قادیانی آئین کو تسلیم نہیں کرتے، اقلیتی کمیشن میں شمولیت حکومت کو لے ڈوبے گی

  قادیانی آئین کو تسلیم نہیں کرتے، اقلیتی کمیشن میں شمولیت حکومت کو لے ڈوبے ...

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)13 دینی جماعتی اتحادتحفظ ختم نبوت الائنس میں شامل جماعتوں جے یو آئی،جے یوپی، ورلڈپاسبان ختم نبوت،جماعت اسلامی،مسلم لیگ (علماؤمشائخ)، جمعیت اہلحدیث، جمعیت اہلسنت، تحریک ملت جعفریہ، چاروں مسالک علماء بورڈ،مجلس احرار اسلام،متحدہ علماء کونسل،جمعیت مشائخ پاکستان اورعالمی تحریک دعوت الحق کے رہنماؤں مولاناپیرسلمان منیر،حافظ حسین احمد،پیراعجازاحمدہاشمی،ڈاکٹرفریداحمدپراچہ علامہ محمدممتازاعوان،پیرسیدولی اللہ شاہ بخاری حافظ شعیب الرحمن قاسمی،پیرجمشیدنورانی،مولانا محمدنعیم بادشاہ،پیرطارق محمودنقشبندی،مولانامحمدیوسف احرار،مولانامحمدحنیف حقانی،مولانا محمداسلم ندیم اورمولانا قاری محمدمنسوب رحیمی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں قومی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کوشامل کرنے کے بارے حکومتی فیصلہ یکسرمستردکردیااورکہاکہ قادیانی آئین پاکستان کے کھلم کھلاباغی ہیں قادیانیوں نے آج تک اپنے غیرمسلم اقلیت سے متعلق آئینی حیثیت کوتسلیم نہیں کیاجوسراسرآئین پاکستان سے غداری ہے لہٰذاحکومت قومی اقلیتی کمیشن میں شمولیت سے قبل قادیانیوں کواپنی غیرمسلم اقلیت کے آئینی فیصلہ کوتسلیم کرائے بصورت دیگرقادیانیوں کے اقلیتی کمیشن میں شمولیت سراسربدترین قادیانیت نوازی ہوگی جوسلیکٹڈعمران نیازی حکومت کولے ڈوبے گی دینی رہنماؤں نے کہاکہ آئین پاکستان سے مسلسل غداری کرنے پرقادیانی جماعت کو خلاف قانون قراردے اورانکی تمام تراسلام وپاکستان دشمن سرگرمیوں پرقدغن لگائے بصورت دیگرپوراملک سراپااحتجاج بن جائے گا۔ ددریں اثناعالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر حکومت کا قادیانیوں کو نیشنل کمیشن برائے اقلیت میں شامل کرنے کے خلاف علماء کرام کا ایک ہنگامی اجلاس جامع مسجد مولانا احمدی علی لاہوری اچھرہ لاہور میں مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے نائب امیر پیرمیاں محمدرضوان نفیس کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمن ثانی، سیکرٹری جنرل لاہور مولانا علیم الدین شاکر، قاری جمیل الرحمن اختر، جے یوآئی کے رہنما مولانا حافظ محمداشرف گجر، مبلغ ختم نبوت لاہور مولانا عبدالنعیم، مولانا خالد محمود، قاری ظہورالحق،انجینئر حافظ نعیم لدین شاکر، مفتی محمدعثمان ریاض، جمعیت علماء اسلام اقبال ٹاؤن کے رہنما مولانا عبدالرحمن، مولانا قاضی عبدالودود، مولانا محمدحنیف صائم، ختم نبوت لائرز فورم کے رہنما محمدطیب قریشی ایڈووکیٹ، مولانا محمدآصف، جماعت اسلامی کے مولانا عمریونس، قاری عبدالرحمن، مولانا زبیرجمیل، مولانا عبیدالرحمن معاویہ، مولانا اسامہ زبیر، مولانا طلحہ افضل، حافظ امیرحمزہ سمیت کئی علماء کرام اور کارکنان ختم نبوت نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کہا کہ نیشنل کمیشن فار مینارٹیز میں قادیانیوں کو شامل کرنے کے فیصلے کو پوری ملت اسلامیہ نے بیک زباں ہو کر مسترد کردیا ہے۔قادیانیوں کو پذیرائی دینا آئین پاکستان کیساتھ کھلواڑ ہے جو کسی طورپر قابل قبول نہیں۔قادیانی جب تک آئین پاکستان کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو اقلیت تسلیم نہیں کرتے اس وقت تک انہیں کوئی سرکاری پلیٹ فارم مہیا کرنا افسوس ناک ہے۔قادیانی جب تک آئین پاکستان کو تسلیم کرتے ہوئے خود کو اعلانیہ طور پر غیرمسلم اقلیت تسلیم نہیں کرتے اس وقت تک انہیں کسی قسم کا سرکاری منصب یا سرکاری پلیٹ فارم پر نمائندگی دینا پاکستانی قوم کے لیے کسی طور پر قابل قبول نہیں -قادیانیوں کی آئینی مذہبی سماجی اور معاشرتی حیثیت کے تعین کے لیے طویل جدوجہد کی گئی۔ علماء نے متنبہ کیا کہ آئے روز قادیانیوں کے بارے میں نئے نئے شوشے چھوڑنے کا سلسلہ اب بند ہوجانا چاہیے ورنہ اس کے ہر اعتبار سے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔علماء کرام نے پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنما چوہدری شجاعت،سپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی،رکن پنجاب اسمبلی حافظ عمار یاسرودیگر کو مؤثرآواز اٹھانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ علماء کرام نے وفاقی مذہبی امورپیرنورالحق قادری کے وضاحتی بیان کا خیر مقدم کیا اور مطالبہ کیا کہ تحریری طورپر اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کو شامل نہ کرنے کی شورٹی دی جائے اور جب تک تحریری طورپر ہمیں مطمئن نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔حکومت اہلیان اسلام کو مطمئن کرنے کے لیے واضح اور دوٹوک موقف واضح کرے وفاقی مذہبی امور کے مبہم بیان سے مسلمانوں میں مزید ہیجان کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے حکومت کھلم کھلا تحریری طورپرنوٹیفکیشن کے ذریعے علماء اور دینی قائدین کو مطمئن کرے۔مرکزی علماء کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، مرکزی وائس چیئر مین مولانا عبید الرحمن ضیاء،مولانا یار محمد عابد، پیر جی خالد محمود قاسمی،حافظ محمد شعبان صدیقی،حافظ شعیب الرحمن قاسمی،مولانا عبد المنان عثمانی، مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا محمد شاہ نواز فاروقی،مولانا شبیر احمد عثمانی،مولانا حافظ محمد امجد،مولانا خالد محمود سرفرازی،مفتی حفظ الرحمن بنوری،حافظ محمد طیب قاسمی، علامہ حفیظ الرحمن کشمیری، میاں محمد طیب ایڈووکیٹ نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر وفاقی کابینہ کی طرف سے نیشنل کمیشن برائے اقلیت میں قادیانیوں کو بطور غیر مسلم شامل کرنیکی تجویزپر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قادیانی اس ملک کے آئین اور دستور کے باغی ہیں۔ جنہوں نے آج تک آئین پاکستان کی رو سے خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کیا ہے۔ ایسے گروہ کو حکومتی سطح پر نمائندگی دینا قابل تشویش ہے۔ حکومت علماء کرام اور مذہبی طبقات کے تحفظات کو دور کرنے کیلئے مذہبی امور ڈویژن کی جانب سے جمع کروائی گئی ”نیشنل کمیشن برائے اقلیت کی تشکیل نو“ کی سمری پر نظر ثانی کرے۔مرکزی علماء کونسل پاکستان قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی تجویز کو مسترد کرتی ہے۔

رد عمل

مزید :

صفحہ آخر -