ایک ننھی چڑیا اُلفت سے ملاقات(2)

ایک ننھی چڑیا اُلفت سے ملاقات(2)

  

ماہ رخ بولی: دیکھیں دنیا میں ظلم ہوتا رہا، مگر اقوام متحدہ اور اسلامی تنظیم، نیٹو، عرب لیگ، او آئی سی، اور یورپی یونین نے کیا کیا۔ آخر کار انسانوں کے خدا نے اپنی قدرت سے انسانوں کو خبردار کرنا تھا۔ میری خواہش ہے کہ تمام انسان خدا کے سامنے اپنے سر نیاز خم کر دیں اور بنی نوع انسان اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور کورونا وائرس کی وبا سے نجات حاصل کریں۔

الفت بولی کہ خالق کائنات نے ہم پرندوں کو اس وبا سے محفوظ رکھا ہے۔ آپ ہر روز شام اور علی الصبح ہماری چہچہاہٹ سنتے ہیں۔ ہم اس وقت اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہیں۔

ہم میں سے کوئی خوراک کی ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا۔ روزانہ ہمیں خوراک مہیا ہو جاتی ہے۔

مہر نگار بولی:کیا آپ دیکھتے نہیں کہ ہمارے گھر پھولوں سے گھِر ے ہوئے ہیں اور ہم شہزادیوں کی طرح رہ رہی ہیں۔

ماہ رْخ بولی: پروفیسر صاحب انسانوں کو تو کورونا وائرس نظر نہیں آتا مگر ہم پرندوں کو انسانوں سے زیادہ نْور بصارت عطا کیا گیا ہے۔ آپ دیکھتے نہیں کہ شاہین میلوں اْوپر سے زمین کی ہر چیز دیکھ لیتا ہے۔ ہْد ہْد زمین کے اندر تک دیکھ سکتا ہے۔ کرونا وائرس کا گروہ متعدد بار اسلام میڈیکل سٹی اور سیالکوٹ شہر آچکا ہے مگر ہم نے اْن کو شرم دلائی کہ کیا تم یہاں کے ڈاکٹرز اور نرسز کو نشانہ بناؤ گے۔ ہم نے اْن کو یہ بھی کہا کہ سیالکوٹ اور چونڈہ کو ہاتھ نہ لگانا۔ سیالکوٹ امام علی الحق شہید اور علامہ محمد اقبال کا شہر ہے۔ چونڈہ میں شْہداءِ جنگ ستمبر 1965ء محو استراحت ہیں۔ علاوہ ازیں یہ شہر سیالکوٹ، چہارعالم میں پاکستان کی پہچان اور مْحبِ وطن تاجروں اور محنت کش مزدوروں کا مسکن ہے۔ یہاں پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے لشکر اسلام کی چھاؤنی اور چناب رینجرز کا ہیڈ کوارٹر ہے۔کیا تم ان پر ستم کرو گے۔ کورونا کے گروہ نے جب یہ باتیں سنی تو کانوں کو ہاتھ لگا کر بھاگ گئے اور کہہ رہے تھے ہم دوبارہ کبھی اِدھر کا رْخ نہیں کریں گے۔

مہر نگار بولی۔ کورونا وائرس نے شہروں کی پولْوشن ختم کرا دی ہے۔ ہوائی جہاز، کاریں، موٹر سائیکل سواری بہت کم ہو گئی ہے۔ ہوا،نہریں، دریا اور سمندر صاف ہو گئے ہیں۔ لاہور سب سے آلْودہ ہوا والے شہروں کی لِسٹ سے نکل گیا ہے۔ ہم جب بھی شہروں کے اوپر سے پرواز کرتی تھیں تو ہمارے لیے سانس لینا دشوار ہو جاتا تھا۔ اُلفت کو تو دمے کی شکائیت ہو جاتی تھی۔ اب ہمیں سانس کی بالکل تکلیف نہیں۔

میں: ماہ رخ کشمیر کا بارڈر سیالکوٹ سے صرف بارہ میل ہے کیا آپ کبھی جموں اور سری نگر گئی ہیں۔

ماہ رخ: کئی بار بلکہ ہر ہفتے وہاں کا چکر لگتا ہے۔ اگر کبھی ہم نہ جا سکیں تو وہاں سے چڑیاں اور دوسرے پرندے ہمارے ہاں آ جاتے ہیں۔ اْن سے ہمیں کشمیر کی صحیح صورت حال کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ وہاں ہر طرف فوجی ٹرک اور فوجی جوان نظر آتے ہیں۔سارے کشمیر میں دفعہ 144 ہے۔ کشمیریوں کوبر سر بازار مارا پیٹا اور قتل کر دیا جاتا ہے۔

خوراک اور ادویات کی کمی ہے۔ کورونا وائرس وہاں بھی پہنچا دیا گیا ہے۔ سارے ہندوستان سے ہندوؤں کو کشمیر میں لا کر بسا یا جا رہا ہے۔ ایک دو سال کی بات ہے مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے گا اور کشمیریوں کو ہمیشہ کے لئیے غلام بنا لیا جائے گا۔

اگر مسلمانو ں نے اکٹھا ہو کر کچھ نہ کیا تو فلسطینی اور کشمیری مسلمان ماضی کی داستان بن جائیں گے۔ مگر خالق کائنات کے حکم کی دیر ہے جس دن اْس کی رحمت جوش میں آئی اس دنیا کی کیا تمام کائینات کی بساط شطرنج الٹ دی جائے گی۔ عالم ِ اسلام کو نبی کریم ؐکی بتائی ہوئی راہ پر چل پڑنا چاہئے۔ پروفیسر صاحب کیا آپ کو حضرت علامہ اقبالؒ سیالکوٹی کا شعر یاد نہیں ہے۔

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

برطانیہ کا حال دیکھیں۔ کورونا وائرس نے کس طرح انگریزوں کی گردن نیچے کی ہے۔ اس مْلک نے ہی کشمیریوں کو 75 لاکھ روپے کے عوض ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں بیچ دیاتھا۔ انسانی تاریخ کے اس شرمناک واقعے کو علامہ محمد اقبال نے اس طرح بیان کیا۔

دہقان و کِشت و جْوء و خیاباں فروختند

قومے فروختند چہہ ارزاں فروختند

سابقہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر نے امریکہ کے ساتھ مل کر خلیجی جنگوں میں عراق میں 6لاکھ انسانوں کو قتل کیا۔ 1947ء میں برطانیہ نے پنجاب باؤنڈری کمیشن جو ریڈ کلف کی سربراہی میں بنا تھا تاکہ ہندوستانی اور پاکستانی پنجاب کے درمیان بارڈر کا فیصلہ کیا جائے۔ لارڈماؤنٹ بیٹن جو اس وقت ہندوستان کا گورنر جنرل تھا اس نے 17 اگست 1947ء کو یعنی پاکستان بننے کے 3 دن بعد باؤنڈری کمیشن کے فیصلہ کو تبدیل کرکے تحصیل پٹھانکوٹ اور تحصیل گْردا سپور ہندوستان کو دے دیں، کیونکہ کشمیر کو زمینی راستہ ان کے ذریعہ جاتا تھا اور دریائے راوی پر مادھوپور ہیڈورکس بھی ہندستان کو دے دیا۔ فیروز پور تحصیل بھی ہندوستان کو دے دی، کیونکہ وہاں دریائے ستلج پر فیروز پور ہیڈ ورکس تھا، حالانکہ ضلع گورداسپور اور فیروز پْور میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ برطانیہ نے بھی اپنی سلطنت کو برقرار رکھنے کے لئے لاکھوں انسانوں کو قتل کرایا۔ آخر کار اللہ تعالی کی پکڑ تو ہونی تھی۔

ہم نے کشمیریوں کو یہ دُعا مانگتے سنا ہے کہ "اے ہمارے رب؛ ہمارے مالک؛ ہمیں ہندستان کی غلامی سے بچا لے، اے اللہ؛ دوبارہ کوئی محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، احمد شاہ ابدالی یا محمد بن قاسم ہماری نجات کے لئے بھیج دے۔ سر ہم سے کشمیریوں کی بے چارگی اور ذلت دیکھی نہیں جاتی۔ وہاں سے آکر کئی دِن غمگین رہتی ہیں۔

میں: اتنی چھوٹی عمر میں دنیا کے حالات پر آپ تینوں کی اتنی گہری نظر ہے۔ میں تو حیران ہو گیا ہوں۔ اُلفت: اب آ پ سے ذاتی سوال کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کے والد صاحب کا آپ کے ساتھ کیسا برتاؤ ہے۔

الفت:وہ بہت شفیق ہیں اور ہماری تعلیم حاصل کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تاہم ہماری بے پردگی پر سخت غصے میں آ جاتے ہیں، اسی طرح اگر ہم شام کو گھر پہنچنے میں دیر کر دیں تو والدہ صاحبہ اور والد صاحب سخت سرزنش کرتے ہیں جو کہ نہایت مناسب ہے۔

میں: کیا آپ کے والدین نے آپکی شادی کی بات کی ہے۔

مہرنگار اور دوسری دونوں بولیں کہ ہم شادی تو کرنا چاہتی ہیں، مگر کیا کریں ہمارے خاندان میں کوئی خوبصورت ہم زاد ہی نہیں۔ ہمارے والدین سوچ رہے ہیں کہ کسی دوسرے علاقوں سے ہمارے لئے خوبصورت دولھے ڈھونڈیں۔

میں: کیا آپ نے کسی سے سنا ہے کہ میں کب تک اس گلستان دْنیا کا باسی رہوں گا۔

ماہ رخ بولی پروفیسر صاحب ہمیں تو اس کا علم نہیں مگر ایک دن میرے ابو بات کر رہے تھے کہ میں حضرت امام علی الحق شہید کے مزار کے قریب ایک درخت پر بیٹھا ہوا تھا تو دو لوگوں کو آپس میں باتیں کرتے سنا تھا۔ ان میں سے ایک کہہ رہا تھا کہ مجھے ہاتف ِ غیب نے یہ اطلاع دی ہے کہ ایک ڈاکٹر عِیص محمد لاہورسے سیالکوٹ آیا ہوا ہے اس کو خبر پہنچا دی جائے کہ اگر وہ بیمار انسانیت کی بے لوث خدمت کرتا رہا اور علم طب اگلی نسلوں تک پہنچاتا رہا تو وہ 100 سال سے زیادہ زندہ رہے گا۔ تاہم وہ خود اپنی صحت کے مسائل پر بھی توجہ دے۔(یہ تو میری خواہش ہے۔ اللہ تعالی کو جو منظور ہے اْس کے آگے سر تسلیم خم ہے)۔

پھر تینوں بولیں: ڈاکٹر صاحب ہم نے آپ کو زیادہ وقت روک لیا۔ اب ہم آپ سے رخصت چاہتی ہیں۔ آپ کے مریض بھی آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ میں کبھی کبھی ان سے بات چیت کے لئے ضرور وقت نکالا کروں۔ انہیں بھی دن بھر کے کاموں کے لئے روانہ ہونا تھا۔ سلام کر کے وہ اُڑیں اور نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔ اب مہینے میں دو، تین بار اْن سے ملاقات ہوتی رہا کرے گی۔(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -