شانگلہ، کورونا وائرس سے دوسرا مریض جاں بحق، مجموعی تعداد 47ہوگئی

شانگلہ، کورونا وائرس سے دوسرا مریض جاں بحق، مجموعی تعداد 47ہوگئی

  

 الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر)شانگلہ میں کورونا سے دوسرا ہلاکت،متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 47تک جا پہنچی، شانگلہ میں اب تک 289کورونا کے مشتبہ افراد کے نمونے لیب بھیجوا دئے گئے جس میں مجموعی طور پر 219افراد کی ٹسٹ میں وائرس کی تصدیق نہ ہو سکی جبکہ 20افراد کی ٹسٹ انے کا انتظار ہیں۔کورونا سے متاثرہ 15افراد کو اپنے گھروں میں قرنطینہ کرکے وہاں کی علاقے بدستور سیل ہیں اب تک 13مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔ شانگلہ میں کورونا وائرس سے دوسرا اموات کے بعد عوام میں شدید خوف و حراس پھیل گیا۔ علاقہ لانگباڑ چکیسر کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا اور جان بحق ہونے والے ثمر خان ولد رحیم الدین کے اپنی بائی علاقہ لانگباڑ میں نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں مقامی انتظامیہ کے چند افراد نے شرکت کی۔ شانگلہ میں اب تک انے والے تمام متاثرہ افراد کی ٹرائیول ہسٹری موجود ہونے کے بعد بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ شانگلہ میں وائرس نہیں تاہم یہ باہرمتاثرہ علاقوں سے اپنے گھر ائے ہوئے لوگ ہیں۔کورونا وائرس سے جان بحق ثمر خان کاتعلق شانگلہ علاقہ لانگباڑ چکیسر سے تھا۔ شانگلہ میں پہلا کیس پورن کے علاقے دونکاچہ چوگا میں عبد الباعث نامی شخص میں پایا گیا جو صحتیاب ہو چکا ہے اور وہ لاہور سے ایا تھا دوسرا کیس بیلے با با میں میل نرس حیدر علی میں پایا گیا جو تا حال اپنے گھر میں قرنطین ہے وہ کالام کے ہسپتال میں کام کرتا تھا جو صحت یاب ہو چکے ہیں۔پہلا جان بحق ہونے والے میرہ میں محمد زر نامی شخص میں وائرس کی تصدیق ہوئی اور وہ ہسپتال بشام میں دم توڑ گئی جبکہ دوسرا شخص ثمر خان اپنے گھر میں ہی دم توڑ گئی۔ شانگلہ میں کورونا وائرس سے دوسرے ہلاکت کے بعد عوام میں شدید خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے تاہم بیشتر ماہرین شانگلہ میں کورونا وائرس کی اپنی کیس نہ ہونے کے بعد بتاتے ہیں کہ یہاں سے باہر کام کرنے والوں لوگوں کی تشخیص منظر عام پر لائی گئی ہیں اور لاک ڈاون کے بعد یہ لوگ اپنے گھروں میں ائے اور ملک کی دیگر علاقوں سے وائرس سے پہلے یہ لوگ متاثر ہو چکے تھے۔ ادھر احتیاطی تدابیر اپنانے میں عوام کا ملا جولا ردعمل کئی علاقوں میں عوام کا مکمل طور پر احتیاطی تدابیر یعنی ماسک، گلبز اور سنیٹائزر کا استعمال جبکہ کئی علاقوں میں شہریوں نے حکومتی ہدایات کی دھجیاں اڑھا دی۔ کئی شہری سماجی دوری کا انتہائی خاص خیال رکھتے ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ احتیاطی تدابیر کو بروئے کار لاکر اپنی زندگیوں پر کھیلنے سے اجتناب کریں۔۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -