صوبائی سہ فریقی مشاورتی کمیٹی خیبر پختونخوا کا اجلاس

صوبائی سہ فریقی مشاورتی کمیٹی خیبر پختونخوا کا اجلاس

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)سیکرٹری محنت خیبر پختونخوا نے چیف سیکرٹری کی ہدایات کی روشنی میں صوبائی سہ فریقی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کے روز بلایا۔اجلاس کی صدارت سیکرٹری لیبر کامران رحمان خان نے کی۔ دیگر نمائندگان میں انور خان ڈی جی سوشل سیکورٹی، ڈاکٹر بلال سیکرٹری ورکز ویلفیئر بورڈ، عر فان اللہ ڈائریکٹر لیبر، آجر کی طرف سے فضل ودود جی ایم شمع گھی ملز، ڈاکٹر یوسف سرور مہمند ایریز فارما اور محمداسحاق خان معید انڈسٹریز نے شرکت کی محنت کشوں کی نمائندگی سید لیاقت باچا متحدہ لیبر فیڈریشن اور راظم کان پاکستان ورکرز فیڈریشن نے کی انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کی نمائندگی محمد حنیف ڈپٹی ڈائریکٹر نے کی۔اجلاس کا باقاعدہ آغازتلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد شرکاء نے اپنا تعارف کرایا۔ سیکرٹری لیبر نے ابتدائی کلمات میں شرکاء کو خوش آمدید کہا اور کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا کردہ حالات اور ان حالات میں حکومت کی طرف سے کئے گئے مختلف اقدامات سے آگاہ کیا۔انہوں نے فیکٹری مالکان کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے حکومت کے اعلان کے مطابق کارخانہ بند ہونے کے باوجود محنت کشوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کی اور ساتھ ساتھ جن کارخانہ جات کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے ان کی طرف سے SOPپر عمل درآمدکے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ تعاون مستقبل میں بھی اسی طرح جاری رہے گا۔بعد ازاں ڈائریکٹر لیبر نے اس مشاورت کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور حکومت کی طرف سے جاری کردہ مختلف نوٹی فیکیشن اورSOPکی کاپیاں بھی شرکاء میں تقسیم کیں اور کارخانہ داروں اور محنت کشوں سے ان SOPپرباہمی تعاون سے مکمل در آمد پر زور دیا۔ڈی جی سوشل سیکورٹی نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ محکمہ سوشل سیکورٹی محنت کشوں اور ان کے گھر کے افرادکو صحت اور علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے بتدریج اپنی ڈسپنسریاں اور ہسپتال کھول رہا ہے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ محنت کشوں کو سوشل سیکورٹی کے ساتھ رجسٹرڈ کیا جائے انہوں نے کارخانہ داروں سے درخواست کی کہ کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر جن کارخانوں نے ماہانہ کنٹری بیوشن جمع نہیں کی وہ جلد از جلد جمع کر لیں تا کہ علاج و معالجہ کی سہولیات بلا باغہ جاری رہیں۔سیکرٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ کارخانہ دار اور محنت کش دونوں آزمائش کی گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور اس وباء کا مقابلہ کرنے میں حکومت کا ساتھ دیں۔کارخانہ داروں کے نمائندوں نے حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات پر مکمل عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم انہوں نے SOPکے بنانے اور اصل کارخانہ داروں کو اس عمل میں شامل نہ کرنے پر کچھ تحفظات کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ SOPکو دوبارہ مرتب کیا جائے اور اس سلسلے میں لیبر قوانین کے مطابق چیک لسٹ اورSOPبنانے اور اس عمل میں ان کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کچھ ضروری یا نقصان دہ اقدامات مثلا کلورین سپرے ٹنل کے بارے میں بتایا کہ پنجاب حکومت نے اس ٹنل کے استعمال کو صحت کیلئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کی ہے جبکہ خیبر پختونخوا کا محکمہ صنعت اس کے استعمال پر زور دے رہا ہے اور اس کو SOPاورچیک لسٹ میں شامل کیا ہے۔ محنت کشوں کے نمائندوں نے صوبہ بھر کے محنت کشوں کی طرف سے حکومتی اقدامات میں مکمل تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے فیڈریشن اور یونین کی سطح پر محنت کشوں کیلئے آگاہی مہم اور کورونا سے بچاوٗ کیلئے ضروری اقدامات میں اپنا کردار ادا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا انہوں نے محنت کشوں کی کمزور مالی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سے خصوصی طور پر محنت کش طبقے کی امداد کا مطالبہ کیا۔ محکمہ انڈسٹریز کے نمائندے نے بھی کورونا کے بارے میں اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا۔آخر میں سیکرٹری لیبر نے شرکاء کو یقین دلایا کہ ان کی پیش کردہ تجاوزات کو نوٹ کر لیا گیا ہے اور ان پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ SOPکو ازسرنو مرتب کرنے اور محکمہ محنت کی اپنی چیک لسٹ بنائی جائے گی جس کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف لیبر اور سوشل سیکورٹی کے انسپکٹر مشترکہ انسپکشن کریں گے۔ انہوں نے بعض تجاویز حکام بالا تک پہنچانے اور ان کو سپورٹ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ محکمہ محنت اپنی ساکھ بہتر بنانے کیلئے تندہی اور جانفشانی سے کام کرے گا اور صوبہ بھر میں مثالی صنعتی امن اور ماحول بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ وہ عنقریب باری باری مختلف صنعتی زونز میں جا کر وہاں کے کارخانہ داروں کے چیمبر اور ایسوسی ایشن کے ساتھ ملاقات کریں اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے آخر میں انہوں نے شرکاء کی شرکت کا شکریہ ادا کیا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -