کورونا سے آڈٹ کے شعبے پر اثرات مرتب ہوئے ہیں، اے سی سی اے

  کورونا سے آڈٹ کے شعبے پر اثرات مرتب ہوئے ہیں، اے سی سی اے

  

لاہور (پ ر)دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے)نے ”COVID-19 عالمی سروے: اندرون کاروبار، اثرات اور رد عمل“ کے عنوان سے ایک سروے رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق COVID-19 کے آڈٹ کے پیشے اور عوامی پیشوں سے تعلق رکھنے والے اہم اداروں پر نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اِن اثرات میں جہاں آڈٹ کے پروسیس کا قدرتی انداز کا تذکرہ بھی شامل ہے وہیں آڈٹ کی گئی فرم کے ساتھ براہ راست باہمی عمل اور مصروفیت کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ سروے کے شرکاء کی بڑی تعداد (53%) کے مطابق اْنہیں کلائنٹ کو فراہم کی جانے والی سروس کا کام مکمل کرنے میں دباؤکا سامنا ہے جبکہ ایک تہائی سے زائد (36%) نے کہا کہ اْنہیں رپورٹنگ ڈیڈ لائنزتک کام مکمل کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جسے دیگرعمل داریوں میں بھی تسلیم کیا گیا ہے اور وہاں رپورٹنگ ڈیڈ لائنز میں لچک رکھی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک چوتھائی کو آڈٹ کے لیے شہادتیں اکھٹا کرنے میں دشوریوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے جبکہ27فیصد کے مطابق اثاثوں کی قیمت کا تعین کرنے، واجبات کی ادائیگی اور موجودہ خدشات کے حوالے سے آڈٹ سے تعلق رکھنے والے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔اگرچہ ڈیجیٹل کے میدان میں ہونے والی پیش رفت اِس بات پر مسلسل اثر انداز ہو رہی ہے کہ COVID-19 کے بحران سے متاثر ہونے والی متعدد فرموں کا آڈٹ کس طرح کیا جائے،شہادتیں کس طرح اکھٹا کی جائیں اور رپورٹنگ کا طریقہ کار کیا ہونا چاہے اور یہ بھی کہ یہ وباء ایک عام کلائنٹ کے ساتھ سرگرمیوں میں بھی سسٹم کے حوالے سے دھچکاپہنچا رہی ہے۔اس بارے میں اے سی سی اے کے ڈائریکٹر پروفیشنل انسائٹس، مائیک سفیلڈ (Mike Suffield) کہتے ہیں:”آڈٹ کا کام مکمل کرنے سے لے کر شہادتوں کے حصول میں درپیش مسائل سے لے کر موجودہ تشویش تک، مثلاً مختلف شعبوں میں انتہائی نازک فیصلوں تک، آڈیٹرز کو اِس بات کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

کہ آڈیٹنگ کی عمومی سرگرمیاں کس طرح انجام دی جائیں۔ آگے بھی دشواریاں ہیں لیکن جوابدہندگان نے پید آنے والے مواقع کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔“بیکر ٹلی(Baker Tilly) ملائشیا کے مینجنگ پارٹنر-آڈٹ اینڈ ایشورنس، اے سی سی اے کے فیلو اور اے سی سی اے آڈٹ اینڈ ایشورنس گلوبل فورم کے چیئر،ڈیٹاؤ لاک پنگ کوَاَن (Dato' Lock Peng Kuan) نے کہا:”کسی بھی نوعیت کے بحران سے نمٹنے میں اہم عنصر ادارے کے اندر، اور کلائنٹس کے ساتھ، مضبوط اعتماد برقرار رکھنا ہے اور اسے ہی اوّلیت حاصل ہے۔“یہ بات انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ جواب دینے والوں نے، وباء سے نمٹنے کے دوران، صحت اور تحفظ کو اپنے اقدامات میں سب سے اوپر رکھا ہے۔“ ڈیٹاؤ لاک پنگ کوان کے مطابق:”یہ بات بھی نہایت حوصلہ افزا ہے کہ جواب دینے والوں نے، وباء سے نمٹنے کے دوران، صحت اور تحفظ کا اپنے اقدامات میں سب سے اوپر رکھا ہے۔“اس عالمی سروے میں جو مثبت بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ سروے میں شامل 1,857 جواب دہندگان نے، جن میں عوامی پیشوں اور آڈٹ سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادارے شامل تھے، آڈٹ کے عمل کے ذریعے آڈٹ کیے گئے اداروں کی قدر اور معلومات میں اضافہ کے لیے پہلے ہی ایسے اہم مواقع کی نشاندہی کر چکے تھے۔تمام شعبوں میں، اور تمام کاروباری اداروں میں، پیش آنے والے خطرات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مائیک سفیلڈ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ”اِن فور ی اثرات کی گونج مستقبل میں بھی سنائی دے گی لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم کاروبار کے بنیادی اصولوں سے انحراف نہ کریں۔اگرچہ COVID-19 کی وجہ سے بڑے اور چھوٹے، تمام کاروباری اداروں، کو اَب بھی سائبر سیکیوریٹی جیسے موجودہ خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنا ہے کہ کام کرنے کے مختلف طریقے اور حکمت عملی پر مشتمل رد عمل اِن خطرات میں تبدیلی لا سکتے ہیں بلکہ بالکل نئے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔یہ بات یقینی بنانا لازمی ہے کہ اِن خطرات کا بندوبست کیا جا رہا ہے اور اِن میں خطرات بھی شامل ہیں جن کا اِس بحران سے نمٹنے کے لیے خصوصی طور پر بندوبست کرنا ضروری ہے اور وہ خطرات بھی شامل ہیں جن کا عمومی طور پر بندوبست کرنا ضروری ہے۔

مزید :

کامرس -