خدارا میتوں کی بے حرمتی روکی جائے

خدارا میتوں کی بے حرمتی روکی جائے
خدارا میتوں کی بے حرمتی روکی جائے

  

دُنیا میں سب سے بڑا سچ اور حقیقت موت ہے دُنیا کے ہر مذہب میں مرنے پر سب کو یقین ہے، البتہ مرنے کے بعد کی رسومات میں اختلاف ضرور ہے، مسلمان، عیسائی،یہودی فوت ہونے والوں کو زمین کے سپرد کرتے ہیں،ہندو،سکھ،پارسی لاشوں کو جلا کر فارغ ہو جاتے ہیں، اللہ نے دُنیا کو بلاوجہ پیدا نہیں کیا باقاعدہ قرآن عظیم الشان میں انسان کو پیدا کرنے کا مقصد واضح کیا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک ایک لاکھ24 ہزار پیغمبروں نے اللہ کا پیغام اپنی اپنی اُمتوں تک پہنچایا اور اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بعد خالق ِ حقیقی سے جا ملے،آج کی نشست میں بحیثیت مسلمان بندے کے بندے پر حق کی بات کرنی ہے۔ اشرف المخلوقات قرار پانے والے انسان کی ذمہ داریوں کی بات کرنا ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی تفصیل میں نہیں جانا ہے، نیکیوں کے موسم بہار رمضان المبارک کی فیوض و برکات میں اہل ِ اقتدار اور علماء اکرام کو اہم مسئلے پر توجہ دلانا ہے۔

پوری دُنیا کی طرح پاکستان بھی کورونا جیسی مہلک بیماری کا شکار ہے جہاں ہر آنے والے دن میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اچھوت کی بیماری کی وجہ سے فوت ہونے والوں کو اللہ کے سپرد کرنے کا عمل انتہائی تضحیک کا شکار ہے، بحیثیت مسلمان فوت ہونے والوں کا اپنے عزیز و اقارب پر حق ہے کہ اسے سنت ِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق سپردِ خاک کیا جائے۔کورونا کے خوف کی وجہ سے اللہ کو پیارے ہونے والوں کے ساتھ بھی بے حرمتی جاری ہے جو نہ شرعی طور پر درست عمل ہے نہ مرنے والے کا حق حقیقی معنوں میں ادا ہو رہا ہے۔بحیثیت مسلمان اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے اور عارضی دُنیاوی زندگی میں ایک سوالنامہ دے دیا گیا ہے جسے ہم نے زندہ رہ کر پُر کرنا ہے۔ زندگی اور موت کے درمیان ایک سانس کا فاصلہ ہے، سانس ٹوٹنے کے بعد زندہ بندہ مردہ قرار پا جاتا ہے۔کورونا ہماری پہلے دن سے متنازعہ چلی آ رہی ہے اس مہلک بیماری کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے جتنے منہ اتنی باتیں۔

امریکن سینیٹرز کا مَیں انٹرویو سن رہا تھا جس میں وہ باقاعدہ اپنی باتیں ریکارڈ پر لاتے ہوئے امریکہ کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں جاری عمل پر اظہارِ تشویش کر رہے تھے جس کے مطابق ڈاکٹرز کو کہا گیا ہے کہ ہر کھانسی اور نزلہ اور گلے کے مریض کو کورونا لکھا جائے۔امریکہ اور دیگر ممالک میں لاکھوں اموات ہونے کے بعد بڑے بڑے دانشور سوال اٹھا رہے ہیں۔ امریکن صدر کے کورونا کے مریضوں کو جراثیم کش انجکشن لگانے کی خبروں نے معاملہ اور متنازعہ بنا دیا ہے۔ یہ بات تو امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک کی ہے، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے وطن ِ عزیز میں بھی اس عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔مَیں چشم دیدہ گواہ ہوں، بعض اموات کا اللہ کو پیارے ہوئے دِل کی تکلیف کی وجہ سے، مگر ہسپتال والوں نے کورونا کا خدشہ ظاہر کر کے مریض کو 1122 کے عملے کے سپرد کر دیا،اِسے دفنا دیا جائے۔ اہم ترین کیس ہمارے سنڈے میگزین ”زندگی“ کے ڈائریکٹر میاں اخلاق الرحمن کے کزن کی گزشتہ ہفتے موت کا ہے۔ ایئر فورس کے سینئر افسر تھے دِل کی تکلیف کی وجہ سے چل بسے، ہسپتال والوں نے تفصیلی رپورٹس آنے سے پہلے ہی کورونا کا خدشہ ظاہر کر کے لاش ایئر فورس کے عملے کے سپرد کر دی اور عزیز و اقارب کے ٹیسٹ ہونا شروع ہو گئے۔ اللہ والے کو چند سرکاری اہلکاروں نے ہاتھ لگائے بغیر سپردِخاک کر دیا۔ عزیز و اقارب کے ٹیسٹ منفی آئے، پورے خاندان میں خوف کے سائے ہونے کی وجہ سے کوئی رشتے دار بھی تعزیت کے لئے نہ آ سکا۔ فوت ہونے والا دردِ دِل رکھنے والا فرد تھا، سینکڑوں افراد سے میل جول تھا، ہر بندہ ان کی فیملی کے ساتھ تعزیت کے لئے آنے کا خواہاں تھا، مگر کورونا ظاہر کر کے میت کو خوف کی علامت بنا کر رسوں کے ذریعے قبر میں پھینک دیا گیا، بچوں بڑوں کا اپنے بھائی،

