آٹا، چینی، آئی پی پیز معاملات کی تحقیقات فائلوں کی نذر نہیں ہو گی: شبلی فراز

  آٹا، چینی، آئی پی پیز معاملات کی تحقیقات فائلوں کی نذر نہیں ہو گی: شبلی فراز

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیراطلاعات ونشریات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہندوتوا سوچ کا راج اور اکیسویں صدی کی نازی تنظیم ابھر کر سامنے آ رہی ہے، اقلیتوں کے حقوق روندے جا رہے ہیں۔ کورونا کو مسلم وائرس قرار دینا بیمار بھارتی ذہنیت کی عکاسی ہے، عالمی مذہبی آزادیوں کے امریکی کمیشن کی رپورٹ نے بھارت کے جمہوری اور سیکولر چہرے کو پوری دنیا کے سا منے بے نقاب کر دیا۔ امریکی رپورٹ انتہا پسند ہندو معاشرے کا پتہ دے رہی ہے، نریندر مودی کے ہاتھوں بھارتی سماج تقسیم کی گہری کھائی میں گر چکا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے آٹا، چینی اور آئی پی پیز سے متعلق تحقیقات پر کہا ہے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی۔ نجی ٹی و ی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات فائلوں کی نظر نہیں ہوگی۔دوران گفتگو وفاقی کابینہ میں تبدیلی سے متعلق ان کا کہنا تھا یہ فیصلہ وزیراعظم نے کیا ہے کیونکہ وہ کپتان ہیں۔اس موقع پر ان سے سوال کیا گیا کہ کیا فردوس عاشق اعوان کو انکو ا ئری کے نتیجے میں ہٹایا گیا؟ تو اس پر شبلی فراز نے کہا کہ انہیں فردوس عاشق کیخلاف انکوائری کا علم نہیں۔وزیراطلاعات کے مطابق فردوس عاشق اعوان کیخلاف 10 فیصد کمیشن لینے کی خبریں بھی چلیں، کسی کیخلاف افواہ پھیلا دینا درست بات نہیں، اس معاملے پر جو کچھ بھی ہوگا سا منے آجائیگا۔اپنی بات کے دوران 18ویں ترمیم کے معاملے پر انہوں نے کہا اٹھارویں آئینی ترمیم پر سنجیدگی کی سطح تک کوئی بات نہیں ہو رہی۔ساتھ ہی انہوں نے کہا 18 ویں ترمیم سمیت کسی بھی موضوع پر بحث ہوسکتی ہے، جب آپ چاہتے ہیں بحث نہیں ہوسکتی تو مطلب آپ بہتری کے حق میں نہیں، لہٰذا اٹھارویں ترمیم سمیت کوئی بھی ترمیم ہو اتفاق رائے سے ہوگی۔ جو بھی بات ہو رہی ہے وہ بہتری کی بات ہورہی ہے، یہ موقف کہ اٹھارویں ترمیم پر بات ہی نہیں ہوسکتی درست نہیں، اپوزیشن کے موقف سے اچھا پیغام نہیں جائیگا۔ پیپلز پارٹی ایک طرف لاک ڈاؤن کی بات کرتی ہے تو دوسری جانب ایوان کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتی ہے جبکہ حکومت دونوں اجلاس بلانے کیلئے کوشاں ہے۔شبلی فراز کے مطا بق کورونا سے بچاؤ سمیت دیگر ایس او پیز پر غور ہورہا ہے، نیب قانون پر بھی اپوزیشن سے بات چیت جاری ہے، کوشش ہے قانون ایسا ہو جو سب کو قبول ہو۔ آٹا چینی بحران سمیت آئی پی پیز کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ تحقیقات فائلوں کی نظر نہیں ہوگی، کورونا کی وجہ سے فرانزک آڈٹ میں تاخیر ہوئی، اسی لیے تین ہفتو ں کا مزید وقت دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ ملک میں چینی اور گندم کی مصنوعی قلت اور ان کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے معاملے پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)کی دو الگ الگ انکوائری رپورٹس کے اجرا کے بعد حکومت نے اپریل کے پہلے ہفتے میں ہی ایس ایف سی تشکیل دی تھی۔شوگر سے متعلق انکوائری رپورٹ میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کے سابق سیکریٹری جنرل اور وزیر اعظم کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین سمیت دیگر بڑی شخصیات کے نام سامنے آئے تھے جنہوں نے اس بحران سے مبینہ طور پر فائدہ اٹھایا تھا۔اس رپورٹ کے اجرا کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ وزیر اعظم ان لوگوں کیخلاف سخت کارروائی کریں جنہیں ایف آئی اے کمیٹی نے اس بحران کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

شبلی فراز

مزید :

صفحہ اول -