کورونا، پاکستان کے حالات باقی دنیا سے بہتر، شرح اموات توقع سے کم رہی، ہمیں اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہو گا، عمران خان ملک بھر میں مزید 18افراد جاں بحق

      کورونا، پاکستان کے حالات باقی دنیا سے بہتر، شرح اموات توقع سے کم رہی، ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے ہمیں بہت سے سبق ملے ہیں، ایک یہ کہ کورونا وائرس امیرو غریب میں تفریق نہیں کرتا، کسی بھی کھاتے پیتے گھرانے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، دوسرا یہ کہ وہ وزیر اور وزیراعظم جو علاج کیلئے بیرون ملک جاتے تھے وہ آج یورپ جانے سے ڈ ر تے ہیں،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ باقی دنیا سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان کے حالات بہتر ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا کورونا وائرس اور اس کے پاکستان پر اثرات بارے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ میں اب تک کی صورتحال سے عوام کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے پاکستان میں اموات کم ہیں، دیگر دنیا سے مقابلہ کیا جائے تو ہمارے ملک کے حالات ان سے بہتر ہیں۔ ملک میں ہسپتالوں کی طرف توجہ دینے کیلئے انتہائی اہم ایشو ملا،ملک کے اعلیٰ طبقے نے کورونا وائرس کیلئے لاک ڈاؤن کرنے کا کہا لیکن کسی غریب دیہاڑی دار کی فکر نہیں کی، ہمیں اس وقت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہیں، کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے ملک میں طبی آلات بننا شروع ہوئے، جوہری ہتھیا ر بنانے والے ملک کیلئے وینٹی لیٹرز بنانا مشکل نہیں ہے لیکن ماضی میں سائنٹیفک ریسرچ پر توجہ نہیں دی گئی اور سائنسی آلات کے کارخانے ہی نہیں لگائے گئے، آج ملک میں کارخا نے خود سے طبی آلات تیار کر رہے ہیں، سرکاری ہسپتالوں کو بہتر بنانے کیلئے کام ہو رہا ہے اور کرونا وباء پھیلنے کے دوران روزانہ اجرت پر کام کرنیوالوں کا خیال رکھا جا رہا ہے، اب ملک کو ایک وژن کے تحت آگے لے کر جائیں گے، طویل المدتی پالیسیوں کے ذریعے ہی ملک ترقی کرتا ہے، ہماری قوم کو اب اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونا ہو گا، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تو ڈرپوک نکلا پورا ملک ہی بند کر دیا اور کروڑوں غریبوں کی کوئی فکر نہیں کی۔ جمعرات کو یہاں اسلام آباد کامسٹیک ہیڈ کوارٹرز میں طبی مصنوعات کی نمائش کے دورہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خود پر یقین رکھنے والی قومیں ترقی کرتی ہیں، خود اعتمادی لوگوں کو مشکلات سے نبردآزما ہونے کے قابل بناتی ہے جبکہ نبیؐ کی سنت پر عمل پیرا ہونے میں ہی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 60کی دہائی میں پاکستان ترقی کی جانب گامزن تھا لیکن بدقسمتی سے اس کے بعد ملک میں صرف ایک ایلیٹ طبقہ ہی آگے بڑھتا گیا اور ملک پیچھے جاتا رہا، گزشتہ حکمرانوں نے علاج کیلئے باہر کے ممالک جانا شروع کر دیا اور غریب کیلئے ملک میں و ہ ہسپتال چھوڑے جہاں کوئی سہولیات نہیں ہیں جبکہ اگر ملک میں ہمیں ترقی کرنی ہے تو سب کو مل کر آگے بڑھنا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے ایلیٹ طبقے نے سوچ رکھا تھا کہ کوئی بیماری ہو تو بیرون ملک جا کر علاج کرالیں گے لیکن ملک میں غریب کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں، غریب کے بچوں کی ابتدائی جسمانی نشوونماکچھ نہیں ہے، ہیپاٹائٹس سی ملک میں بڑھ چکی ہے، ساری غریبوں کی بیماریاں ہیں اس لئے کسی امیر کو پریشانی نہیں ہے کیونکہ اس نے پیسہ لگا کر اپنا علاج کرا لینا ہے لیکن ملک میں غریب دو وقت کی روٹی کی سوچ میں ہر وقت فکر مند رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے ہمیں بہت سے سبق ملے ہیں، ایک تو یہ کہ کرونا وائرس امیر اور غریب میں تفریق نہیں کرتا ہے، کسی بھی کھانے پینے گھرانے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، دوسرا یہ کہ وہ وزیر اور وزیراعظم جو بیرون ملک علاج کیلئے بیرون ملک جاتے تھے وہ آج یورپ جانے سے ڈرتے ہیں، ملک میں ہسپتالوں کی طرف توجہ دینے کیلئے انتہائی اہم ایشو ملا ہے،ملک کی ایلیٹ نے کورونا وائرس کیلئے لاک ڈاؤن کرنے کا کہا لیکن کسی غریب دیہاڑی دار کی فکر نہیں کی، ہمیں اس وقت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے ملک میں طبی آلات بننا شروع ہوئے اور نیو کلیئر ہتھیار بنانے والے ملک کیلئے وینٹی لیٹرز بنانا مشکل نہیں ہے لیکن ماضی میں سائنٹیفک ریسرچ کی ترویج پر توجہ نہیں دی گئی اور سائنسی آلات کے کارخانے ہی نہیں لگائے گئے، آج ملک میں کارخانہ خود سے طبی آلات تیار کر رہے ہیں، سرکاری ہسپتالوں کو بہتر بنانے میں کام ہو رہا ہے اور کرونا وباء پھیلنے کے دوران روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کا خیال رکھا جا رہا ہے، جبکہ اب ملک کو ایک وژن کے تحت آگے لے کر جائیں گے، طویل المدتی پالیسیوں کے ذریعے ہی ملک ترقی کرتا ہے، ہماری قوم کو اب اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونا ہو گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی شرح خدشات سے کم ہیں، کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ کورونا وائرس کب تک چلے گا جب تک اس کی ویکسین تیار نہیں ہوتی تب تک ساری دنیا کو بہت سوچ سمجھ کر چلنا ہوگا، وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ کے تحت بے روزگار افراد کے لیے جو ایک روپیہ خرچ کیا جائے گا تو حکومت اس وقت 4 روپے دے گی۔جمعرات کو اسلام آباد میں کورونا وائرس کی صورتحال پرمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سوچا تھا کہ اب تک انتہائی نگہداشت یونٹس بھرجائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ کورونا وائرس کب تک چلے گا جب تک اس کی ویکسین تیار نہیں ہوتی تب تک ساری دنیا کو بہت سوچ سمجھ کر چلنا ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ ہم سب کو پہلے دن سے احساس ہے کہ جب لاک ڈان ہوگا تو یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، ریسٹورنٹ میں کام کرنے والے ویٹرز، ٹیکسی، رکشہ چلانے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اس کے لیے ہم نے سب سے پہلے ایمرجنسی احساس پروگرام شروع کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہ دنیا میں کہیں بھی مستحق افراد کو اتنا زیادہ پیسہ تقسیم نہیں کیا گیا جو اایمرجنسی احساس پروگرام کے تحت کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے کہ ایک ایسا پروگرام آیا جس میں کوئی امتیاز نہیں کیا گیا، کوئی سیاسی مداخلت نہیں تھی صرف اور صرف ڈیٹا دیکھا گیا کہ غریب طبقہ کون ہے، سب سے زیادہ پیسے سندھ میں دیے گئے۔عمران خان نے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی کہ مشکل حالات میں مستحق افراد کو پیسے دیے گئے، اب تک 66 لاکھ خاندانوں میں 81 ارب روپے تقسیم کیے گئے ہیں اور کوشش ہے کہ 7 سے 10 روز میں ایک کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ جائے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ریلیف فنڈ شروع کرتے ہوئے فیصلہ کیا تھا کہ یہ پیسہ صرف ان لوگوں کے لیے رکھا جائے گا جو کورونا وائرس کی وجہ سے بے روزگار ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سوچا کہ بیروزگار ہونے والے افراد تک کیسا پہنچا جائے گا اس کے لیے 2 طریقے نکالے ایک تو ہم ایس ایم ایس مہم شروع کریں گے جس کے لیے انہیں اپنی بے روزگاری کا ثبوت دینا پڑے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ کے تحت بے روزگار افراد کے لیے جو ایک روپیہ خرچ کیا جائے گا تو حکومت اس وقت 4 روپے دے گی یعنی آپ جو فنڈ میں ایک روپے دیں گے تو حکومت اسے 4 روپے کرکے دے گی۔وزیراعظم عمران خان اور مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں مصری حکومت اور عوام کے ساتھ موجودہ صورتحال پر یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔وزیراعظم عمران خان اور مصری صدر کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور موجودہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قرضوں میں ریلیف سے ترقی پذیر ممالک اپنے عوام کو بہتر سہولت دے سکتے ہیں۔ مصری صدر نے عمران خان کے قرضوں میں ریلیف کے مطالبہ کی حمایت بھی ہے۔

عمران خان

اسلام آباد، لاہور، کراچی،پشاور،مظفر آباد، گلگت بلتستان (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) جمعرات کے روز ملک میں کورونا وائرس سے مزید 18 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ہلا کتوں کی مجموعی تعداد 361 ہوگئی جب کہ نئے کیسز سامنے آنے سے مصدقہ مریضوں کی تعداد 16276 تک جا پہنچی۔ سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 122 افراد انتقال کر چکے ہیں جب کہ سندھ میں 112 اور پنجاب میں 106 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 14، اسلام آباد 4 اور گلگت بلتستان میں 3 افراد مہلک وائرس کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔بروز جمعرات ملک بھر سے کورونا کے مزید 772 کیسز سامنے آئے ہیں اور 18 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں جن میں سندھ سے 358 کیسز 12 ہلاکتیں، پنجاب 393 کیسز 6 ہلاکتیں، اسلام آباد 16 کیسز، بلوچستان 4 کیسز اور اازاد کشمیر سے ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 358 کیسز سامنے آئے ہیں اور 12 ہلاکتیں بھی ہوئیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 6053 اور اموات 112 ہوگئی ہے۔وزیراعلیٰ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مزید 53مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 1222 ہوگئی ہے۔پنجاب سے کورونا کے مزید 393 کیسز سامنے آئے ہیں اور 6 ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں جس کی تصدیق ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے کی۔ترجمان کیمطابق صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 6220 اور ہلاکتیں 106 ہوگئی ہیں۔ترجمان کے مطابق 768 زائرین، 1926 رائے ونڈ سے منسلک تبلیغی ارکان، 86 قیدی اور 3441 عام شہری میں کورونا وائرس میں مبتلا ہیں۔۔ وفاقی دارالحکومت میں کورونا وائرس کے مزید 16 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔پورٹل کے مطابق نئے کیسز سامنے آنے کے بعد اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 313 ہوگئی ہے۔بلوچستان میں جمعرات کو کورونا کے مزید 4 کیسز سامنے آئے ہیں جس کی تصدیق صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے کی گئی ہے۔محکمہ صحت کیمطابق صوبے میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 978 ہے جب کہ 14 افراد اب تک جاں بحق ہوچکے ہیں۔بلوچستان میں اب تک کورونا وائرس سے 180 افراد صحت یاب بھی ہوگئے ہیں۔آزاد کشمیر سے کورونا وائرس کا ایک کیس سامنے آیا ہے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیا گیا ہے۔پورٹل کے مطابق علاقے میں کیسز کی مجموعی تعداد 66 ہوگئی ہے۔

پاکستان ہلاکتیں

 لندن، واشنگٹن، برسلز،انقرہ، نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)بیلجیم میں کورونا وائرس سے مرنیوالوں کی مجموعی تعداد ساڑھے سات ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران جان لیوا کورونا وائرس مزید 111 افراد کی جان لے گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فیڈرل ہیلتھ منسٹری نے بتایاکہ گذشتہ روز 660 نئے کورونا متاثرین سامنے آئے ہیں کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 28 ہزار دو سو سے بڑھ گئی جبکہ 32 لاکھ 30ہزار 315 افراد متاثر ہو گئے ہیں، متاثرہ افراد میں سے 10 لاکھ تین سو سے زائد افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں کورنا وائرس سے مزید 1,374 افراد موت کے منہ میں چلے گئے جس کے بعد امریکہ میں اموات کی تعداد 61 ہزار 600 سے تجاوز کر گئی ہے۔امریکہ میں متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ 64 ہزار سے زائد ہو گئی ہے جبکہ صحتیاب ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 47 ہزار 4 سو سے زائد ہوگئی۔سپین میں بھی گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 453 افراد کی اموات کے بعد اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 24 ہزار275 ہوگئی اور متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ 36 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔اٹلی میں کورونا وائرس نے مزید 323 افراد کی جان لے لی جہاں اب تک ہونے والی اموات 27 ہزار 682 ہو گئیں۔۔فرانس میں بھی کورونا نے مزید 427 افراد کی جان لے لی۔ فرانس میں مرنے والوں کی تعداد 24 ہزار 87 ہو گئی اور متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 66 ہزار سے تجاوز کر گئی۔جرمنی میں بھی کورونا سے اموات کا سلسلہ جاری ہے اب تک ہونے والی اموات کی تعداد 6 ہزار 400 سے بڑھ گئی ہے جب کہ کورونا کے مریضوں کی تعداد 1 لاکھ 66 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ترکی میں بھی کورونا کے وار جاری ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 92 افراد موت کے منہ میں چلے گئے جس کے بعد اموات کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ برطانیہ میں مزید 765 نئی اموات ریکارڈ کیں گئیں جس کے بعد برطانیہ میں مجموعی تعداد 27ہزار ہوگئی ہے۔ اس طرح کرونا سے ہلاکتوں کے اعتبار سے برطانیہ اٹلی کے بعد دووسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کرونا سے ہلاکتوں میں پہلا نمبر امریکا کا ہے جہاں کرونا سے ہونے والی اموات کی تعداد 58 ہزار 355 تک پہنچ گئی ہے۔امریکامیں متاثرین کی تعداد ایک ملین 12 ہزار ہوگئی ہے۔ ایک لاکھ 15 ہزار 936 مریض صحت یاب ہوئے۔دنیا بھرمیں کرونا سے ہلاکتوں کی تعداد میں پہلے نمبر پرامریکا اور دوسرے پر اٹلی ہے۔اٹلی میں کرونا سے 27 ہزار 359 افراد ہلاک اور دو لاکھ 15 ہزار پانچ افراد کے بیمار ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ تیسرے نمبر پر اسپین ہے جہاں 23 ہزار 678 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ ایک لاکھ 68 ہزار 935 افراد اس وبا کا شکار ہوئے۔

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -