مولانا طارق جمیل ایک عظیم دینی شخصیت

مولانا طارق جمیل ایک عظیم دینی شخصیت
مولانا طارق جمیل ایک عظیم دینی شخصیت

  

گزشتہ دِنوں وزیراعظم احساس پروگرام میں معروف مبلغ دین مولانا طارق جمیل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ میڈیا پر جھوٹ بولا جاتا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد میڈیا سے وابستہ کچھ افراد نے زبردست احتجاج کیا کہ انہیں جھوٹا کیوں کہا گیا ہے، جس پر مولانا طارق جمیل نے سینئر کالم نگار اور اینکرپرسن جاوید چودھری کے پرو گرام”کل تک“ میں وضاحت پیش کی کہ سارے سے مراد سو فیصد ہر گز نہیں ہوتا کہ سب لوگوں کا شمار کیا جائے البتہ اس میں محاورتاً اکثریت ایسے لوگوں کی ہے لیکن اس کے باوجود اگر کسی کی دِل آزاری ہوئی ہو تو وہ معذرت خواہ ہیں۔مولا نا کے اس بڑے پن پر اینکر پرسن جاوید چودھری نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا اور یوں یہ معاملہ ایک طرح سے ختم ہو گیا، لیکن اس وقت الیکٹرانک،پرنٹ اور سوشل میڈیا پر بعض عناصر ایسے ہیں،جو مولانا کی ذات پر باقاعدہ کیچڑ اچھالنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ان افراد کی طرف سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ مولانا حکمرانوں کو کیوں ملنے جاتے ہیں؟سٹار کھلاڑیوں اور فلمی سٹارز کو دعوت تبلیغ کیوں دیتے ہیں؟مولانا بڑی بڑی تقاریب میں شرکت کیوں کرتے ہیں؟مولاناکیا ریسرچ سکالرز ہیں؟مولانا ایجنسیوں کی لکھی تقاریر کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی حکمران کو ملنے، یا کسی بڑی تقریب میں شرکت کرنے میں ممانعت کیا ہے؟یا یہ حق صرف میڈیا کے افراد کو حاصل ہے کہ وہ شریک ہو سکتے ہیں باقی افراد نہیں،جہاں تک کسی فلمی سٹار یا کھلاڑی کو دعوت تبلیغ دینے کی بات ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟کیا ان لوگوں پر پابندی ہے کہ وہ توبہ کر کے اللہ کی طرف مکمل رجوع نہ کر لیں۔ یہ سب لوگ بھی اللہ کی مخلوق ہیں ان کو دعوت دینا بھی ضروری ہے۔

باقی اللہ تعالیٰ کی ذات بے نیاز ہے اور یہ اس کی شانِ کریمی ہے کہ جب چاہے کسی پر بھی ہدایت کے دروازے کھول دے۔بہرحال اب جہاں تک حکمرانوں کو ملنے کا سوال ہے تو مولانا نے جب سے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے اور موجودہ ملکی صورتِ حال کے پیش نظر دُعا کروائی ہے عمران خان کے مخالف افراد نے مولانا کو آڑے ہا تھوں لیا ہوا ہے،حالانکہ مولانا ایک اور اینکر پرسن سلیم صافی کے پروگرام ”جرگہ“میں اس سوال کا جواب دے چکے ہیں کہ انہوں نے اس لئے یہ دُعا کروائی کہ اگر حکمران ٹھیک راستے پر ہو گا تو قوم کے حق میں ٹھیک فیصلے کرے گا اور قوم کا اجتماعی فائدہ ہو گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ سابق حکمرانوں میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری کے حق میں بھی دُعا کرتے تھے۔اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت مو لانا نے بالکل ٹھیک کیاتھا اور اب نہیں؟تو ایسے افراد سے گزارش ہے کہ آپ کو اگر بغض عمران خان سے ہے تو اس بات کو مولانا صاحب سے منسوب نہ کریں۔ رہی بات ریسرچ سکالرز کی تو اس حوالے سے میں کچھ نہیں کہ سکتا۔ البتہ اتنا معلوم ہے کہ مولانا ایم بی بی ایس کی تعلیم کوخیر باد کہہ کر دین کے راستے میں آگئے اور اگر آپ کو کبھی بھی مولانا کی تقریر سننے کا موقع ملے تو آپ خود اندازہ لگا سکیں گے کہ مولانا کس قدر ہر بات پر قران و احادیث کا حوالہ دیتے ہیں یہاں سے آپ کو مولانا کی علمی اور اسلامی شخصیت کے پہلو کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا ۔

خیر مولانا نے اسلام کی دعوت دینے کے لئے ملکوں ملکوں سفر کئے وہاں کی ثقافت اور افراد کے رویہ جات کا قریب سے مشاہدہ کیا،ان گنت لوگ آپ کی دعوت پر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے،اللہ نے زبان میں اتنی فصاحت عطا فرمائی کہ آپ کی بات سنتے ہی حکمرانوں سے لے کر عام آد می کے دِل میں اتر جاتی ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی بھی شخص نہ صرف سچائی کی بات کرے، بلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہو تو لوگ خودبخود اس کی پیروی کرنا شروع کر دیں گے۔ بہرکیف مولانا اور راقم کا تعلق ایک ہی علاقہ سے ہے،آج تک ان سے کوئی باقاعدہ ملاقات نہیں ہے، لیکن سب لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مولانا کا تعلق ایک زمیندار خاندان سے ہے اور وہ رفاہی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔صرف یہی نہیں مولانا ہر خاص وعام میں مقبول ہیں۔جہاں کہیں بھی مولانا کی تقریر ہوتی ہے کبھی کوئی اشتہار دیکھنے کو نہیں ملتا، لیکن تقریر سننے کے لئے لوگوں کا جم غفیر امڈ آتا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں آنے والے افراد کو انتظامیہ کو کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مولانا انسانیت کا درس دیتے ہیں، انسانوں کے ایک دوسرے پر حقوق کیاہیں، اچھے اعمال کی ترغیب بڑی خوش اسلوبی سے سمجھاتے ہیں۔

مولانا کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ جب بھی ان کی تقریر سننے کا موقع ملا، دِل خود بخود نیکی کی جانب راغب ہونا شروع ہو جاتا ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ مولانا کا خود باعمل ہونا ہے۔ رہی بات ایجنسیوں کی لکھی تقریر کی تو مولانا نے کبھی بھی منبر پر بیٹھ کر فرقہ واریت کو ہوا نہیں دی، بلکہ ہر بار ہاتھ جوڑ کر استدعا کی کہ ایک دوسرے کا احترام کرو اور ایک امت بن جاؤ۔اب لوگ اس بات کو ایجنسیوں سے جوڑ دیں تو کیا انہیں کہا جا سکتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے قران مجید میں فرمایا، جس کا مفہوم ہے کہ ”اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو او ر تفرقے میں نہ پڑو“۔باقی قدرو منزلت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے۔ اللہ نے مولانا کو جو عزت دی ہے وہ جھوٹے پرپیگنڈوں اور کیچڑ اچھالنے سے کوئی بھی نہیں چھین سکتا اور ان باتوں سے مولانا کی ذات پر ذرہ برابربھی اثر نہ پڑے گا۔البتہ ہمیں اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔ کیا ہم سب بحیثیت مجموعی پوری قوم زندگی کے ہر شعبہ میں واقعی سچے اور ایماندار ہیں؟بدقسمتی سے آج کون سی معاشرتی برائی ہے جو ہمارے معاشرے میں بدرجہ اتم نہیں پائی جاتی؟ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟دوسروں کی ذات پر انگلی اٹھانے سے پہلے ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہو گا کہ اچھائی کے کاموں میں ہمارا حصہ کتنا ہے؟آخر میں بس اتنا کہوں گا کہ مولانا طارق جمیل ایک عظیم مبلغ دین ہیں ان کے حوالے سے کوئی بھی بات سوچ سمجھ کر کریں۔

مزید :

رائے -کالم -