امریکی کمیشن کی بھار ت پر سفارتی پابندیوں کی سفارش، مودی ، امیت، راج ناتھ پر پابندیوں کا امکان، عالمی برادری بھارتی انتہاپسندی کا نوٹس لے، پاکستان کا او آئی سی کو خط

  امریکی کمیشن کی بھار ت پر سفارتی پابندیوں کی سفارش، مودی ، امیت، راج ناتھ ...

  

واشنگٹن،نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت پر سخت سفارتی پابندیوں کے اطلاق کی سفارش کر دی جس کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پر پابندیوں کے اطلاق کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی اجرائکردہ رپورٹ میں بھارت کو بطور "تشویشناک ملک" نامزد کرنے کا معاملے کے بعد امریکی کمیشن نے بھارت پر سخت سفارتی پابندیوں کے اطلاق کی سفارش کر دی ہے۔امریکی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان نے جان بوجھ کر مذہبی آزادی کیخلاف منظم پرتشدد کارروائیوں کی اجازت دی۔ بھارت نے بین الاقوامی مذہبی آزادی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔کمیشن نے رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ بھارتی حکومت، اداروں، حکام پر سفارتی، انتظامی پابندیاں عائد کی جائیں۔ مذہبی آزادیاں سلب کرنے میں ملوث افراد کے اثاثے منجمد، امریکا داخلہ پر پابندی عائد کی جائے۔امریکی کمیشن نے سفارش کی ہے کہ بھارتی شخصیات کیخلاف کارروائی کیلئے مالیاتی اور ویزا حکام کو پابند بنایا جائے۔امریکی کمیشن کی سفارش کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پر پابندیوں کے اطلاق کا امکان ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوک سَنگھ، پولیس سمیت سرکاری حکام پر بھی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔نریندر مودی پر 2005ء میں بحیثیت وزیر اعلیٰ گجرات بھی سفری، سفارتی اور ویزا پابندیاں لگ چکی ہیں، نریندر مودی پر گجرات میں مسلم کش فسادات پھیلانے میں کردار پر پابندیاں لگی تھیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن کی سالانہ رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں بھارت کو پہلی مرتبہ اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار دیا گیا تھا جبکہ پاکستان میں متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف کیا گیا تھا۔سالانہ رپورٹ میں متنازعہ بھارتی شہریت بل پر امریکی کمیشن نے شدید تنقید کی اور بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیے جانے پر شدید تنقید کی۔ رپورٹ میں امریکی کانگریس کو بھارت میں مذہبی ا?زادی کی صورتحال پر سماعت جاری رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔اسی رپورٹ میں پاکستان میں متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ جن میں کرتار پور راہداری کھولنا، پاکستان کا پہلا سکھ یونیورسٹی کھولنا، ہندو مندر کو دوبارہ کھولنا، توہین مذہب الزامات پر سپریم کورٹ اوراقلیتوں کے خلاف امتیازی مواد کے ساتھ تعلیمی مواد پر نظر ثانی کے پاکستانی حکومتی اقدامات بھی شامل ہیں۔امریکی کمیشن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 2019 کی رپورٹ میں بھارت مذہبی آزادی کے نقشے میں تیزی سے نیچے آیا۔ 2019 میں بھارت میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں دوسری مدت کے لیے حکومت بنانے کے بعد بی جے پی نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا، بی جے پی حکومت نے اقلیتوں پر تشدد اور عبادتگاہوں کی بے حرمتی کی کھلی اجازت دی۔امریکی کمیشن رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بی جے پی کے حکومت میں گاؤ کشی کے نام پر موب لنچنگ معمول بن گئی، بھارتی حکومت تاحال اقلیت مخالف پالیسیوں پر کاربند ہے۔امریکی رپورٹ میں بھارت کو خصوصی تشویش والے ممالک کی فہرست میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے، مذہبی ا?زادی کے خلاف کام کرنے والے بھارتی حکام پر پابندی کی بھی سفارش کی گئی ہے، اقلیتوں کے خلاف تشدد کی مانیٹرنگ کے لیے فنڈ قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں امریکی سفارتخانہ اقلیتی کمیونٹی کے ساتھ روابط بڑھائے اور مذہب مخالف جرائم کی مخالفت کرے۔

امریکی کمیشن

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن)اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے بھارت میں بڑھتے اسلام دشمن واقعات پر اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کوایک خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی جان اور مال کو شدید خطرات لاحق ہیں لہٰذا دنیا کو بھارت میں بڑھتی اسلام دشمنی کا نوٹس لینا چاہیے۔منیر اکرم نے او آئی سی ممالک کوبھی خطوط ارسال کئے ہیں جس میں ہندو انتہا پسند آر ایس ایس اور بی جی پی کی سیاست سے آگاہ کیا گیا ہے۔منیر اکرم نے کہا کہ بھارت ریاستی دہشت گردی اور انتہا پسند رویے سے مسلم شناخت کا خاتمہ کرنے پر تلا ہے اس لیے دنیا کو بھارت میں بڑھتی اسلام دشمنی کا نوٹس لینا چاہیے۔اس سے قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرانے کا رویہ اور طریقہ کار درست نہیں ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردارکیا تھا کہ گمراہ کن پراپیگنڈے اور نفرت سے کورونا وبا بڑھ رہی ہے۔بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے شدت اورانتہا پسند اس وقت پورے بھارت میں یہ منفی پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ ملک میں کورونا پھیلنے کا سبب مسلمان ہیں جس کی وجہ سے مختلف شہروں اور علاقوں میں مسلمانوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ادھرامریکہ نے بھی بھارت کو پہلی مرتبہ 2004 کے بعد اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دے دیا ہے۔مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن کی سالانہ رپورٹ میں بھارت کو اقلیتوں کے لیے خطرناک ممالک کی فہرست میں شامل کردیا گیا۔امریکی کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق 2019 کی رپورٹ میں بھارت مذہبی آزادی کے نقشے میں تیزی سے نیچے آیا ہے

او آئی سی خط

مزید :

صفحہ اول -