سیرت حضرت فاطمۃ الزہرہ سلام اللہ علیہا

سیرت حضرت فاطمۃ الزہرہ سلام اللہ علیہا

  

پیر سید منور حسین شاہ جماعتی

حضور نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی سب سے چھوٹی صاحبزادی کا نام حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تھا، آپ بہت لاڈلی صاحبزادی تھیں لیکن آپ کو بچپن میں بڑے مشکل اور کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑا، ایک طرف چھوٹی سی عمر میں سر سے ماں کا سایہ اٹھ گیا تو دوسری جانب دشمنان اسلام کی طرف سے اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائی جا رہی تھیں۔ کبھی ابوجہل کی سختی کی شکایت لیکر بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوتیں تو کبھی اپنے والد محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کفار کے ناپاک منصوبے دیکھ کر اشک بہاتیں، کبھی رحمت عالمیان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بابرکت کندھوں سے غلاظت دور کرنے پہنچتیں تو کبھی شعب ابی طالب میں ہوشربا حالات کا صبرواستقلال سے سامنا کرتیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا سرکار عالی وقار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ایسے تشریف لائیں کہ آپ کی چشمان کرم سے آنسو رواں تھے، غمخوار امت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا سبب پوچھا تو فرمایا: ”اباجان! میں کیوں نہ رو?ں! کفار قریش کا ایک گروہ حجراسود کے پاس لات و عزیٰ اور منات کی قسمیں کھا رہا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لیا تو شہید کر دینگے اور ان میں کوئی شخص ایسا نہیں کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس خون سے اپنا حصہ پہچانا نہ ہو“۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ”میری بیٹی! وضو کا برتن لیکر آ?“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا اور مسجد کی طرف روانہ ہو گئے، جب کفار قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو بول اٹھے ”یہ رہے وہ“۔ پھر ان کے سر جھک گئے اور ان کی ٹھوڑیاں ان کے سامنے ساقط ہو گئیں، یہ اپنی آنکھ تک نہ اٹھا سکے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مٹھی میں خاک لیکر ان پر ماری اور ارشاد فرمایا ”چہرے بگڑ گئے“ تو جس شخص کو ان میں سے کوئی کنکری لگی، وہ بدر کے دن کفر کی حالت میں قتل کر دیا گیا۔

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں باہمی رضامندی سے گھریلو امور اور ذمہ داریوں کی تقسیم کچھ اس طرح کر رکھی تھیں کہ باہر کے سارے امور اور ضروریاتِ زندگی کی فراہمی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ذمے تھی اور گھر کے سارے کام، چکی پیسنا، جھاڑو دینا، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر گھریلو امور کی انجام دہی حضرت سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا کے سپرد تھی۔ سیدہ کائنات رضی اللہ عنہا اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ تھیں کہ بیوی کا مزاج شوہر کے مزاج اور فکروعمل پر براہِ راست اثرانداز ہوتا ہے، وہ چاہے تو اسے سعادتمندی کی مسند پر بٹھا دے اور چاہے تو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دے۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مردِمیدان تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدنی زندگی میں جتنے معرکہ ہائے حق و باطل بپا ہوئے، ان میں علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی کاری ضربیں تاریخ شجاعت کا تابناک باب ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ فاتح خیبر، غازی بدرواحد و حنین اور خندق کے صف اوّل کے مجاہد تھے۔ ایسے ہمہ جہت مردِمجاہد اور عظیم سپہ سالار کا ساتھ دینے کیلئے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی خیرخواہ، محب و مخلص اور بہادر زوجہ، یقینا قدرت کا اپنا انتخاب تھا۔ سیدہ زہراء رضی اللہ عنہا نے شوہر نامدار کی جہادی زندگی میں بھرپور معاونت فرمائی، انہیں گھریلو کاموں سے فراغت اور بے فکری مہیا کی، سارا دن تیغ و تفنگ سے تھکے ماندے علی رضی اللہ عنہ جب واپس گھر آتے تو سیدہ رضی اللہ عنہا سوجان سے ان کی خدمت کرتیں، ان سے جنگ کے واقعات سن کر انکی شجاعت کی داد بھی دیتیں، زخموں کی مرہم پٹی کرتیں، خون آلود تلوار اور لباس کو اپنے ہاتھوں سے صاف کرتیں، یوں یہ پیکر جرأت و پیکر تازہ دم ہو کر اگلے معرکے کیلئے کمربستہ ہو جاتے۔

ایک بار سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”سنا? علی! شریکہ حیات کیسی ملی ہے؟“ عرض کیا ”میری شریکہ حیات فاطمہ میری عبادت گزاری میں بہترین معاون ہیں“۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ”فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عبادت و ریاضت کے انتہائی سخت معمولات میں میری خدمت میں ذرہ بھر فرق نہ آنے دیا۔ وہ ہمیشہ گھر کی صفائی کرتیں، چکی پر گردوغبار نہ پڑنے دیتیں، گھر کے برتن صاف ستھرے ہوتے، ان کی چادر میں پیوند ضرور تھے مگر وہ کبھی میلی نہیں ہوتی تھی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ گھر میں سامان خورونوش موجود ہو اور انہوں نے کھانا تیار کرنے میں دیر کی ہو، خود کبھی پہلے نہ کھاتیں، زیور اور ریشمی کپڑوں کی کبھی فرمائش نہ کی، طبیعت میں بے نیازی رہی، جو ملتا اس پر صبر شکر کرتیں، میری کبھی نافرمانی نہیں کی، اسلئے میں جب بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھتا تو میرے تمام غم غلط ہو جاتے“۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی طرف کھڑے ہو جاتے اور ان کو اپنی جگہ بٹھاتے اور جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے یہاں تشریف لے جاتے تو وہ کھڑی ہو جاتیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کا ارادہ فرماتے تو اہل و عیال میں سب سے آخر میں حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا سے گفتگو فرماتے اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو اہل و عیال میں سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہی گفتگو فرماتے تھے۔

اْم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اطوار، سیرت و کردار اور نشست و برخاست میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا۔ محبت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ جس سے محبت ہو اس کی ہر ادا اپنانے کی کوشش کی جاتی ہے، حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا نے خود کو ہر اعتبار سے سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سانچے میں ڈھال رکھا تھا، عادات و اَطوار، سیرت و کردار اور صداقت کلام میں آپ رضی اللہ عنہا سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عکس اور نمونہ تھیں، ان کی سیرت میں فی زمانہ اغیار کے طرززندگی کے سانچے میں فخر سے ڈھلنے والی اور آزادی نسواں کا ببانگ دہل نعرہ لگانے والی خواتین کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ انہیں دشمنانِ اسلام کی پیروی کرنی چاہئے یا بانی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی۔ آج کی مسلمان عورت کو سیدہ فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا کی سیرت مطہرہ کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی نے کیسی سادگی کیساتھ زندگی گزاری، انہی کی سیرت سے سیکھ کر خواتین کو اپنی زندگی میں آسانیاں لانی چاہئیں‘ پردے کا اہتمام کرنا چاہئے‘ شوہر کی تابعداری سیکھنی چاہئے‘ اولاد کی پرورش کیسے کرنی ہے وہ سیکھنی چاہئے۔ یقینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا میں زندہ رہنے اور آخرت کی تیاری کرنے کیلئے ایسے سنہرے نقوش بتا دئیے ہیں جن پر چل کر ہی کامیابی و کامرانی حاصل کی جا سکتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -