کنفیوژن ختم اور تنازعات سے گریز کریں!

کنفیوژن ختم اور تنازعات سے گریز کریں!
کنفیوژن ختم اور تنازعات سے گریز کریں!

  

یہ شعور اور بچپن کے دو مختلف واقعات ہیں، ان کو یہی کہا جائے گا کہ جب مَیں پرائمری میں پڑھتا تھا تو روزے رکھنا شروع کر دیئے تھے کہ تب ہمارا کلچر، ہماری تہذیب یہی تھی کہ روزوں کا بہت احترام اور اہتمام ہوتا تھا، اِس لئے بچوں کو بھی شوق ہوتا اور وہ بھی ضد کر کے روزے رکھتے تھے، اور بچپن کا یہ عمل زندگی بھر ساتھ دیتا ہے۔بات پرائمری والے دور کی تھی،روزہ رکھا تھا اور دن میں دوستوں کے ساتھ گلی میں کھیل رہے تھے، اچانک پیاس لگی، اور کچھ خیال کئے بغیر اپنے محلے والی چھوٹی مسجد کی ٹونٹی سے پانی پی لیا، باہر سے ساتھیوں نے شور مچا دیا او! روزہ توڑ لیا، روزہ توڑ لیا، گناہ ہو گا، بڑی خفت ہوئی، مگر ڈھیٹ پن سے کام لیا اور جواب دیا ”کوئی نہیں ٹوٹا“ ”بُھل بُھلیکے اللہ لِیکھے“ اور پھر اسی طرح افطار تک نبھاہ کر لیا، یہ واقعی بھول والی بات تھی، لیکن چھوٹے تھے۔ دوسرا قصہ سخت گرمیوں والے روزوں کا ہے کہ سکولوں اور کالجوں کی گرمیوں والی چھٹیاں تھیں۔ہم اسلامیہ ہائی سکول شیرانوالہ گیٹ میں زیر تعلیم تھے۔

روزہ رکھا ہوا تھا،اِس لئے یہ طے تھا کہ صبح پہلے وقت میں کھیل لیا کریں۔ چنانچہ ایک روز کرکٹ کھیلنے کا فیصلہ ہوا، ہم سب سامان لے کر اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کی گراؤنڈ میں پہنچ گئے اور دو ٹیمیں بنا لیں، یہ کالج اور گراؤنڈ ہمارے گھروں اور محلے سے قریب تر تھی، اس وقت تک سورج بھی نکل کر چمک رہا تھا، میرے ذمہ وکٹ کیپنگ تھی،جب کھیل شروع کرنے کے لئے ٹاس ہوا تو ہمارے حصے فیلڈنگ آ گئی۔ مجھے یاد ہے کہ کھیل شروع کرنے سے قبل کالج کے مرکزی گیٹ کے باہر جا کر (یہ ریلوے روڈ پر تھا، اور قریب ہی برف خانہ بھی تھا) برف والے سے بر ف کا ٹکڑا خرید کر لے آیا، اسے وکٹوں کے پیچھے رکھ لیا، بال ہو جاتا اور درمیان میں معمولی وقفہ آتا تو برف کے اس ٹکڑے پر گال لگا کر ٹھنڈک حاصل کر لیتا تھا، کھیل مکمل ہوا، سب نے روزہ رکھا تھا،لیکن کسی نے ”بُھل بُھلیکے“ والی بات نہیں کی کہ تب تک روزہ کی اہمیت کا احساس بھی ہو چکا تھا۔ یوں ہم کھیل بھی لئے، دن بھی گذر گیا، گھروں سے جھڑکیاں بھی سہ لیں اور روزہ بھی گذر گیا۔

یہ گذارش اِس لئے کی کہ اس کے بعد عملی زندگی میں بہت کچھ دیکھنا اور سہنا پڑا۔ یہ بھی دیکھا کہ لوگ کیسے کیسے بہانے بنا کر روزہ خوری کرتے ہیں۔ بہرحال اگر کچھ نہیں تھا تو ایسی بدنیتی اور بددیانتی نہیں تھی، جو آج ہے۔ اشیاء خورود و نوش کی ضرورت یقینا بڑھتی تھی، لیکن قیمتیں نہیں بڑھتی تھیں۔ ماسوا کسی ایسی شے کے جو قلت کا شکار ہو جاتی،اس کی مثال برف سے دی جا سکتی ہے کہ تب فریج فریزر تو نہیں تھے۔ برف زیادہ استعمال ہونے لگتی،برف خانے والے بلاک جلدی نکالتے اور دکانوں پر جو برف آتی اس میں بلاک کے بعض حصے میں برف پوری طرح بنی نہیں ہوتی تھی،اور کچی ہوتی، تاہم افطار سے پہلے خریداری زوروں پر ہوتی،دوکاندار کسی تول کے بغیر دیتے اور گاہک بھی چار آنے کی برف دینا، ایک روپے اور آٹھ آنے کی بھی خریدی جاتی تھی اور پھر ”چاچا یہ تو کچی ہے“ کہا جاتا تو جواب ملتا ”لے اوئے لے، نئیں تے اپنی چوانی(چار آنے کا سکہ) پھڑ“ مجبوراً لے آتے، تاہم عمومی طور پر ایسی کوئی شکایت نہ ہوتی کہ نرخ بہت بڑھ گئے۔یوں بھی ہمارے واعظ حضرات بھی مہنگائی اور احترام رمضان پر بہت زور دیتے تھے اور حلال، حرام کی بات کرتے تھے، لیکن آج کل جو صورتِ حال ہے۔ اس نے نانی یاد کرا دی ہے۔

ایک طرف تو منافع خور مافیا سرگرم عمل رہتا ہے تو دوسری طرف روزہ خور بھی طرح طرح کی تاویلیں کرتے اور احترام رمضان سے ماورا ہوتے ہیں، حتیٰ کہ اب تو احترام رمضان آرڈیننس یاد کرانا پڑتا ہے۔گذشتہ برسوں میں روزہ خوروں نے جو توڑ نکالا وہ ریلوے سٹیشن پر جا کر کھا لینے کا تھا، اور یا پھر ہسپتالوں کی کینٹین پر چلے جاتے تھے، مگر آج کی لاک ڈاؤن نے تو ان کا مزہ ہی کرکرا کر دیا ہے۔ اب یہ لوگ گھر والوں سے بھی دھوکا نہیں کر پاتے اور ”جھوٹ“ والا روزہ نہیں رکھ سکتے،چنانچہ ہر فیملی کو روزہ خور کا علم ہو گیا ہے، لیکن یہ حضرات اب ایک اور شغل میں مبتلا ہیں، پہلے تو یہ تھڑوں اور محافل میں شعائر دین کا مذاق اڑاتے تھے اب ان کو سوشل میڈیا کا سہارا مل گیا ہے اور یہ بلا لحاظ ہمارے کچھ کم علم اور بعض فرقہ پرستی کے داعی مولویوں کی باتوں پر طنز کرتے رہتے ہیں۔حتیٰ کہ ان حضرات کو ٹیلی تھون نشریات کے دوران مولانا طارق جمیل کی دُعا اور خطاب سے بھی مواد مل جاتا ہے،مجھے یہ اعتراض نہیں کہ مولانا کے بیان پر تنقید کیوں کی گئی، میرا اعتراض یہ ہے کہ یہ تنقید دائرہ اخلاق سے باہر نکل گئی اور دلیل سے بات نہ کی گئی، نقاد حضرات کو وزیراعظم عمران خان کی تعریف پر تو شاید اتنی تکلیف نہیں پہنچی یا پھر مولانا کی طرف سے دیانت داری والی بات کے جواب میں بددیانت کہنے کی ”ہمت“ نہیں ہوئی،اِس لئے ان کی اس بات کو پکڑ لیا کہ ”کسی نے کہا میڈیا جھوٹ بولتا ہے“ اور ”سب گمراہ“ ”ہو گئے“(الفاظ نہیں دہرانا چاہتا) یہ تو ایک مثال ہے، سوشل میڈیا پر تو کورونا کے حوالے سے لاک ڈاؤن اور مساجد کا ذکر کر کے نمازوں تک کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ یوں یہ سب جائز قرار دیا جا رہا ہے۔

گذشتہ روز سے ان حضرات کو ایک اور موضوع مل گیا، حکومت نے اقلیتی کمیشن بنانے کی تجویز دی اور وزیراعظم نے اس میں قادیانیوں کی نمائندگی کے لئے دو قادیانیوں کو رکن بنانے کے لئے کہا ہے، اس پر بھی بلا سوچے سمجھے اور یہ جانے بغیر کہ قادیانیوں کا ردعمل کیا ہے، نئی بحث چھڑ گئی، ہمارے عالم حضرات نے ”ختم نبوت“ کے حوالے سے اعتراض شروع کیا تو سول سوسائٹی اور ”روشن خیال“ حضرات نے حمایت شروع کر دی، حالانکہ ابھی تک قادیانیوں کا ردعمل کسی نے نہیں لیا۔ یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہوا ہے اور اب یہ حضرات آئینی طور پر ”اقلیت“ ہی شمار ہوتے ہیں، اِس لئے اقلیت کے طور پر ان کی نامزدگی میں حرج والی بات نہیں،لیکن ہمارے محترم علماء کرام ختم نبوتؐ کے حوالے سے اپنے ایک بڑے مطالبے کی روشنی میں معترض ہیں، جو یہ ہے ”قادیانیوں (مرزائیوں) کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے، لیکن یہاں تو مسئلہ یہ ہے کہ حقیقت کے باوجود قادیانی (مرزائی) اس ترمیم کو نہیں مانتے، ان کا نام ووٹر لسٹوں میں بطور اقلیت نہیں اور ماضی کی یہ مثال بھی موجود ہے کہ اسمبلی کی رکنیت کے لئے نامزد کرنے کے لئے جعلی مرزائی تلاش کیا گیا تھا، یقینا یہ حساس مسئلہ ہے، مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ کپتان صاحب تنازعات ہی میں کیوں اُلجھے رہنا چاہتے ہیں۔

ان کے لئے تو ”کورونا“ ہی نعمت ثابت ہو گیا اور حکومت مخالف تحاریک دب کر رہ گئیں، اب 18ویں ترمیم، سندھ حکومت کے خلاف محاذ آرائی، نیب تنازعہ پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ میرے خیال میں اس مسئلے پر مخالفانہ یا موافقانہ ردعمل مناسب نہیں، انتظار کریں کہ قادیانی خود کو ترمیم کے مطابق اقلیت جان کر کمیشن میں نمائندگی کے لئے آگے آئیں، جو مشکل ہے، ویسے حکمران اگر کنفیوژن کا شکار ہیں یا پھر قوم کو اس میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں تو یہ الگ بات ہے۔ اگرچہ بہتر یہ ہو گا کہ اتحاد کی بات کرتے ہیں تو عملی ثبوت بھی دیں، جو یوں ممکن ہے کہ خود دوسروں کی مخالفت ترک کر دیں۔

مزید :

رائے -کالم -