نیشنل کمیشن برائے اقلیت میں قادیانیوں کی شمولیت مسترد کرتے ہیں،علماء

نیشنل کمیشن برائے اقلیت میں قادیانیوں کی شمولیت مسترد کرتے ہیں،علماء

  

لاہور (پ ر) انٹر نیشنل ختم نبوت مؤومنٹ کے مرکزی امیر مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنائیت اللہ،نائب امیرمولانا عبدالرؤف مکی،مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا ڈاکٹر مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج، مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے، مولانا صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی،قاری شبیر احمد عثمانی،مولانا غلام یٰسین صدیقی،مولانا افتخار اللہ شاکر،قاری محمد رفیق وجھوی،حاجی محبوب احمد ملک،پیر جی خالد محمود قاسمی،قاری احمد علی ندیم،مولانا گلزار احمد آزاد،حافظ محمد طیب قاسمی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان نے نیشنل کمیشن برائے اقلیت میں قادیانیوں کی شمولیت کو مستردکردیا ہے وزیر اعظم پاکستان اور وزارت مذہبی اموراپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔قادیانی اسلام اور آئین پاکستان کے دشمن ہیں کہ جب سے قادیانیوں کو آئین میں متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے،قادیانیوں نے کبھی آئین کی اس شق کو تسلیم نہیں کیا۔

بلکہ برابر دستور پاکستان اور پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلہ کا انکار کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ پاکستان کیخلاف عالمی سطح پر منفی پروپیگنڈہ کرتے رہے ہیں۔حکومت اس فیصلہ پرنظر ثانی کرے اور امت مسلمہ کے اندر پیدا ہونے والے تحفظات کو دور کرے انہوں نے کہا کہ پہلے حج فارم سے ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کی کوشش کی گئی،اب آئین پاکستان کے منکر اور باغیوں کو کمیشن میں شامل کرنا تشویش کا باعث ہے۔اس سے گنجائش نکالی جارہی ہے کہ انہیں حکومتی کمیٹیوں، بین المذاہب مکالمہ اور دیگر فورموں میں آئین کے منکر ہوتے ہوئے بھی شامل کرلیا جائے۔ حکومت کا یہ اقدام قادیانیوں کو سیڑھی مہیا کرنے کے مترادف ہے، جب تک وہ اپنی آئینی حیثیت غیر مسلم کو تسلیم نہ کریں،انہیں کسی حکومتی ادارہ، کمیشن یا کمیٹی میں شامل کرنا، آئین شکن گروہ کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اپنی آئینی حیثیت تسلیم کرکے بطو رغیر مسلم کے کمیشن میں آ ئیں جب تک قادیانی اپنی غیر مسلم آئینی حیثیت تسلیم نہیں کرتے ان کو کسی بھی کمیشن میں شامل کرنا پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -