مادرِ وطن کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے!

مادرِ وطن کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے!
مادرِ وطن کا دفاع ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے!

  

ہر 15،20دن کے بعد آرمی چیف ایل او سی کا دورہ کرتے ہیں، لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹروں کو وزٹ کرتے ہیں، شہید ہونے والے سویلین کے لواحقین سے اظہار تعزیت و ہمدردی کرتے ہیں، صف بند ٹروپس کی کارکردگی کو سراہتے ہیں، شہید اور زخمی ہونے والے ٹروپس کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، تباہ شدہ مکانات کو دیکھ دیکھ کر افسردہ خاطر ہوتے ہیں، انڈیا کی عسکری قیادت کی مذمت کرتے ہیں کہ وہ بے گناہ پاکستانی شہریوں کی جان و مال کے درپے ہے اور اپنے افسروں اور جوانوں کو دشمن کی ان کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دینے کے احکامات صادر کر دیتے ہیں …… اور پھر جب ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں GHQ میں کور کمانڈرز کانفرنس ہوتی ہے تو اس کے اعلامیے میں بھی یہی باتیں ایک بار پھر دہرائی جاتی ہیں۔

ہم پاکستانی ان تمام باتوں اور خبروں وغیرہ کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیتے اور ان کو ایک معمول سمجھ کر چنداں قابلِ اعتناء نہیں گردانتے۔ لیکن گزشتہ روز (بدھ وار) آرمی چیف نے ایل او سی پر واقع اگلے مورچوں کا دورہ کیا اور آئی ایس پی آر کی طرف سے ان کا جو بیان میڈیا پر آیا اس کے درج ذیل حصے بطورِ خاص قابلِ توجہ ہیں:

1۔ پاک فوج لائن آف کنٹرول پر بے گناہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے۔

2۔ جنگ بندی معاہدے کی پے بہ پے خلاف ورزیوں پر بھارت کو موثر جواب ملنا چاہیے۔

3۔آزاد کشمیر کی شہری آبادیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا انتہائی ناقابلِ برداشت ہو گیا ہے۔

4۔بھارت کی یہ اشتعال انگیزیاں جنوبی ایشیاء کے خطے کے امن کے لئے خطرہ ہیں۔

باوردی ڈویژنل اور بریگیڈ کمانڈروں کو منہ پر ماسک چڑھائے اور دو میٹر کے سماجی فاصلے کی پابندی کرتے ہوئے میڈیا پر جو ویڈیوز دکھائی گئیں وہ موجودہ کورونائی آب و ہوا اور کشیدہ تر ماحول میں انڈیا کو ایک سخت پیغام دے رہی تھیں۔ آرمی چیف کے بیانیے میں یہ فقرات کہ پاک فوج ایل او سی پر بے گناہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور انڈین آرمی کو اس دریدہ دہنی کا موثر جواب دیا جائے گویا ایک ”آپریشن آرڈر (OO) کے مترادف ہے اور LOC کے اس پار بیٹھے بھارتی جرنیلوں کو معلوم ہے کہ اس آرڈر کی سلیس اردو کیا ہے…… ویسے تو ہمارا میڈیا آئے روز یہ ”گھڑا گھڑایا“ فقرہ آن ائر کرتا رہتا ہے کہ پاک فوج نے دشمن کے مورچوں پر زبردست جوابی فائر کیا اور دشمن کو قرار واقعی سزا دیتے ہوئے اس کے فلاح فلاں دانت کھٹے کئے اور اس کو چھٹی یا ساتویں وغیرہ کا دودھ یاد دلایا۔ لیکن جنرل قمر جاوید باوجوہ کے یہ خصوصی (Specific) فقرات تقریباً اعلانِ جنگ کے مترادف تھے۔ لیکن اس اعلانِ جنگ کے بارے میں درج ذیل پہلو وضاحت طلب ہوں گے:

٭ کیا یہ اعلانِ جنگ صرف ایل او سی تک محدود رہے گا یا اس کا دائرہ پھیل کر بین الاقوامی سرحدوں تک بھی چلا جائے گا؟

٭کیا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے عروج (Peak) کے مہینے (مئی) میں طرفین کی افواج کسی محدود (یاغیر محدود) تنازع/ جنگ کی متحمل ہو سکیں گی؟

٭کیا ایل او سی پر لانگ رینج آرٹلری کا استعمال کرنے پر اکتفا کر لیا جائے گا؟ اور پاکستان کے کن کن شہروں تک انڈین دورمار توپوں کا داؤ متوقع ہو گا؟

٭کیا انڈیا گزشتہ برس کی 26فروری والا بلنڈر دہرانے کا ارادہ رکھتا ہے؟

٭کیا طرفین کی سول آبادیاں کسی طویل مدتی جنگ کی متحمل ہو سکیں گی؟

بادی النظر میں متذکرہ بالا پانچوں سوال بہت اہم ہیں لیکن ان میں سے بیشتر کا جواب نفی میں ہوگا۔ لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں، انڈیا کی داخلی صورتِ حال پاکستان کے مقابلے میں زیادہ بحرانی اور مشکل ہے۔ اس مختصر سے کالم میں صرف بعض امور و مسائل کی طرف اشارے ہی کئے جا سکتے ہیں۔مثلاً یہ کہ گزشتہ کئی ماہ سے انڈیا کی مسلم دشمنی ظاہر و باہر ہو چکی ہے۔ مودی حکومت کورونا کے پھیلاؤ کو انڈین مسلمانوں کے سرتھوپ رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایام میں دہلی کے نزدیک واقع تبلیغی مرکز میں ساری دنیا سے جو مسلمان اکٹھے ہوئے تھے وہ کورونا وائرس کو اپنے ساتھ لائے تھے اور اس وائرس کے پھیلانے کی اصل ذمہ داری ہندوستانی مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ یہ معاملہ یہاں تک بڑھ چکا ہے کہ انڈیا کے طول و عرض میں چھابڑی فروش مسلمانوں سے بھی ان کی اشیائے فروخت پر یہ کہہ کر لوگوں کو ورغلایا جا رہا ہے کہ ان مسلمانوں کی طرف سے بیچی جانے والی سبزیاں وائرس زدہ ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں سے خرید و فروخت کی Space کو انتہائی محدود کرکے ان بیچاروں کو فاقہ زدگی پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

بھارتی افواج (بالخصوص اس کی بحریہ) میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی خبریں گردش میں ہیں۔ آپ NDTV اور The Hindu پر ہونے والے ٹاک شوز کو دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ وائرس آنے والے دنوں میں بھارت کے طول و عرض میں بڑی تیزی سے پھیلنے والا ہے۔ وہاں کے میڈیا پر یہ تجزیئے بھی کئے جا رہے ہیں کہ جنوری 1918ء میں دنیا بھر میں فلو (Flue) کی جو وبا پھیلی تھی اور جس میں کروڑوں انسان لقمہ ء اجل بن گئے تھے ان میں پہلی جنگ عظیم زوروں پر تھی۔ اگر آپ اس جنگ کی تفصیلات پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دسمبر 1917ء تک جرمنی کی فتح کے آثار دیوار پر لکھے ہوئے تھے۔ لیکن جب فلو کا وائرس پھیلا تو اس سے وہ فوجی شدید متاثر ہوئے جن کی قوتِ مدافعت اس جنگ کی طوالت کی وجہ سے کمزور پڑنے لگی تھی۔

ورلڈ ملٹری ہسٹری میں پہلی جنگ عظیم کا نام گریٹ وار تھا اور چونکہ اس میں فریقین کا شدید جانی نقصان ہوا تھا (اور ہو رہا تھا) اس لئے فریقین کے ٹروپس کا مدافعتی نظام (Immune System) بہت کمزور ہو گیا تھا۔ اور جب فلو کا یہ وائرس ان پر حملہ آور ہوا تو ان میں سے سینکڑوں ہزاروں دم توڑ گئے۔ معاملہ یہاں تک بڑھا کہ جو جرمن ٹروپس اواخر 1917ء میں بظاہر فتح کے قریب تھے وہ اس وائرس کے حملوں سے بد دل ہو گئے اور جب اگست 1918ء میں یہ گریٹ وار ختم ہوئی تو پانسہ اتحادی افواج کے حق میں پلٹ چکا تھا…… جنگی مورخین کا خیال ہے کہ اس کایا پلت میں فُلو وائرس کا حصہ نمایاں تھا۔

میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان یا انڈیا موجودہ ایام میں کسی محدود جنگ کے بھی متحمل ہو سکتے ہیں۔ دونوں کو کافی بڑے سکیل کے جانی اور مالی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہے تو پھر انڈیا آئے روز ایل او سی کو نشانہ کیوں بنا رہا ہے اور پاکستان کو کیوں مجبور کر رہا ہے کہ وہ اینٹ کا جواب اگر پتھر سے نہ دے تو کم از کم اینٹ سے تو دے؟ اور اسی ”اینٹ بمقابلہ اینٹ“ کو محدود جنگ یا ”ایل او سی تنازعہ“ کہا جا سکتا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا 1999ء کی کارگل وار کو بھی ”کارگل تنازعہ“ (Kargil Conflict) کا نام دیا گیا تھا اور یہ تنازعہ صرف LOC تک ہی محدود رہا تھا حالانکہ اس کا دورانیہ گزشتہ تینوں پاک بھارت جنگوں (1947-48ء،1965ء اور 1971ء)سے طویل تر تھا۔ 1947-48ء کی جنگ بظاہر دو برس تک پھیل گئی تھی لیکن اس جنگ میں بھی گھمسان کے معرکے صرف دوچار ہفتوں تک محدود تھے جبکہ کارگل کا تنازعہ 8ہفتوں (4مئی تا 4جولائی 1999ء) تک پھیل گیا تھا۔

اگر پاکستانی فوج اپنے چیف کے احکامات کے مطابق LOC پر اپنے بے گناہ شہریوں کا تحفظ یقینی بناتی ہے اور اس کے لئے اپنے فوجی اور سویلین مرد و زن کی مزید قربانیاں ناقابلِ قبول ہیں تو ان احکامات کا دوسرا مطلب یہی ہے کہ ”ہرچہ بادا باد“ انڈین ٹروپس کو ”واقعی“ منہ توڑ جواب دیا جائے اور ان کی توپوں کو ”واقعی“ خاموش کر دیا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -