لاک ڈاؤن سے ریٹیلر طبقہ بری طرح متاثر ہوگیا، میاں نعمان کبیر

لاک ڈاؤن سے ریٹیلر طبقہ بری طرح متاثر ہوگیا، میاں نعمان کبیر

  

 لاہور (لیڈی رپورٹر)چیئرمین پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ(پیاف) میاں نعمان کبیر نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن اور اس سے پیدا ہونیوالی صورتحال کی وجہ سے ریٹیل سیکٹر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ریٹیل سیکٹر جو ملکی معیشت کا اہم ستون ہے اور جو کہ اپنی انڈسٹری اور دکانوں سے ملک کے تقریبا دس لاکھ خاندانوں کو روز گار مہیا کر رہے ہیں، حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے برے حالات سے دوچار ہیں اگر حکومت نے ریٹیل سیکٹر کو فوری ریلیف نہ دیا تو بہت بڑا معاشی اور سماجی المیہ ہو سکتا ہے۔ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق موجودہ صورتحال میں اگر ریٹیلرز کو ۱۰ مئی سے کھول دیا جاتا ہے تو اسوقت تک اس سیکٹر کو ۹۰۰ ارب کا نقصان ہو چکا ہو گا اور اسکے علاوہ ۱۵۰۰ ارب کا سامان گوداموں میں پڑا ہے اور تقریبا ۵۰۰ ارب کا سامان گو داموں میں پڑا ہے۔ لاک ڈاؤن کیوجہ سے ریٹیل سیکٹر ابتک بھاری نقصان اٹھا چکا ہے، سرمایہ کی شدید قلت ہے اور ریٹیل سیکٹر یا مقامی کاروباری اداروں کے لئے کسی بھی قسم کا کوئی اقدام نہیں کیا۔مذکورہ حالات میں ریٹیل کی دکانیں اور دفاتر خالی ہونے اور کاروبار مختصر ہونے سے بہت سی ملازمتیں بھی ختم ہو جائیں گی جس سے بڑے پیمانے پر بیروزگاری کا خدشہ ہے۔پیاف کے چیئرمین میاں نعمان کبیر نے سینئر وائس چیئرمین ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی کے ساتھ مشترکہ بیان میں حکومت کی طرف سے کورونا وائرس سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مختلف مالیاتی پیکجوں کے اعلان پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت میں اس پیکج پر عملدرآمد کسی بھی سرکاری ادارے یا محکمہ میں نظر نہیں آ رہا۔متعلقہ سرکاری اداروں اور بینکوں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی طرف سے دی گئی مراعات یا چھوٹ کے سلسلے میں کوئی ہدایت نہیں ہے جو انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔چیئرمین پیاف میاں نعمان کبیر نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریٹیل سیکٹر کی بحالی کے لئے فوری طور پر حکومتی گارنٹی کے ساتھ بلاسود سرمایہ فراہم کیا جائے تاکہ ریٹیلرز دوبارہ سے اپنا کاروبار شروع کرنے کیساتھ ملک کو بیروزگاری کے طوفان سے بچانے میں بھرپور کردار ادا کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ محکموں کی جانب سے معمول کے مطابق سماجی تحفظ اور ای او بی آئی کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جارہا ہے، کیوں کہ حکومت نے سوشل سیکیورٹی چینل کے ذریعے کارکنوں کی تنخواہ کی مالی اعانت کے وعدے پر ابھی تک عمل نہیں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اعلان کردہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی واپسی کی ادائیگی کا بھی یہی حال ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل پوزیشن یہ ہے کہ حکومت نے معاشرے کے غریب طبقوں کے لئے 12000 روپے کے پیکیج کا اعلان کرنے کے علاوہ سود کی شرح کو کم کرکے بڑی صنعتوں کے لئے ریلیف کا اعلان کیا ہے لیکن ایس ایم ای جو حقیقت میں معیشت کی ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، اب بھی کسی ریلیف پیکج کے منتظر ہیں۔وائس چیئرمین جاوید اقبال نے کہا کہ ریٹیلرز اور چھوٹے تاجروں دکانداروں کی حالت انتہائی خراب ہے اور ان کی مالی سلامتی موجودہ بحران میں حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مزید :

کامرس -