ہسپتالوں کے فضلے سے کورونا پھیلنے کے خطرات پیدا ہو گئے

ہسپتالوں کے فضلے سے کورونا پھیلنے کے خطرات پیدا ہو گئے

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کورونا کے مریضوں سے بھرے اسپتالوں کے فضلے نے کورونا پھیلاؤ کے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ملک کے صرف گنتی کے اسپتال ہی استعمال شدہ مختلف چیزوں کے فضلے کو انتہائی درجہ حرارت پر تلف کرنے کی صلاحیت سے لیس ہیں جب کہ بیشتر اسپتال فضلے کو روایتی انداز میں ہی ٹھکانے لگا رہے ہیں۔ کراچی کے جناح اور سول اسپتال کے علاوہ بیشتر اسپتالوں کا فضلہ گٹر باغیچے میں پھینکا جارہا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسلام آباد کا فضلہ بھی کھلی فضا میں موجود ہے جس کے 50 فٹ کے فاصلے پر پرائمری اسکول بنا ہوا ہے۔ لاہور کے میو اسپتال میں کچرا تلف کر نے کی مشین 'انسینریٹر' موجو ہے جب کہ جناح، گنگا رام، اور لیڈی ویلڈن اسپتال اپنا فضلہ پرائیوٹ کمپنی کو دینے پر مجبور ہیں۔دوسری جانب کوئٹہ کے سول اسپتال میں کوئی انسینریٹر نہیں اور بولان اسپتال کا انسینریٹر فعال نہیں ہے۔

کورونا پھیلنے

مزید :

صفحہ آخر -