سوئی ناردرن گیس کی کمپنی مینجمنٹ کیخلاف بدنیتی پر مبنی مہم کی شدید مذمت

        سوئی ناردرن گیس کی کمپنی مینجمنٹ کیخلاف بدنیتی پر مبنی مہم کی شدید ...

  

لاہور(خصوصی رپورٹ)سوئی ناردرن گیس نے ذرائع ابلاغ کے مخصوص حصے کی جانب سے ادارے کی مینجمنٹ کے حوالے سے وقتاً فوقتاً شائع ہونیوالی مختلف رپورٹس،پر واضح کیا ہے کہ صرف بورڈ آف ڈائریکٹرز ہی مینیجنگ ڈائریکٹر اور ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر کیخلاف کسی قسم کی انضباطی کارروائی کا مجاز ہے،کیونکہ ان دونوں عہدوں پر تقرری صرف بورڈ کی ہی جانب سے کی جاسکتی ہے۔بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 11اپریل 2020ء کو منعقدہ اجلاس میں طے کیا تھا کہ چونکہ پیٹرولیم ڈویژن نے مینیجنگ ڈائریکٹر یا ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر کیخلا ف کسی قسم کے شواہد مہیا نہیں کیے، لہٰذا اس معاملے کی مزید تحقیقات نہیں کی جاسکتیں۔بورڈ نے یہ فیصلہ بھی کیا تھا کہ معاملے پر انکوائری کا دائرہ کار صر ف وزیر اعظم ہاؤس کی جا نب سے اٹھائے گئے اْن اعتراضات تک محدود ہوگا،جو تین ماہ قبل تقرری کی سمری رد کرتے ہوئے اٹھائے گئے تھے۔یہ مشاہدات 19مارچ 2020ء کو سوئی ناردرن گیس کو مو صو ل ہوئے۔ بورڈ نے الزامات پر رپورٹ تیار کرنے کیلئے تین رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی،جوایڈیشنل سیکرٹری پیٹرولیم ایوب چودھری، احمد عقیل اور منظور احمد پر مشتمل تھی۔یہاں یہ بتایا جانا بھی ضروری ہے کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے مینیجنگ ڈائریکٹر سوئی ناردرن عامر طفیل اور ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر سوئی ناردرن سہیل گلزار کو کسی قسم کی چارج شیٹ جاری نہیں کی۔اس کے بجائے ایک ڈائریکٹر نے خط ارسال کیا جس میں وزیراعظم سیکرٹیریٹ کی جانب سے اٹھائے گئے معاملے کو حوالہ بنائے بغیر دس برس پرانی اور ماضی کی مختلف انکوائریز اور مواد طلب کیا گیا تھا،حالانکہ وہ ڈائریکٹر اس کمیٹی کے رکن بھی نہیں ہیں۔یہ خط کافی تاخیر کیساتھ 17اپریل20ء کو بھیجا گیا جو سوئی ناردرن گیس کے دفتر میں 20اپریل 2020ء کو موصول ہوا،جس سے یہ مراد لی جاسکتی ہے کہ چونکہ پچھلے الزامات کے حوالے سے کسی قسم کی دستاویزی ثبوت دستیاب نہیں تھے،لہٰذا اس خلا کو پْر کرنے کیلئے نئے الزامات عا ئد کر دیے گئے۔یہ بورڈ کو آزادانہ طور پر کام کرنے سے روکنے کی کوشش ہے جو کارپوریٹ گورننس قوانین کی روح کیخلاف ہے۔ایسا اقدام ڈائریکٹرکے عہدے کے تقاضوں کی بھی خلا ف ورزی میں شمار ہوتا ہے۔یہاں یہ واضح کیا جانا بھی ضروری ہے کہ سوئی ناردرن گیس ایک برس سے کسی مستقل مینیجنگ ڈائریکٹر کے بغیر کام کررہا ہے اور ادارے میں قائم مقام مینیجنگ ڈائریکٹرز کا تقرر تقریباً باریوں کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ایم ڈی کی تعیناتی کیلئے تمام عمل دومرتبہ مکمل کیے جانے کے بعد آخری لمحوں میں منسوخ کردیا گیا جس سے کمپنی کے امور میں رکاو ٹ پیدا ہورہی ہے۔سوئی ناردرن بورڈ آف ڈائریکٹرز کمپنی میں مزید شفافیت کا خواہاں ہے جس کیلئے مختلف اصلاحات کا آغاز بھی کیا جا چکا ہے جن پر قائم مقام مینیجنگ ڈائریکٹر متحرک انداز میں عملدرآمد کروارہے ہیں۔درج بالا حقائق کی روشنی میں سوئی ناردرن گیس کی جانب سے واضح طور پر پیغام دیا جاتا ہے کہ قائم مقام مینیجنگ ڈائر یکٹر کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور مذموم مقاصد کے تحت جاری مہم کا مقصد بورڈ اور اس کی کمیٹیز کی شروع کردہ ان اصلاحات کو سبوتاژ کرنا ہے جن پر قائم مقام مینیجنگ ڈائریکٹر عملدرآمد کروارہے ہیں۔

سوئی ناردرن گیس

مزید :

صفحہ آخر -