”بھوک کے ہاتھوں مزدور بکھر جاتا ہے“ ِ

”بھوک کے ہاتھوں مزدور بکھر جاتا ہے“ ِ

  

حکومت کو چاہیے کہ محنت کشوں کی اُجرت میں اضافہ کرے

پُرسکون، خوبصورت زندگی کا خواب جس میں خوشیاں ہوں، امن ہو، روشن مستقبل ہو، خوبصورت گھر ہو، خوشحالی ہو، زندگی میں بہار ہو، مشکلات نہ ہوں، ایسا خواب دُنیا کا ہر انسان دیکھتاہے اور اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کے لئے دِن رات محنت کرتا ہے، خون پسینہ بہاتاہے اور بھرپور جدوجہد کرتا ہے لیکن تمام تر توانائیاں صرف کرنے کے باوجود مزدور کو اُس کا حق اور مقام نہیں مِلتا اور تمام خواب اپنے سینے میں لیئے اپنے بچوں کے رزق کے لئے بھٹکتارہتا ہے۔ کبھی کام مل جائے تو پیٹ کی آگ بُجھ جاتی ہے ورنہ سینے پر پتھر رکھ کر بچوں کے پاس جانا پڑتا ہے۔

آج بھی وہ روز کی طرح رزق کی تلاش میں شہر کے چوراھے پر کھڑا تھا۔ جہاں کچھ اور لوگ بھی موجود تھے، جن کے چہرے مرجھائے، آنکھوں میں مایوسی، اُلجھے ہوئے بال، پھٹے پرانے کپڑے پہنے جیسے کسی کا انتظار کررہے ہوں لیکن آج تو مارکیٹیں بند تھیں، سڑکوں پر ٹریفک بھی بہت کم تھی۔ کوئی ایک گاڑی جب دور سے آتی ہوئی نظر آتی تو سب کی نگاہیں اُس کی طرف دیکھنے لگتی کچھ لوگ تو لپک کر گاڑی کی طرف دوڑتے لیکن گاڑی فراٹے بھرتی قریب سے گزر جاتی اور وہ مایوس نگاہوں سے گاڑی کو جاتے ہوئے دیکھتے اپنی جگہ پر آکر کھڑے ہو جاتے۔ یہ سلسلہ دوپہر تک چلتا رہا لیکن آج کوئی گاڑی ان کے پاس نہ رُکی۔ وہاں کھڑے سب لوگ بہت پریشان تھے۔ مایوسی اور پریشانی بڑھتی گئی اور جو لوگ اُس کے ساتھ چوراہے پر موجود تھے وہ بھی ایک ایک کرکے مایوسی کی حالت میں واپس جانے لگے۔ اب وہ اکیلا چوراھے پر کھڑا تھا۔ اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے پھر اُسے یاد آیا آج تو یکم مئی یوم مزدور ہے۔ تمام کاروبار زندگی بند ہے۔ صاحب لوگ گھروں میں چھٹی منارہے ہیں اور وہ بوجھل قدموں کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔

بھوک کے پیاس کے خطرات سے ڈر جاتاہے

مار کے اپنے ہی بچوں کو وہ مرجاتا ہے

ہر طرف اس کی ہی محنت کے مظاہر ہیں مگر

بھوک کے ہاتھ سے مزدور بِکھر جاتا ہے

یکم مئی 1886ء کو شکاگو اور ا مریکہ کے مختلف صنعتی اداروں کے تین لاکھ محنت کشوں نے سرمایا داروں کے ظالمانہ، غلامانہ رویہ اور جبری مشقت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور ایک دِن کے اوقات کار صرف آٹھ گھنٹے روازانہ کی قانونی حیثیت کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے مظاہرہ روکنے کے لئے محنت کشوں پر ظُلم و بربریت اور تشدد کیا اور مظاہرین پر گولیوں کی بوجھاڑ کردی۔ جس کے نتیجے میں بے شمار محنت کش ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ لاتعداد محنت کشوں کو اپناجائز حق ما نگنے کی سزا بہیمانہ تشدد اور اپنی قیمتی جانوں کی قربانی کی صورت میں ادا کرنا پڑی اور لاتعداد محنت کشوں کو گرفتار کرکے مقدمات در ج کئے گئے اور کئی کو پھانسیاں دی گئی۔ ہلاک ہونے والئے رہنماؤں نے کہا تم ہمیں جسمانی طور پر ختم کرسکتے ہو، لیکن ہماری آواز نہیں دبا سکتے۔ محنت کشوں کا یہ خونی انقلاب اور قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ دُنیا آج ہر سال یکم مئی مزدوروں کے دن کے طور پر مناتی ہے۔ یکم مئی بلند ہمت محنت کشوں سے اظہار ہمدردی اور اُن کی عظمت کو سلام کرنے کا دِن ہے۔ یکم مئی استحصال کا شکار اور محنت کے جائز معاوضے سے محروم محنت کشوں کو اُن کا حق دلانے کا دن ہے۔ یکم مئی منانے کا مقصد مزدور دُشمن ظالمانہ نظام کا خاتمہ ہے۔

دُنیا کے بہت سے ممالک کی طرح ہر سال پاکستان میں یوم مئی محنت کشوں کے دن کے طور پر منایا جاتاہے۔اس روز حکمران، سیاست دان، سیاسی و سماجی اور مزدور تنظیموں کی طرف سے مختلف شہروں میں محنت کشوں کے حقوق کے لئے جلسے جلوس، کانفرنس اور سیمنار زکا انعقادکیا جاتا ہے شاہراؤں پر ریلیاں نکالی جاتی ہیں این جی اوز، سیاسی و سماجی لیڈر محنت کشوں کے استحصالی نظام کے خاتمہ، فلاح و بہبود اور اُنکے حقوق کے حصول کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں۔ بیماری اور علاج معالجہ کی بہترین سہولیات، بچوں کی مفت تعلیم، بہترین سفری سہولیات اور بچوں کے بہتر مستقبل کے سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں۔

نبی اکرمﷺ نے سرمایا دار اور محنت کش کے حقوق و فرائض کے لئے ہماری راہنمائی فرمائی کہ مزدور کی مزدوری اُس کا پسینہ، خشک ہونے سے پہلے اداکرو، ہم مہذب لوگ، شرفاء حقوق سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن ہم احادیث اور اقوال کو صرف تقاریر اور لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں، جبکہ عملی طور پر نہیں، ہم یوم مزدور پر محنت کشوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ یہ بات تو ہم پہلے بھی کئی مرتبہ کرچُکے ہیں۔

وِطن عزیز میں بھی محنت کشوں کی حالت زار نہایت ابتر ہے اُن کی بہتری اور حقوق کے حصول کے بلندو بانگ دعوئے تو کئے جاتے ہیں، لیکن کسی حکومت نے بھی محنت کشوں کی طرف کوئی خاص توجہ نہ دی۔ ارکان پارلیمنٹ اور وزراء اپنی تنخواہیں بڑھا لیتے ہیں حالانکہ وہ سب سرمایا دار ہوتے ہیں اور جب ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کا وقت آتا ہے تو حکومت کے پاس فنڈ نہیں ہوتے۔

مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے مہنگائی نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہاڑی دار محنت کش سب سے زیادہ متاثر ہے۔ علاج و معالجہ، بجلی، گیس اور پانی کے بلوں کی ادائیگی، بچوں کے سکول کی فیس تو دور دو وقت کے کھانے کا انتظام ہی کرنا مشکل ہے۔حکومت اپنے طور پر اور صاحب ثروت افراد کے تعاون سے 12000/روپے فی خاندان اور راشن تو تقسیم کررہی ہے لیکن یہ ہر کسی کی بہنچ سے دور ہے، کیونکہ کچھ سفید پوش افراد جنہیں ہاتھ پھیلانا نہیں آتا وہ مرنا تو پسند کریں گے مگر فوٹو بنواکر اپنی مفلسی کا مزاق اُڑانا اور اشتہار لگانا پسند نہیں کریں گے۔

خود دار میرے شہر کا فاقوں سے مرگیا

راشن تو بٹ رہا تھا وہ فوٹو سے ڈرگیا

حکومت کو چاہیے کہ محنت کشوں کی اُجرت میں اضافہ کرے اور امداد کا کوئی ایسا شفاف طریقہ کار واضع کرے جس سے سفید پوش افراد تک بھی اُس کی رسائی ہو۔ بجلی، گیس اور پانی کے بِلوں کو دو یا تین ماہ کے لئے ختم کردے تاکہ ایسے افراد کو بھی کسی حد تک ریلیف میسر آسکے جو ہاتھ نہیں پھیلا سکتے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 2 -