اپنے باپ کی قبر پر مٹی کے دو بُک (دو ہاتھ مٹی بھر کر) ڈالنے کو خواب بنا دیا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے سعید عباسی صاحب کو سپردِخاک کرنے کے بعد جو رپورٹ آئی اس میں ان کی موت کی وجہ ہارٹ اٹیک ثابت ہوئی ہے۔ کورونا منفی آیا ہے اب لواحقین کس سے انصاف کریں۔ اسی طرح کا ایک واقع مصطفی ٹاؤن اور کرامت کالونی میں ہو چکا ہے۔ڈبلیو ایچ او مرنے والوں کے حوالے کر کے کلیئر ہو چکا ہے، فوت ہونے کے بعد لاش پر کورونا کے کسی قسم کے اثرات نہیں ہوتے، اس لئے تدفین کے عمل کو احسن انداز میں مکمل کیا جائے۔ اسی طرح سالہا سال سے حرم مکہ شریف میں درس دینے والے شیخ محمد مکی حجازی نے تازہ ترین فتویٰ جاری کیا ہے مرنے والوں کو غیر مسلموں کے سپرد کرنا ناجائز ہے۔ مسلمانوں کو کورونا سے فوت ہونے والوں کو غسل دیا جائے اور پھر سنت ِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد سپردِخاک کیا جائے۔ پاکستان میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے کورونا یا کسی دوسری بیماری سے فوت ہونے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا ہے۔کورونا نہیں اس عبرتناک موت کے خوف کی وجہ سے بڑے بڑے بزرگ گھروں میں قید ہو کر مر رہے ہیں، کچھ حلقے کورونا سے مرنے والوں کو شہید کہتے ہیں،مگر دفنانے کا عمل اسی کی نفی کرتا ہے۔

شہید ایسا ہوتا ہے اس کو چھونے سے بھی خوف کیا جائے یا ہاتھ لگانے کی بجائے رسیوں کے ذریعے لاش کے ڈبے کو دور دور سے ہی قبر میں پھینک دیا جائے، خدارا اس دوعملی کا نوٹس لیا جائے۔ علمائے اکرام اپنا کردار ادا کریں، اہل اقتدار مضبوط لائحہ عمل ترتیت دیں۔ فوت ہونے والے کا جو حق ہے اس کی ادائیگی کے لئے واضح احکامات جاری کئے جائیں۔ اہل ِ پاکستان میں لاشوں کی بے حرمتی، جنازے پر پابندی، میت کے قریب جانے پر پابندی کی خبریں نہیں، اچھوت قرار دے کر دھڑلے سے شائر اسلام کا مذاق اڑانے کا عمل محدود نہیں،دُنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کو دفنانا بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔پردیس میں فوت ہونے والوں کی لاشوں کو کئی کئی ہفتوں تک سردخانوں میں رکھا جاتا ہے اور پانچ سے دس سال کے لئے قبر لیز پر لینے کے لئے لاکھوں روپے درکار ہیں۔

اگر بیرون ملک فوت ہونے والے کو پاکستان لایا جائے تو یہ سب سے بڑی آزمائش ہے، میت کے لئے بھی اور لواحقین کے لئے بھی۔ عام خاندانوں کے پاس میت واپس لانے کے لئے جہاز کا کرایہ بھی نہیں ہے اِس لئے پاکستان سمیت دُنیا بھر میں مرنے والے مسلمانوں کی لاشوں کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔

بس اتنی درخواست کرنی ہے کوئی حکومت، عدالت، میڈیا نوٹس لے گا یا اِسی طرح زندہ اور مردہ دونوں کو ذلیل کیا جاتا رہے گا۔

مزید :

رائے -کالم -