کورونا سے روز بیس اکیس اموات ہو رہی ہیں،جس میں اضافے کا خدشہ ہے: اسد عمر

  کورونا سے روز بیس اکیس اموات ہو رہی ہیں،جس میں اضافے کا خدشہ ہے: اسد عمر

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،آئی این پی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے روزنہ 21سے 22اموات ہورہی ہیں، جس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، پاکستان میں کورونا کے 50سے 60مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔ پاکستان کی صورت حال امریکہ اور یورپ سے مختلف ہے۔ ہم فیصلے دیگر ممالک کی صورتحال دیکھ کرکر رہے تھے تفصیلات کے مطابق جمعرات کو اسلام آباد میں وزیراعظم اور دیگر حکومتی عہدہ داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پاکستان میں پہلا کیس آنے کے بعد 2ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے۔ اب ہم زمینی حقائق دیکھ کر فیصلے کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 9مئی کے بعد کی صورتحال اور آئندہ کے فیصلوں کو اجلاس میں زیر بحث لائیں گے۔ اگر لوگ احتیاط کریں گے تو کورونا وائرس کو شکست دی جاسکتی ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ امید یہی ہے کہ آئندہ ہفتے جو فیصلے کریں گے ہم آسانیوں کی طرف جائیں گے۔ پاکستان کی صورت حال دیکھ کر فیصلے کررہے ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کورونا ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ کورونا کے سبب احتیاط سمیت جو اچھی عادات اپنائی گئی ہیں انہیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وبا میں اس طرح کی تیزی نہیں جس طرح امریکا اور یورپ میں ہے۔معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفرمرزا نے کہا کہ ایران میں ساڑھے 5 ہزار کے قریب اموات ہوئیں۔ پاکستان میں اب تک 346اموات ہوچکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فرنٹ لائن ورکرز کے تحفظ کیلئے قومی پروگرام تشکیل دیاہے۔ پاکستان میں طبی سامان کی دستیابی کا مسئلہ ختم ہوچکاہے۔ چندروزمیں این 95ماسک پاکستان میں بننا شروع ہوجائیں گے۔ڈاکٹرظفرمرزا نے کہا کہ قومی پروگرام کے تحت ڈاکٹرزکو تربیت دی جائے گی۔ ٹائیگرفورس میں 10 لاکھ سے زائد لوگ رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ ٹائیگر فورس میں رجسٹرڈ 17 ہزار لوگوں کا طب کے شعبے سے تعلق ہے۔انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹے میں ملک میں 874 کورونا کیسز کا اضافہ ہوا۔ کورونا کے 15800مریضوں میں سے 4ہزار صحت یاب ہوچکے ہیں۔معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ غریب خاندانوں میں رقم کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔ کل سے نادرا کے دفاتر کھل رہے ہیں۔جن لوگوں کو انگلیوں کے نشانات کا مسئلہ آرہا ہے ان کے مسائل نادرا کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔ی اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں اب تک کی صورتحال قابو میں ہے۔ اگر ہم احتیاطی تدابیر پر عمل کریں گے تو بندشوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔اسلام ا?باد میں وزیراعظم اور دیگر ٹیم کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ میں اسد عمر نے کہا کہ پہلے لگتا تھا صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں حالات بہتر ہیں۔تاہم انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو ہفتوں سے وینٹی لیٹرز پر 50 سے 60 مریض زیر علاج ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق آئندہ دنوں میں کورونا سے ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے غریب اور سفید پوش طبقے پر بوجھ پڑا ہے۔ وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ پیر یا منگل کو این سی سی کا اجلاس بلایا جائے۔ 9 مئی کے بعد کیا حکمت عملی ہوگی، فیصلہ اگلے ہفتے ہوگا۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں حفاظتی سامان کی دستیابی کا مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔ اگلے دس دنوں میں این 95 ماسک بھی بننا شروع ہو جائیں گے

اسد عمر

مزید :

صفحہ اول -