کورونا وائرس مزدروں کے عالمی تہوار کو بھی کھاگیا

کورونا وائرس مزدروں کے عالمی تہوار کو بھی کھاگیا

  

عالمی یوم مئی مزدوروں کی فتح کا دن دنیا بھر کے مزدوروں کی طبقاتی جدوجہدد متحد ہونے کا پیغام، طبقاتی کشمکش کی بنیاد بن گیا اسکا آغاز 1886ء میں امریکہ کے صنعت شہر شکاگو سے ہوا۔ صنعت کارون اور سرمایہ داروں کے گٹھ جوڑ ریاستی مشینری سرمایہ کی چمک کے ذریعہ استعمال میں لاکر نہتے مزدوروں پر ظلم تشدد کی انتہاء کے خلاف دنیا بھر کے مزدوروں کی عالمی تنطیم نے پیرس میں 1889ء سے باقاعدہ ہر سال عالمی سطح پر باقاعدہ منانے کی تجویز فریڈرک اینگلز نے تا سیسی کانفرنس کے اجلاس میں منظر عام پر لاتے ہوئے پیش کی چونکہ یہ تجویز کارل مارکس کے پر اعتماد دیرینہ جدوجہد کے ساتھی نے پیش کی اس لئے اہمیت اختیار کر گیا اور منظور کر لی گئی جس میں طے پایا کہ یکم مئی کو عالمی دن تہوار کے طور سرخ جھنڈے اٹھا کر یکجہتی کے ساتھ ہر سال منایا جائے گا بغیر رنگ نسل ثقافتی لسانی جغرافیائی سماجی تقسیم کے دنیا بھر کے محنت کش ایک ہو جاؤ کے نعرہ کے ساتھ 1886ء میں مزدوروں پر ہونے والے بے دریغ تشدد خون بہانے کے خلاف منانے کاعزم ظاہر کیا گیا،جسے عالمی طور پر دنیا بھر کے محنت کشوں نے لازوال قربانیاں دے کر کامیاب بنایا مزدوروں کی منظم تنظیم بنانے کی ابتداء 1886ء میں شکاگو کے شہیدوں کی جدوجہد سے کی گئی،جس کا مطالبہ تھا کہ مزدوروں سے 8گھنٹے سے زائدکام نہ لیا جائے 8 گھنٹہ سے زائد کام لینے پر ڈبل اوور ٹائم دیا جائے۔امریکہ کے صنعتی حب حقوق کے حصول کے لیے مطالبہ کے لیے شکاگو میں مزدوروں نے سفید جھنڈے اٹھا کر اپنے بیوی بچوں کیساتھ پر امن طریق سے آغاز کیا سفید جھندا پر امن ہونے اور بیوی بچوں کیساتھ شرکت بھی پرامن ہونے کا عملی ثبوت تھا مگر سرمایہ دارانہ ذہنیت سرمایہ کے نشہ میں مست استحصالی قوتوں کے حکمرانوں نے پر امن محنت کشوں کے پر امن ایکشن کو ریاستی مشینری کی طاقت سے ملیا میٹ کرنے کے لیے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جسکے نتیجہ میں مزدوروں کے اٹھائے ہوئے سفید بینرز جھنڈے انکے خون سے سرخ ہو گئے محنت کشوں کے خون کا سرخ رنگ محنت کشوں کی جدو جہد کا نشان بن گیا اور مزدور کے جھنڈے کا رنگ سرخ رنگ بکھر گیا تاریخ میں سرخی کا رنگ بکھیر گیا اس تاریخی واقعہ کی مناسبت سے ہر سال پاکستان میں بھی یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن کے طور پرمنایا جانے لگا۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ یکم مکئی کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کی حکومت کیخلاف منانے کا اعلان کر کے کیا پیپلز پارٹی کے چیئر میں زوالفقار علی بھٹو نے تمام مزدور تنظیموں کو پاکستان میں اس دن منانے کے لیے ساتھ دینے کی دعوت دی مگر اس وقت بنام سرکار لیبر لیڈر جوکہ لیبر لیڈر کم اور لیبر ڈیلر زیادہ تھے نے بھٹو کی اس دعوت کو قبول نہ کیا اور حکومت کے خلاف اور حاصل شدہ ملنے والی مراعات چھن نہ جائیں کے خوف سے ٖصاف انکار کردیا۔ بندہ نا چیز PPPکے بانی ورکر ہونے کی حیثیت سے اور زیڈ اے بھٹو کے حکم پر نصرت بھٹو صاحبہ کے ہمراہ ہم ایک ایک مزددور لیڈر کے گھر گئے مگر ہمیں کسی نے گھاس نہ ڈالی پھر بھٹو صاحب نے خود پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے یکم مئی منانے کا اعلان کیا جسے مزدور لیڈروں نے قبول نہ کیا مگر پاکستان بھر کے مزدوروں نے بھٹو کے اعلان کا خیر مقدم کر تے ہوئے بھرپور انداز سے شرکت کی جسکے نتیجہ میں مجبور ہوکر مزدور لیڈروں کو بھی ان ریلیوں میں شرکت کرنا پڑی بھٹو نے مزدور لیڈروں کو جب PPPکی کال پر نکالی گئی ریلی میں شریک دیکھا تو بھٹو صاحب نے مزدور لیڈروں کو ہاتھ سے پکڑ کر آ گے لگنے، قیادت کر نے کی دعوت دی اور کہا کہ آپ قیادت کریں مگر محنت کش مزدور لیڈروں کے پیچھے جانے کی بجائے بھٹو صاحب کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے بھٹو صاحب کے پیچھے آ جاتے۔

پیپلز پارٹی نے بر سر اقتدار آ کر پہلی بار با قاعدہ یوم مئی سرکاری طور پر شایان شان طریقے سے ہر سال منایا جبکہ ضیاء الحق کے مارشل لاء میں مزدوروں کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا ٹریڈ یونینز ختم کر دی گئیں مزدور لیڈروں کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں دی گئی صرف بنام سرکار مزدور لیڈروں کو جوکہ انگریز کے زمانے سے CIDانٹیلی جنس کی ایجنسیوں کے منظور نظر تھے رہنے دیا گیا باقی ایک ایک مزددور لیڈر اور مزدور تنظیموں کو نشان عبرت بنا دیا۔ مارشل لاء کے خاتمہ کے بعد بے نظیر بھٹو صاحبہ اقتدار میں آئیں تو انہوں نے بھی یوم مئی کو سرکاری طور پر منایا مزدوروں کی بہتری کیلیے اہم عہدے پارٹی لیڈروں کو دیئے گئے۔ چیئرمین نیشنل انڈسٹریل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن میں چیئر مین اور ممبران کمیٹی پارٹی کے لوگوں میں سے بنائے تاکہ جن جن مزدوروں کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا تھا انکی عزت اور نوکری بحال ہو مگر جو بھی جس منصب پر بیٹھا اس کے لیے انقلاب آگیا مگر مزدوروں کو آج تک بحال نہ کیا جا سکا انصاف سے محروم رکھا گیا۔ جن کا جو حق بنتا تھا ان کو ان کا حق بھی نہ ملا PPPاور نواز لیگ کے جو جو عہدے دار جہاں بیٹھے تھے جو مراعات یافتہ تھے وہ آج بھی مراعات یافتہ ہیں PPP اور نواز کے دور میں جن کو انصاف نہ ملا وہ بدستور انصاف اور میرٹ کی پامالی کا شکار ہیں۔ محکمانہ انصاف سے ہر ملازم محروم ہے یہاں تک کہ اپنے حق سے بدستور محروم ہیں۔ظلم یہ کہ کرونا وائرس بیماری نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا نتیجتاً انصاف میرٹ حق دار کو حق تو دور کی بات اب ہر کوئی کرونا سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر ڈھونڈ رہا ہے ایسے میں یکم مئی جو کہ عالمی طور پر مزوروں کی فتح کا تہوار تھا یکم مئی جوکہ حقوق کے حصول کیلئے یکجہتی کیساتھ جدوجہد کا ذریعہ، فیصلہ کن جدوجہد کا معرکہ آرائی کا پیغام تھا عالمی بیماری کرونا سے بچنے، فاصلہ بڑھانے میں بچت کے پیغام میں بدل گئی ہے۔ عا لمی کرونا وائرس مزوروں کے عا لمی تہوار کو بھی کھا گیا ہم پاکستان بھر کے محنت کش عہد کرتے ہیں کہ ہم کورونا وائرس سے ڈریں گے نہیں لڑیں گے اس کیساتھ ساتھ استحصالی قوتوں، ظلم نا انصافی کی پامالی اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے استحصال سے پاک معاشرے کے قیام مزدور کسان راج تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 2 -