قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنا آئین سے غداری ہوگی: مولانا عبد الغفور حیدری

  قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنا آئین سے غداری ہوگی: مولانا عبد ...

  

قلات(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنا آئین پاکستان سے غداری ہوگی مولا نا فضل الرحمن ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ عمران یہودی ایجنٹ اور قادیانیوں کیلئے سہولت کار ہے وفاقی مذہبی امور کے وزیر مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں جب کہ کابینہ نے فیصلے کی منظوری دے دی ہے وفاقی وزیر اطلاعات نے خود کہا کہ ہم ناموس رسالت کی آئینی ترمیم کو واپس لے رہے ہیں۔کرونا وائرس کو ایک عالمی وبا سمجھ کر غیر مشروط طور پر حکومت کیساتھ یکجہتی منایا لیکن حکومت کی رویہ کی وجہ سے آج وہ قومی یکجہتی نظر نہیں آرہی۔کبھی آٹھارویں ترمیم ختم کرنیاور این ایف سی ایوارڈ کو ختم کرنے اور کبھی ختم نبوت کے منکرین کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرکے قوم میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے حکومت اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیئے غیر معروف اگر فیصلے کررہی ہیں اگرحکومت نے اپنی روش نہ بدلی توہم لاک ڈاؤن کو توڑ کر سڑکوں پر نکلیں گے لہذا بعد اخراجی بسیار فیصلے پہ نظرثانی کی جائے ان خیالات کااظہاہرانہوں نے مرکز اسلامی قلات میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنا آئین پاکستان سے غداری ہوگی کیونکہ جب سے قادیانیوں کو پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دے دیا ہے اس وقت سے لیکر آج تک قادیانیوں نے آئین کی اس ترمیم کو تسلیم نہیں کیا ہے جب کہ آئین بڑا واضح ہے کہ قادیانی نہ صرف غیر مسلم ہے بلکہ وہ کسی بھی کلیدی آسامی پر نہیں آسکتے۔انکی عبادت گاہوں کو مسجد نہیں کہا جائیگا وہ اپنے مذہب کا تبلیغ نہیں کرسکتے لیکن قادیانی ختم نبوت کا انکار کرتے ہوئے مسلسل آئین سے غداری کے مرتکب ہورہے ہیں لہذا قادیانیوں کو کسی اہم منصب پہ فائز کرنا کسی اقلیتی کمیشن کا ممبر بنانا یہ نہ صرف آئین سے غداری ہوگی بلکہ تمام امت مسلمہ کی دل آزاری ہوگی۔مولا نا فضل الرحمن ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ عمران یہودی ایجنٹ اور قادیانیوں کیلئے سہولت کار ہے حکومت کی تشکیل کے دوران ایک کٹر قادیانی کوا قتصادی کمیشن میں شامل کیا گیا جس میں جمعیت علمائے اسلام سمیت تمام مکاتب فکر کے علماء نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ملک بھر میں جلسے ہوئے تب جاکر حکومت پسپا ہوئی۔کرونا وائرس کو ایک عالمی وبا سمجھ کر غیر مشروط طور پر حکومت کیساتھ یکجہتی منایا لیکن حکومت کی رویہ کی وجہ سے آج وہ قومی یکجہتی نظر نہیں آرہی۔کبھی آٹھارویں ترمیم ختم کرنیاور این ایف سی ایوارڈ کو ختم کرنے اور کبھی ختم نبوت کے منکرین کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرکے قوم میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

عبداغفور حیدری

مزید :

صفحہ آخر -