چلو بھر پانی اور طالوت کا لشکر

چلو بھر پانی اور طالوت کا لشکر
چلو بھر پانی اور طالوت کا لشکر

  

آپ میں سے اکثر لوگوں نے مارچ کے شروع میں کرونا سے کروڑوں اموات کی پیشگوئیاں بھری ویڈیو دیکھی سنی ہوں گی۔ایک ویڈیو تو مجھے بھی یاد ہے جس میں بی ایس مائیکرو بیالوجی کے تیسرے سمیسٹر کا لڑکا اپنے گونجیلے علم کی بنا پر پیش گوئی کر رہا تھا کہ اگر یہی حالات رہے تو اپریل میں کروڑوں اموات یقینی ہیں۔ انیس بیس سال کے اس لڑکے کے نزدیک بچاؤ کا بس صرف ایک طریقہ تھا: مساجد کی بندش۔ اس لڑکے کو کیمرا، مائیک اور واجبی ساعلم حاصل تھا۔ جو منہ میں آ رہا تھا، وہ بولے جا رہا تھا۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ مارچ میں ایسی ہی پیش گوئیاں کرنے والے کچھ سیاسی رہنما اور ماہرین طب بھی تھے جن کے نزدیک اپریل کے آخر تک کرونا سے دو کروڑ اموات یقینی تھیں۔ میں بڑی احتیاط سے ان لوگوں کی پیشگوئیوں کا جائزہ لیتا رہا۔ کبھی اشارتاً اور کبھی ایک آدھ جملے میں صراحتا اسً دانستہ پھیلائے گئے ہیجان کی طرف لوگوں کو توجہ دلاتا رہا۔ دعاگو بھی رہا کہ اللہ کل انسانوں کی خیر! الحمدللہ آج اپریل ختم ہو رہا ہے اور اموات کا ہندسہ،الہ العالمین معاف کرے، ابھی چار سو کے نیچے ہی جھلملارہا ہے۔ انسانوں کا رکھوالا وہی رب ہے، ورنہ کروڑوں اموات کی پیشگوئیوں میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کی خواہشات تو ہوسکتی ہیں پیشگوئیاں نہیں جو کسی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ اللہ معاف کرے ان لوگوں کے نزدیک انسان کی موت کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔

ایک صاحب نے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی پروفیسر ڈاکٹر کا مقالہ ارسال کیا جس میں 22 کروڑ کی آبادی میں سے 16 کروڑ اموات کا خدشہ ظاہر کر کے انہوں نے بھی لوگوں کو گھروں پر رہنے کی تلقین کی۔اس کا حل ذرا ملفوف انداز میں مساجد کی بندش ہی بتایا۔ ایک اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر نے علوم اسلامیہ میں ایک دوسرے پی ایچ ڈی پروفیسر ڈاکٹر کا مقالہ ارسال کیا جنہوں نے بالکل واضح الفاظ میں مساجد بند کرنے کا حکم دیا۔ جب حرمین شریفین میں نمازوں کی ادائیگی بند ہوگئی تو عوام میں ایک رقت سی طاری ہو گئی۔ بعض لوگوں نے جذباتی اور بعض نے علمی انداز میں مضامین لکھے کہ اس سال ممکنہ طور پر حج کا نہ ہونا تاریخ اسلام میں شاید پہلا موقع اور یہ ایک المیہ ہوگا۔ لہذا کوئی حل نکالنا چاہیے، کوئی تدارک ہونا چاہیے۔اس پر اول الذکر پروفیسر صاحب نے ایک اور مبسوط مقالے میں تاریخی مثالوں سے ثابت کیا کہ تاریخ اسلام میں ایسے کئی دفعہ ہو چکا ہے, گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ گھر آنے پر بچوں نے رو رو کر باپ کو بتایا کہ جاگیردار نے ان کی ماں کے ساتھ ظلم کیا ہے۔ باپ بولا، "کوئی بات نہیں بیٹا! جاگیردار کے باپ نے بہت پہلے تمہاری دادی کے ساتھ یہی ظلم کیا تھا اور اس کے دادا نے تمہاری پردادی کے ساتھ بھی یہی ظلم کیا تھا۔بیٹا یہ کام پہلے بھی متعدد دفعہ ہوچکا ہے۔گھبرانے کی کوئی بات نہیں "۔خیر پروفیسر صاحب کے مضمون کے جواب میں دیگر اہل علم نے تحقیق کا حق ادا کرکے انہیں بتادیا کہ ایسے نہیں ہے۔

غرض جب طالوت لشکر لے کر روانہ ہوا تو اس نے ساتھیوں سے کہا کہ ایک نہر پر اللہ تمہاری آزمائش کرے گا۔ جو شخص نہر میں سے پانی پیئے گا، وہ مجھ میں سے نہیں (فلیس منی) البتہ کسی نے چلو بھر پانی پی لیا تو کوئی بات نہیں۔ جب لشکر نہر پر پہنچا تو چند لوگوں کے سوا سب نے جی بھر کر پانی پیا۔ نہر پار کرنے پر دشمن سے سامنا ہوا تو پیٹ بھر کر پانی پینے والے بولے۔ "آج ہم میں دشمن سے لڑنے کی طاقت ہی نہیں "۔ پھر طالوت کا ساتھ ان چلو بھر پانی پینے والے مومنین ہی نے دیا اور اللہ نے انہیں دشمن پر غلبہ عطا کیا۔یہ سورہ بقرہ کی آیت 249 کا بیان میرے اپنے الفاظ میں ہے۔اس پر مفسرین کی آرا کا خلاصہ یہ ہے کہ یہاں نہر سے مراد دنیا اور پانی سے مراد دنیا کی لذتیں ہیں۔ جس کسی نے اس نہر سے خشک منہ تر کرنے کے لیے چلو بھر پانی لیا، وہ تو ہوا راہ حق پر، اور جو کوئی اس کی لذتوں میں کھویا رہا، وہ اہل حق کے لشکر سے کٹ گیا۔آج صبح ایک صاحب نے فون پر تحریک بندش مساجد والے ان اہل علم کو جوش خطابت میں منافق کہہ دیا تو میں نے اسے فورا ٍٹوک کر یہ قصہ طالوت سنایا۔ لذائذ دنیا میں کھو جانے والوں مسلمانوں کے نقطہ نظر اور قال قال رسول اللہ پڑھنے پڑھانے والوں میں بس یہی ایک چلو بھر پانی کا فرق ہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔ رہے نام اللہ کا!

افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ اہل علم اپنے موقف میں جان پیدا کرنے کی خاطر "پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے" کا سہارا لیتے ہوئے اپنے ملک اور اپنے تمام مسالک کے علماء کی بے توقیری کرنے کے لئے ان ممالک سے مساجد کی بندش کی مثالیں لاتے ہیں جن میں انسانی حقوق کی پامالی اور جن کا استبدادی طرز حکمرانی دنیا بھر میں معروف ہے۔ جہاں کے علما ء حق جیلوں میں سڑ اور مر رہے ہیں۔ اس طرح یہ اہل علم یہ ثابت کرتے ہیں کہ مساجد صرف پاکستان ہی میں کھلی ہوئی ہیں، باقی تمام مسلم ممالک میں بند ہیں۔ چلیے اگر ایسے ہی ہے تو یہ تو باعث فخر ہے، سر اٹھا کر چلنا چاہیے۔ تاہم ان کی دی گئی اور نہ دی گئی مثالوں کی ہلکی سی جھلک اور اصل صورت حال کچھ یوں ہے۔ بالعموم ان کی تمام مثالیں غیر جمہوری اور استبدادی شکنجے میں جکڑے ہوئے ممالک کی ہوتی ہیں۔ انہی ممالک کے عقوبت خانوں کا ذکر آجائے تو ان لوگوں کی گھگھی بندھ جاتی ہے۔ ترکی کا معاملہ البتہ ذرا مختلف ہے۔ 98 فی صد مسلمانوں پر مشتمل یہ جمہوری ملک لگ بھگ سو سال سے لادینی دستور کے آسیب تلے معمولات زندگی نمٹا رہا ہے۔ اس کے تمام ادارے سوفی صد سیکولر بنیادوں پر قائم ہیں۔ حافظ قرآن صدر طیب اردوان بتیس نوکیلے دانتوں کے بیچ زبان کی طرح رہ کر کچھ نہ کچھ تبدیلی تو لا رہے ہیں لیکن ترکی کا دستور اس موجودہ حالت میں مسجدیں کھولنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ 27 کروڑ آبادی کے سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیا میں مسجد یں پوری آب و تاب اور مکمل احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھلی ہوئی ہیں۔ وہاں تحریک بندش مساجد کا کوئی وجود نہیں۔ صومالیہ میں بھی مسجدیں کھلی ہیں۔

ابھی ذرا دیر پہلے میں نے کابل یونیورسٹی کے ڈاکٹر وزین سے فون پر پوچھا تو پتا چلا کہ وہاں کے سرکاری علماء نے گھروں میں نماز ادا کرنے کی تلقین کی ہے۔ چناچہ کابل شہر میں تراویح گھروں اور مساجد دونوں جگہوں میں ہو رہی ہیں۔ باقی شہروں میں سرکاری علماء کے فتوے کو کسی نے تسلیم نہیں کیا اور تراویح مساجد ہی میں ہورہی ہیں، حاضری بے شک نسبتا کم ہے۔ دبئی میں نماز جمعہ کی اجازت اس پابندی کے ساتھ ہے کہ نماز کا عمل دس منٹ میں مکمل ہو جائے گا۔ اور تو اور ایک لاکھ ساٹھ ہزار متاثرین کرونا والے کافر ملک جرمنی نے پانچ مئی سے مسلمانوں کو مساجد کھولنے کی خوشخبری سنا دی ہے۔ کہاں کہاں کی مثالیں دی جائیں، اخباری صفحات طوالت کی اجازت نہیں دیتے۔

ہمیں اس سے غرض نہیں کہ کس ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ ہر ملک کے اپنے حالات ہوتے ہیں۔ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے چوٹی کے جید علماء نے صدر مملکت اور ماہرین طب کے ساتھ بیٹھ کر مساجد کھلی رکھنے کا ایک بیس نکاتی بہترین فارمولا بنایا۔ چلو بھر پانی پینے والوں نے اطمینان کا سانس لیتے ہوئے اس پر عمل شروع کردیا۔ میں خود گواہی دیتا ہوں کہ میرے اپنے آبائی قصبے سے پانچ کلومیٹر دور اور سڑک سے بھی دو کلومیٹر ہٹ کر ایک گاؤں میں اس فارمولے پر سو فی صد عمل ہورہا ہے۔ اس فارمولے میں اگر کوئی کمی رہ گئی تھی تو اسلامی فقہ کے یہ ماہرین آگے بڑھ کر اسے بہتر بنانے کی تجاویز دیتے۔ اس کی بجائے وہ اب بھی بضد ہیں کہ مٹھائی کی دکانیں اور بیکریاں بند ہوں یا نہ ہوں جہاں ہر روز لاکھوں افراد آتے جاتے ہیں، مساجد ضرور بند کی جائیں۔ ان اہل علم کے نزدیک کرونا پھیلنے کا مرکز صرف اور صرف مساجد ہیں۔مسئلہ بس وہی ہے، چلو بھر پانی والے اور فلیس منی والے۔

ذرا علماء کے اجتہاد کرنے نہ کرنے کی طرف آئیے۔ کس نے یہ الزام نہیں سنا کہ علماء اجتہاد نہیں کرتے۔ کرتے ہیں اور مسلسل کرتے رہتے ہیں۔ سورہ نساء آیت 102 میں حالت جہاد اور موت کے خوف میں بھی جب نماز باجماعت ادا کرنے کی ترکیب بتائی گئی تو اس آیت کا اقتضاالنص دین کے اس بنیادی ستون کی بے پناہ اہمیت واضح کررہا تھا۔ یہ تو سب کو پتا ہے۔ لیکن اسی آیت میں ایک اشارہ النص بھی پوشیدہ ہے۔ مسجدیں بند کرانے والے اہل علم وہ اشارہ النص نہیں سمجھ پا رہے، اسی لئے علماء کا استخفاف ان کے نامہ اعمال میں بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ نماز باجماعت وہ ادارہ ہے، وہ ستون ہے، جی ہاں مسلمان کا بلڈ گروپ ہی نماز باجماعت ہے، اسی سے مسلمان کا دل دھڑکتا ہے، اسی سے اس کی زندگی میں حرکت اور سکون کے پیمانے بنتے, بگڑتے، چھلکتے، ٹوٹتے اور گرتے رہتے ہیں۔ خالق کائنات نے یہ کیوں نہیں کہا کہ جنگ بند ہونے پر بعد میں کسی وقت نماز ادا کر لینا؟ قرآن سے یہی اشارہ النص لے کر انبیاء کے یہ ورثاء یہ علمائے دین یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ جنگ کے علاوہ دیگر بدلے ہوئے حالات میں نماز باجماعت ادا کرنے کے دیگر طریقوں پر سوچنا لازم ہے۔

اور یہ کہ موت سے پہلے نماز باجماعت ہر حال میں فرض ہے۔ انہوں نے سوچا، انڈونیشیا والوں نے سوچا، انڈیا والوں نے سوچا (اگرچہ وہاں عمل نہیں ہو سکا)، رہے باقی کئی دیگر ممالک کے علمائے حق، تو کس کو پتا نہیں ہے کہ وہ جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ آزاد مسلم دنیا کے سب علماء نے ایک ہی نتیجہ نکالا کہ نماز باجماعت کا ایک طریقہ اور بھی ہے۔ چلو بھر پانی پینے والے اس پر عمل بھی کر رہے ہیں۔تو کیا یہ دو چار رکعتیں جنگی مورچے میں ادا نہیں ہوسکتیں؟ ہرگز نہیں! اور یہی اشارہ النص ہے جو جامعات کے پروفیسروں اور کچے پکے اسلام والوں کو سمجھ نہیں آرہا۔ ان تبدیل شدہ حالات میں عام اہل علم کا "اجتہاد" مساوی ہے:" کی فرق پیندہ اے اور یہ کہ "گھر میں نماز ادا کرنے کی اجازت احادیث سے ثابت ہے"۔

یہ اہل علم اگر قانون دان (lawyer) اور قانون ساز (lagislator) کا فرق سمجھ لیں تو نماز باجماعت کی مخالفت کی شدت میں شائد کچھ کمی آجائے. وکیل کتنا بھی پڑھا لکھا کیوں نہ ہو، چیف جسٹس کتنا ہی محترم کیوں نہ ہو، ملک پاکستان خان عبدالولی خان، محمود اعظم فاروقی، جے اے رحیم اور بھٹو کے بنایے ہوئے دستور کے تحت ہی چلے گا, پیروی اسی کی کرنا پڑے گی۔ علم جامعات میں سے حاصل کیا جائے یا مدارس میں سے، لوگ آپ اہل علم کا احترام تو کریں گے لیکن پیروی اسی طبقے کریں گے جسے محرم راز خالق کائنات نے اپنا وارث قرار دے رکھا ہے۔ انبیاء کے ان ورثا نے صلاالخوف سے اشارہ النص لے کر 20نکاتی اجتہاد کر دیا ہے۔ اور رئیس مملکت نے اس پر انگوٹھا بھی لگا دیا ہے۔دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، اہل تشیع یہ سب 1953 کے بعد ایک دفعہ پھر نماز باجماعت کے اس موجودہ مسئلہ پر اکٹھے ہوگئے ہیں تو یہی اجماع ہے اور یہی اجماع امت مسلمہ پاکستان ہے جس کی پیروی ہم سب پر واجب ہے۔

مساجد، نماز اور تراویح کے ان مخالفین سے بڑی دلسوزی کے ساتھ گزارش ہے کہ وہ اپنے اپنے دلوں کو ٹٹولیں کہ وہ کن تعلیمات کا پرچار کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں۔ کرونا نے تو ایک نہ ایک دن ختم ہو ہی جانا ہے۔ رمضان کچھ گزر گیا ہے اور باقی بھی اسی طریقہ سے انشاء اللہ گزر ہی جائے گا لیکن ہم آ پ اپنے اپنے توشہ اعمال میں کیا جمع کر رہے ہیں؟ آج آپ کی پیش گوئی کا وقت بھی پورا ہوگیا ہے۔ دو کروڑ تو کیا چار سو اموات بھی پوری نہیں ہوئیں اور ان اموات پر بھی ماہرین طب کا کوئی آزاد کمیشن بٹھایا جائے تو کچھ نئے حقائق سننے کو ملیں گے۔ ہم سب نے ایک نہ ایک دن مرنا تو ہے ہی، لیکن ہم اپنے ساتھ کیا لے کر جائیں گے؟ علماء کی تضحیک انبیاء کے وارثوں کی کردار کشی؟ آیات قرآنی پر کٹ حجتی؟ اپنے انفرادی علم کو اجتماعی فکر پر فوقیت دینے کی کجی؟کیا یہی میرا آپ کا توشہ آخرت ہے؟ اگر ہاں تو پھر یاد رکھیے! میدان محشر میں محرم راز خالق کائنات سے شاید یہی سننا پڑے، فلیس منی فلیس منی۔

مزید :

رائے -کالم -