روزے کے مقاصد اور برکات

روزے کے مقاصد اور برکات

  

رشید احمد رضوی

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

ترجمہ:۔ اور میں نے جن اور آدمی اپنے لیے بنائے کہ میری بندگی کریں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عظمت انسانی کا راز اس کے مقصد حیات میں پوشیدہ ہے اور یہ مقصد ہے معبود برحق کی عبادت اور بندگی۔ جب اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق کا مقصد بیان کردیا ہے تو ہمارے لئے یہ جاننا نہایت افضل ہے کہ عبادت کیا چیز ہے اور اسلام نے جو عبادات ہم پر فرض کی ہیں ان کی اصل حقیقت اور روح کیا ہے۔

ترجمہ:۔ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو رب سارے جہان کا ہے۔

اب انسان کو چاہئے کہ وہ ایک فرما نبردار اور باوفا غلام کی حیثیت سے احکامات خداوندی کو بجا لائے اور زندگی کے ہر شعبہ میں جو بھی عمل سرانجام دے وہ اپنے رب کی طرف سے عطاکردہ ہدایت اور راہ نمائی کے مطابق ہو ا وہ یہ کام اس غرض سے کرے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو اور حکم خدا کی خلاف ورزی اس لئے نہ کرے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو روح اور جسم کا مجموعہ بنایا ہے۔ جس طرح انسان کھانے پینے کی کمی سے جسمانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے اس طرح روحانی غذا کی کمی سے روحانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے جہاں دنیا میں انسان کے لئے طرح طرح کی اشیائے خورد نوش پیدا کی ہیں وہاں ہماری روحانی قوت کے لئے بھی بہت احکامات ارشاد فرمائے ہیں۔ انہی عبادات میں روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کو جسمانی و روحانی دونوں قوتوں کی مضبوطی عطاء کرتا ہے۔ کہ انسان اس عظیم عبادت پر عمل کرکے اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرسکتا ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے۔

ترجمہ:۔اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے کہ اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیز گاری ملے۔

ایمان والوں سے ارشاد ہے کہ روزے صرف تم پر ہی فرض نہیں ہوئے بلکہ تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے۔ البتہ ان کی نوعیت مختلف تھی اور تم پر اس لئے فرض کئے گئے کہ تم متقی اور پرہیز گار ہو جاؤ تقویٰ کے معنی ہیں احکام خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم ہو جائے دل سراپانیاز بن کر بارگاہ رب العزت میں جھک جائے اور اعضائے بدن اطاعت و فرمانبرداری کی مجسم تصویر بن جائے۔

ارشاد ہوتا ہے کہ

ترجمہ: گنتی کے دن ہیں۔

انسان کو ہر وقت لاکھوں نعمتیں دینے والا خالق و مالک یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ سال بھر میری نعمتوں سے لطف اندوز ہونے والا انسان میرے حکم اور میری رضا کی خاطر صرف گنتی کے چند دنوں میں کچھ وقت کے لئے انہیں چھوڑ سکتا ہے یا نہیں۔

روزہ رکھنے سے صبروتحمل کی عادت پڑتی ہے، روزہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکرکا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور روزہ کے ذریعے خدا تعالیٰ کی شکر گزاری کا موقع ملتا ہے۔ روزے سے انسان کی عقل کو نفس پر پورا پورا غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ روزہ سے جہاد کی تربیت حاصل ہوتی ہے اور روزہ سے چشم بصیرت کھلتی ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت، درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کی ہر رات تین بار فرماتا ہے کہ ہے کوئی سائل کہ اس کا سوال پورا کروں۔ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کروں۔ ہے کوئی اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنے والا کہ اس کے گناہ معاف کردوں۔

سید الانبیاء ﷺ نے فرمایا کہ رمضان المبارک میں روزانہ افطارکے وقت حق تعالیٰ دس لاکھ ایسے مسلمان گنہگاروں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے جن میں سے ہر ایک پر عذاب واجب ہو چکا ہوتا ہے پھر جب جمعہ کی شب آتی ہے تو حق تعالیٰ جمعہ کی ہر ساعت میں دس دس لاکھ انسانوں کو آزاد فرماتا ہے جن پر عذاب واجب ہو چکا تھا۔ پھر جب رمضان کا آخری دن آتا ہے تو اس دن حق تعالیٰ اول سے آخر تک جس قدر بخشے گے ہیں ان سب کی تعداد کے برابر گنہگاروں کو بخشتا ہے۔(غنیہ الطالبین)

احادیث مبارکہ میں اس ماہ مقدس کے چار نام ہیں -1 ماہ رمضان -2 ماہ صبر-3 ماہ مواسات اور -4 ماہ وسعت رزق۔

-1 روزہ کی فرصیت کے وقت یہ مہینہ سخت گرمی کے موسم آیا۔ گرمی میں رو زہ دار پیاس کی شدت محسو س کرتا ہے اس لئے اس کو رمضان کہتے ہیں۔

-2 روزہ صبر کرنے کا نام ہے جس کی جزا اللہ تعالیٰ خود دے گا۔

-3 مواسات کے معنی بھلائی کرنے کے ہیں اس ماہ مبارک میں لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا باعث ثواب ہے۔

-4 اس ماہ مبارک میں رزق بڑھا دیا جاتا ہے اس لئے ماہ وسعت رزق کہا جاتا ہے۔

حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ہر چیز کی زکوٰۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے۔

آقائے دو جہاں حضور اکرم ﷺ کا فرمان عالی شان ہے میری اُمت کو رمضان شریف کے ماہ مبارک میں پانچ باتیں عطاء ہوئیں۔ جو پہلے کسی اُمت کو عطاء نہیں ہوئیں۔

-1 روزہ دار کے مُنہ کی بُو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔

-2 فرشتے اُن کے لیے افطار تک دُعائے مغفرت کرتے ہیں۔ -3

شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں۔

-4 اللہ تعالیٰ ہر روز جنت کو آراستہ کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ میرے بندوں سے تکلیف و کمزوری دور ہو جائے۔

-5 رمضان شریف کی آخری رات میں اُن کی بخشش کردی جاتی ہے۔

حضرت عبدالرحمن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب رمضان آتا ہے تو جنت کے در وازے کھول دے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔اور شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے اُمت محمدیہ کو دونور عطاکیے ہیں تاکہ وہ دو اندھیروں کے ضرر سے محفوظ رہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی یا اللہ وہ کون سے دونور ہیں ارشاد ہوا نور رمضان اور نور قرآن اور دو اندھیرے ایک قبر کا اور ایک قیامت کا۔

حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔ آدمی کا ہر عمل خدا کے ہاں کچھ نہ کچھ بڑھتاہے ایک نیکی دس گناہ سے سات سو گنا تک بڑھادی جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزہ اس سے مستشنےٰ ہے وہ میری مرضی پر ہے میں جنتا چاہوں اس کا بدلہ دوں۔

رحمت عالم آقاﷺ نے ایک اور جگہ اشاد فرمایا! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ سے آنے والی بو اللہ رب العزت کو کستوری سے بھی زیادہ عزیز ہے۔

آقا کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندہ انسانی خواہشات اور کھانے پینے کو صرف میری رضا کی خاطر ترک کرتا ہے پس روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دے سکتا ہوں۔

رمضان کا آخری عشرہ میں عبادت کی بڑی فضلتیں ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تھا تو حضور اقدس ﷺ تہبند کو مضبوط باندھ لیتے تھے۔اور رات بھر عبادت کرتے تھے۔ اور اپنے گھر والوں کو بھی عبادت کے لئے جگاتے تھے۔شب قدر آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہوتی ہے اس کی بڑی فضلیت ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ السلام سے پوچھا کہ یار سول اللہ اگر میں شب قدر پالوں اس میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھو۔

ترجمہ:۔ اے اللہ تو معاف فرمانے والا ہے معاف کرنا تجھے پسند ہے تو مجھے معاف فرمادے۔

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ایک اور اہم عبادت اعتکاف کی ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے کہ حضوراکرم ﷺ نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا اور اگر ایک سال اعتکاف نہیں فرمایا تو دوسرے سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرمﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ اس طریقہ پر آپ نے وصال فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی فیوض و برکات سے مستفید ہونے کی توفیق فرمائے۔٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -