احساس کیش سینٹرز پر بینرز لگا کر جیالا فنڈ سیل قائم کر کے بھتہ لیا جا رہا ہے: حلیم عادل شیخ

      احساس کیش سینٹرز پر بینرز لگا کر جیالا فنڈ سیل قائم کر کے بھتہ لیا جا رہا ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدراورسندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈرحلیم عادل شیخ نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ اور نااہل مشیر اعلیٰ سیف آئسولیشن میں ہیں، لگتا ہے نااہل مشیر اعلیٰ نے ہی وزیراعلیٰ بننا ہے، پی پی کا سارا عمل ڈس انفارمیشن کے تحت ہورہا ہے، گذشتہ روز دو چلے ہوئے کارتوس بات کررہے ہیں، ایک نااہل ہوا لاڑکانہ والا کچھ چھپانے پر،رمضان شریف میں بھی ان کی آنکھیں اوپر تھی دوسری حیدرآباد کے نیند سے اٹھ کر بولنا شروع ہوجاتے ہیں، ان دونوں کی نوکری اسی ہاکنے پر چلتی ہے، ان لوگوں کو اپنے الفاظ واپس لینے چاہیے، گورنر صاحب سے جو بات منسلک ہے وہ جھوٹ ہے، گورنر نے اگر ایسی کوئی بات کی یے تو سامنے لائی جائے، گورنر نے کہا کہ اس کا ذمہ دار میں ہوں، کھوڑو اور چانڈیو صاحب آپ کو شرم آنی چاہیے تھی۔ایم این اے آفتاب صدیقی کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہاکہ صحافی یہاں موجود ہیں بتائیں یہ بیان کس نے دیا کہاں سے جاری ہوا، وزیر اعظم ایک عظیم وزیراعظم ہے جس کو پوری دنیا لیڈر مانتی ہے وزیر اعظم نے 12 سو ارب کا پیکیج دیا 75 ارب کا مزدوروں کو مزید پیکیج دیا گیا، سپتالوں کو سامان بھی وفاق نے بھیجے، بلاول اپنی میڈیا سے بات کرو بی بی سی بات کرکے پاکستان کو بدنام کررہے ہیں، سندھ کی عوام بھی دیکھے آپ نے سندھ کے لیے کیا کردیا ہے آپ جائیں سندھ میں جاکر پوچھیں کس کے گھر میں راشن پہچایا، وزیر اعلیٰ سندھ جیسا ایکٹر کہیں نہیں دیکھا پی پی کے ایم پی ایز آج یہاں سے بھاگ گئے ہیں، سندھ حکومت سے زیادہ راشن تو آفتاب صدیقی نے بانٹا ہے، فوٹو سیشن کے لیے جو راشن دیا وہ بھی ایکسپائر، آج کل نادر شاہی فرمان کا دور چل رہا ہے، ڈبل سواری پر پابندی لگادی گئی پولیس، صحافی عوام سب پریشان، خواتین اور مریضوں پر بھی پابندی لگادی، اب آرڈیننس لارہے ہیں بجلی اور گیس وہ تو وفاق کے محکمے ہیں، آپ نے اپنی طرف سے کیا کیا ہے، کرائے داروں کو چھوٹ دے دیں پر مالک مکان کو سبسڈی نہیں دی، فیکٹری والوں کو کوئی فائدہ دیا، مراد علی شاہ یہ آرڈیننس شر پھیلانے کے لیے لارہے ہیں، ایف آئی اے کی تحقیقات میں بڑی خبریں آنے والی ہیں، سندھ حکومت نے معیشت کو لاک ڈاؤن کردیا ہے، 20 لاکھ خاندانوں کو راشن دینے کا اعلان ہوا لیکن 1500 لوگ ہمیں دکھا دیں، راشن کا ڈرامہ بے نقاب ہوچکا ہے غریب عوام آج بھی بھوکی پیاسی ہے، جب لاک ڈاؤن ہوا ان لوگوں نے ہم سے وعدہ کیا کہ کوئی مریض کال کرے گا ہم گھر جاکر اس کا علاج کریں گے،مگر آج تک ایسا نہیں ہوا۔ 18 ویں ترمیم کے تحفے میں ملنے ہسپتال ہیں، جناح ہسپتال کی چھت سے ایک شخص چھلانگ لگا لیتا ہے، لاشیں اور مریض جناح میں ایک ساتھ بند ہیں، اس لیے لوگ چھت سے کود رہے ہیں، پی پی ہماری حکومت اس ملک اور معیشت کو تباہ کرنا چاہتی ہے، کراچی کو جام کرکے پاکستان کو جام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آن لائن بزنس کا ڈرامہ رچایا جارہا ہے، تاجر پریشان بیٹھے ہیں سندھ حکومت سننے کے لیے تیار نہیں، ہزاروں نوجوانوں کا اس پریشانی میں مستقبل تباہ کیا جارہا ہے، اس شہر میں پی پی نے لیاری گینگ وار بنائی، تاجروں سے لیکر شہریوں کو جیل میں بند کیا گیا، سندھ حکومت نے آؤٹ آف بجٹ ایک پیسہ بھی نہیں خرچ کیا، ہماری تنخواہوں کے پیسے ہی خرچ کیے جارہے ہیں، عوام کا سندھ حکومت سے اعتماد اٹھ چکا ہے یہ لوگ تو صابن پر بھی فوٹو بنواتے ہیں، سندھ حکومت بتائے کہ سینٹرز الاٹ کرنا سوشل ڈسٹینس کرانا لائین لگوانا ڈی سی کی ذمہ داری نہیں؟ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے پیسے دیے اور بلاول کی سندھ حکومت نے دیا کورونا،پی پی نے اپنے بینر لگاکر جیالے کھڑے کر کے 12 ہزار میں بھتالیا گیا، سینٹرز پر جیالا فنڈ سیل قائم کیا گیا، عمران اسماعیل گورنر ہاؤس میں بیٹھ سکتے تھے، انہوں نے سندھ کی بیٹیوں بزرگوں کو لوٹتے دیکھا تو وہ باہر نکلے،انہوں نے سینٹرز پر جیالوں کی بھتہ خوری کو روکا، سلام عمران اسماعیل سلام عمران خان، صدر کے دورے کے بارے میں ہمیں نہیں پتہ وہ کیوں کینسل ہوا، فیڈرل حکومت نے عوام کو رلیف دیا بل معاف پورے پاکستان کے کیے ہیں،ہر طبقے کو رلیف وفاقی حکومت نے دیا ہے، سوئیڈین ایک ملک ہے اس نے کوئی لاک ڈاؤن نہیں کیا، کئی ملکوں نے لاک ڈاؤن ختم کرکے اپنی سرگرمیاں شروع کردی ہیں، یہاں صرف سندھ حکومت پاکستان کے خلاف سازش کررہی ہے، پاکستان پر اللہ کا احسان ہے ورنہ سندھ حکومت نہ کوئی قصر نہیں چھوڑی، وزیر اعلیٰ جھوٹ بول کر خوف پہیلا رہے ہیں، اصل حقائق دکھائیں بھوک اور افلاس کا بھی تو بتائیں، سندھ حکومت کے جو ڈسیشن میکر ہیں وہ سب لاعلم ہیں، 18 ویں ترمیم ایک اچھا عمل ہے لیکن وفاق کو کمزور کرکے صوبے بھی نہیں چل سکتے، وفاق ان کو پیسے دیتا رہا، اس صورتحال میں ایک صوبہ اپنی الگ لکیر بناکر کھڑا ہوگیا،18 ویں ترمیم نادر شاہی حکم تھا اس کو اصلی شکل میں آنا لازم ہے، اسے کوئی ختم نہیں کررہا ہے لیکن یہ درست ہونا چاہیے، ایم این اے آفتاب صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا سندھ کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو فورا پی پی سندھ کارڈ کھیلنا شروع کردیتی ہیگورنر سندھ سندھ کی عوام کے ساتھ ہمدردی کے لیے گئی تھی، پی ٹی آئی نثار کھڑو کے بیان کی مذمت کرتی ہے،پرائم منسٹر کو دنیا جانتی ہے وہ مسلم امہ کے لیڈر ہیں،لاک ڈاؤن کے حوالے سے ہمارے خدشات ہیں، سندھ حکومت نے ابھی تک راشن نہیں دیا،آمریکہ میں لوگ مررہے ہیں مگر وہاں ایسا لاک ڈاؤن نہیں، یہاں صحت کی کوئی سہولت نہیں اور او پی ڈی بند کردی گئی، سندھ حکومت کو کورنٹائن سینٹر عام اسپتال سے نکال کر باہر لیکر جانا چاہیے، تاجر برادری کے ساتھ ہونے والے ظلم کی مذمت کرتے ہیں، کراچی کی معیشت کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی،میں نے اپنے حلقے کے لیے 37000 راشن مہیا کرنے کا پلان کیا،راشن کے لیے ہم ایک پروگرام لا رہے ہیں، راشن کی صورتحال جاری رہ سکتی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -