بار میڈیا کے روبرو وائرس کی موجودگی کا مذاق اڑایا یہ تک کہا کہ یہ ویسا ہی وائرس ہے جیسا نزلہ و زکام کا۔ صدر ٹرمپ کے ان تمام بیانات کا لُب ِ لباب یہ تھا گھبرانے کی ضرورت نہیں،اِس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اُس وقت تک صدر کے پاس کوئی ایسی اطلاعات نہ تھیں کہ وائرس کسی لیبارٹری میں تیار ہوا ہے۔ عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) بار بار یہ اعلان کر چکا ہے کہ یہ وائرس کسی لیب میں تیار نہیں ہوا، لگتا ہے اُس وقت تک چین پر ”ملبہ“ ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اگر ہوتا تو یہ نہ کہا جاتا کہ یہ کوئی نیا وائرس نہیں ہے، پھر کہا گیا کہ یہ وائرس کسی چینی باشندے کی امریکہ آمد کی وجہ سے پھیلا،لیکن چین کا موقف یہ ہے کہ اس کی آمد چین آنے والے امریکی فوجیوں کے ذریعے ہوئی،تیور بتاتے ہیں یہ جنگ ابھی جاری رہے گی اور نہ جانے کتنے عرصے تک چلتی رہے، اِس وقت تک نہ تو کورونا کے خاتمے کا کوئی علم ہے اور نہ ہی اس کی ابتدا کے بارے میں کوئی ٹھوس معلومات۔امریکی میڈیا میں ایسی خبریں بھی شائع ہو چکی ہیں کہ امریکہ میں یہ وائرس یورپ کے راستے داخل ہوا، خود یورپ میں کہاں سے آیا یہ بھی تحقیق طلب ہے۔

اٹلی کے وزیراعظم نے تو بہت کھل کر کہہ دیا تھا کہ زمین پر کورونا نام کے کسی بحران کا وجود نہیں ہے اور یہ سب میڈیا کا پیدا کردہ ہے یہی وجہ ہے کہ اٹلی میں اِس وائرس کو سنجیدہ نہیں لیا گیا اور ہاتھ پاؤں اُس وقت پھولے جب پانی سر سے اونچا ہو گیا، ایسے میں اٹلی نے یورپی یونین سے شکوہ کر دیا کہ اس نے اٹلی کی کوئی مدد نہیں کی، امریکہ میں بھی ایسے سائنس دان اور ماہرین کی کوئی کمی نہیں ہے جن کا خیال ہے کہ چین کا وائرس کے پھیلاؤ میں کوئی کردار نہیں اور سب کچھ الزام تراشیوں اور ظن و تخمین کا کھیل ہے۔ امریکی اخبار ”نیو یارک ٹائمز“ نے جب یہ رپورٹ شائع کی کہ امریکہ میں وائرس یورپ سے آیا تو صدر ٹرمپ اس اخبار پر برس پڑے جو ان کا پسندیدہ ہدف ہے اور وہ جب وائٹ ہاؤس میں اس اخبار کے نمائندے کو دیکھتے ہیں تو ان کا پارہ چڑھ جاتا ہے، وہ کبھی سوال کے جواب میں ناراض ہو جاتے ہیں اور کبھی پریس کانفرنس ہی منسوخ کر دیتے ہیں۔ کورونا سے پیدا ہونے والی بیماری کے علاج کے سلسلے میں بھی اُن کا اپنا ہی موقف ہے وہ کئی بار ملیریا کی دوائی کے حق میں بیان دے چکے ہیں، جس سے امریکی ڈاکٹر اتفاق نہیں کر رہے۔اب انہوں نے انسانی جسم میں جراثیم کش مادہ داخل کرنے کا شوشہ چھوڑا ہے، معلوم نہیں یہ وبا کے تباہ کن اثرات کا نتیجہ ہے کہ کئی ممالک کے سربراہان حکومت اس کا ذکر کرتے ہوئے میڈیا کی مذمت کرنا بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں اور کوئی بات نہ سوجھے تو یہ کہہ دیتے ہیں میڈیا خوف پھیلا رہا ہے، حالانکہ خوف پھیلانے میں ان کا اپنا حصہ میڈیا سے کہیں زیادہ ہے۔ میڈیا اگر اموات کے اعداد و شمار بتاتا ہے تو کیا غلط کرتا ہے، یہ اعداد و شمار تو امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی جمع کرتی ہے اور عمومی طور پر ان اعداد و شمار کو مصدقہ ہی سمجھا جاتا ہے،لیکن خود حکومتوں نے جو خوف پھیلایا اس کا کیف و کم کہیں زیادہ تھا۔

جس طرح ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس اُجڑ جاتی ہے اسی طرح امریکہ اور چین کی لفظی جنگ کا ڈبلیو ایچ او کو یہ نقصان ہوا ہے کہ وہ امریکی امداد سے محروم ہو گئی ہے یہ امداد اگر مستقل طور پر بند رہتی ہے تو دُنیا بھر میں ڈبلیو ایچ او کے منصوبوں کو نقصان پہنچے گا اور اس عالمی ادارے کے تعاون سے صحت کے پروگرام متاثر ہوں گے۔ صدر ٹرمپ کا خیال یہ ہے کہ جو ملک یا ادارے امریکی امداد لیتے ہیں انہیں امریکی پالیسی کی غیر مشروط حمایت کرنی چاہئے۔ دوستی کا یہ ایسا معیار ہے جس پر دُنیا کے بہت کم ممالک پورا اُتر سکتے ہیں، اِس لئے صدر ٹرمپ کو اپنے اس فلسفے پر نظرثانی کرنی چاہئے اور ڈبلیو ایچ او کی امداد بحال کرنی چاہئے۔ امریکہ کے ایک اور بااثر اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ میں بھی وائرس کے ”فرار“ کی ذمہ داری چینی لیبارٹری پر ڈالی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب چین میں وائرس سے ابتدائی ہلاکتوں کی اطلاعات آنا شروع ہوئیں تو امریکی اخبارات میں ایسی رپورٹیں بھی چھپنے لگیں کہ یہ وائرس چینی حکومت کی جڑوں میں بیٹھ جائے گا اور اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لگتا ہے جس طرح چینی لیبارٹریوں میں وائرس کی تخلیق کے فسانے تراشے گئے اِسی طرح کسی میڈیا یا لیبارٹری میں چینی حکومت کے زوال کی کہانی بھی گھڑی گئی اور جوں جوں یہ لفظی جنگ آگے بڑھے گی بڑی تعداد میں ایسی کہانیاں بھی تراشی جاتی رہیں گی۔

امریکہ اگر چینی لیبارٹریوں تک ”شفاف رسائی“ چاہتا ہے تو چین کا بھی یہ مطالبہ ہے کہ وہ دُنیا کو ان لیبارٹریوں تک رسائی دے،جو اس نے ان ممالک میں قائم کر رکھی ہیں، جو کبھی سوویت یونین کا حصہ تھے۔ امریکہ نے روس کے ہمسائے میں واقع ان ممالک میں اپنا وسیع تر اثرو رسوخ قائم کر رکھا ہے،لیکن دُنیا کے حالات اِس بات کے متقاضی ہیں کہ امریکہ اور چین لفظی جنگ کو خیر باد کہہ کر اس وبا کو قابو پانے کے لئے اپنی توانائیاں اور وسائل صرف کریں، دُنیا بھر میں لاکھوں اموات کے بعد اب کروڑوں لوگوں کی روزی بھی بند ہوتی نظر آتی ہے، اِس لئے ضرورت اب دُنیا کو بھوک سے بچانے کی ہے۔ الزام تراشی کا یہ کھیل کسی اگلے وقت کے لئے اُٹھا رکھنا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -